عادل آباد میں نوجوان کی خودکشی پر دلت تنظیموں کا احتجاج، ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ رِمس ہاسپٹل میں احتجاج، ایم ایل اے پائل شنکر نے متاثرہ خاندان کو 50 لاکھ روپے معاوضہ اور سرکاری ملازمت فراہم کرنے کی اپیل کی

عادل آباد میں نوجوان کی خودکشی پر دلت تنظیموں کا احتجاج، ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ

رِمس ہاسپٹل میں احتجاج، ایم ایل اے پائل شنکر نے متاثرہ خاندان کو 50 لاکھ روپے معاوضہ اور سرکاری ملازمت فراہم کرنے کی اپیل کی

عادل آباد،۔29/اکتوبر (تلنگانہ وائس)عادل آباد ضلع مستقر کے محلہ ہنڈیکیپ کالونی سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ نوجوان راہول کی خودکشی کے واقعے پر رِمس ہاسپٹل میں دلت تنظیموں کے قائدین نے احتجاج کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

 

احتجاجیوں نے الزام عائد کیا کہ رِمس ہاسپٹل میں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت اور پولیس کی جانب سے سرزنش کے بعد نوجوان ذہنی دباؤ کا شکار ہوگیا، جس کے نتیجے میں اس نے انتہائی قدم اٹھایا۔ تاہم، ان الزامات کی تحقیقات کے نتائج سامنے آنا باقی ہیں۔

Advertising

تفصیلات کے مطابق، راہول چہارشنبہ کے روز بچھو کے ڈنک کا علاج کروانے کے لیے رِمس ہاسپٹل پہنچا تھا۔ الزام ہے کہ علاج کے دوران طبی عملے کے مبینہ غیر ذمہ دارانہ رویے پر اس نے ویڈیو بنائی، جس کے بعد ہاسپٹل کے عملے نے پولیس کو اطلاع دی۔

بتایا جاتا ہے کہ پولیس کی جانب سے سرزنش کیے جانے کے بعد راہول دلبرداشتہ ہوگیا۔ بعد ازاں اس نے اپنے گھر میں پھانسی لے کر خودکشی کرلی۔واقعے کی اطلاع ملنے پر دلت تنظیموں کے قائدین رِمس ہاسپٹل پہنچے اور احتجاج منظم کیا۔

انہوں نے راہول کی موت کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرتے ہوئے واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔

متوفی کے افراد خاندان نے بھی حکومت اور متعلقہ حکام سے انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی۔صورتحال کی اطلاع ملنے پر ایڈیشنل کلکٹر راجیشور، رکن اسمبلی پائل شنکر، ایس سی ویلفیئر آفیسر سنیتا کماری، رِمس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جئے سنگھ راتھوڑ اور ڈی ایس پی جیون ریڈی احتجاج کے مقام پر پہنچے۔

انہوں نے متاثرہ خاندان سے ملاقات کرتے ہوئے واقعے کی تفصیلات حاصل کیں اور احتجاجیوں کے مطالبات سے واقفیت حاصل کی۔

اس موقع پر ڈی ایس پی جیون ریڈی نے بتایا کہ نوجوان کی خودکشی کے معاملے میں شکایت موصول ہوئی ہے اور مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کال ڈیٹا سمیت دیگر شواہد کی بنیاد پر معاملے کی جانچ کی جارہی ہے۔

تحقیقات کے دوران واقعے کے ذمہ داروں کی شناخت کرکے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دلایا کہ معاملے کی جانچ سنجیدگی سے کرتے ہوئے انصاف کی فراہمی کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

رکن اسمبلی پائل شنکر نے راہول کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان ایک نجی کمپنی میں ملازمت کرکے اپنے خاندان کی کفالت کررہا تھا۔ اس کی اچانک موت سے خاندان شدید مشکلات سے دوچار ہوگیا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی جامع تحقیقات کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور تحقیقات کے نام پر کسی قسم کی تاخیر نہ کی جائے۔پائل شنکر نے حکومت سے اپیل کی کہ متاثرہ خاندان کو فوری طور پر سرکاری ملازمت فراہم کرنے کے ساتھ 50 لاکھ روپے معاوضہ بھی دیا جائے۔ انہوں نے خاندان کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کا یقین دلایا۔راہول کی موت کے بعد رِمس ہاسپٹل میں ہونے والا احتجاج طبی خدمات اور پولیس کے مبینہ رویے سے متعلق سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔

اب تمام نظریں جاری تحقیقات پر مرکوز ہیں، جن کے ذریعے واقعے کے اصل حقائق سامنے آنے اور متاثرہ خاندان کو انصاف ملنے کی امید کی جارہی ہے۔