رمس ایس این سی یو واقعہ: متاثرہ نومولود بچوں کی صحت کی مسلسل نگرانی
ڈسچارج ہونے والے بچوں کے لیے خصوصی فالو اَپ جاری، رمس میں 34 بستروں پر مشتمل ایم این آئی سی یو خدمات دستیاب ۔کلکٹر
عادل آباد، یکم/اکتوبر(تلنگانہ وائس)عادل آباد رمس میں پیش آئے ایس این سی یو واقعہ کے بعد متاثرہ نومولود بچوں کی صحت کی مسلسل نگرانی کی جارہی ہے اور انہیں ضرورت کے مطابق طبی خدمات فراہم کی جارہی ہیں۔ یہ بات ضلع کلکٹر راجَرشی شاہ نے ایک بیان میں کہی۔
کلکٹر نے بتایا کہ واقعہ کے بعد مجموعی طور پر 27 نومولود بچوں کی نشاندہی کی گئی، جنہیں ان کی صحت کی صورتحال کے مطابق بہتر علاج کے لیے رمس عادل آباد کے علاوہ حیدرآباد کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ ان میں سے 5 بچوں کی موت واقع ہوئی، جبکہ 13 بچے علاج کے بعد ڈسچارج ہوچکے ہیں۔ فی الحال 8 بچے حیدرآباد کے مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، جبکہ ایک بچہ ریمس عادل آباد میں زیر علاج ہے۔
Advertising

حیدرآباد میں زیر علاج بچوں کی صحت فی الحال مستحکم ہے اور انہیں ضروری طبی خدمات فراہم کی جارہی ہیں۔ متعلقہ اسپتالوں کے ساتھ مسلسل رابطہ برقرار رکھتے ہوئے بچوں کی صحت کی صورتحال پر باقاعدگی سے نظر رکھی جارہی ہے۔
Advertising

کلکٹر نے بتایا کہ ڈسچارج ہونے والے 13 بچوں میں 7 کا تعلق مہاراشٹرا اور 6 کا عادل آباد ضلع سے ہے۔ مہاراشٹرا سے تعلق رکھنے والے بچوں کی تفصیلات ناندیڑ ضلع کے محکمہ صحت و طبّی حکام کو فراہم کردی گئی ہیں اور متعلقہ حکام کے ساتھ تال میل کے ذریعے ان کی صحت کا مسلسل فالو اَپ کیا جارہا ہے۔
Advertising

عادل آباد ضلع سے تعلق رکھنے والے 6 بچوں کی صحت کی صورتحال پر متعلقہ طبی حکام، آشا اور اے این ایم عملہ باقاعدگی سے نگرانی کررہا ہے۔ ڈسچارج کے بعد بچوں کو ضروری طبی مشورہ، علاج اور فالو اَپ خدمات فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
نومولود بچوں کو مزید بہتر طبی خدمات فراہم کرنے کے مقصد سے رمس عادل آباد میں 34 بستروں پر مشتمل مدر اینڈ نیوبورن انٹینسیو کیئر یونٹ (MNICU) قائم کرکے خدمات دستیاب کردی گئی ہیں۔
کلکٹر کے مطابق فی الحال ایم این آئی سی یو میں 11 آکسیجن سہولت والے اور 7 بغیر آکسیجن سہولت والے بستروں سمیت 18 بستروں کی سہولت موجود ہے۔ اس کے علاوہ اسٹیپ ڈاؤن یونٹ میں 12 آکسیجن سہولت والے بستر دستیاب ہیں۔
اس طرح فی الحال ایم این آئی سی یو کے 18 اور اسٹیپ ڈاؤن یونٹ کے 12، یعنی مجموعی طور پر 30 بستروں کی گنجائش دستیاب ہے۔ آئندہ مرحلے میں مزید 4 بستر قائم کیے جائیں گے، جس کے بعد مجموعی گنجائش 34 بستروں تک پہنچ جائے گی۔
کلکٹر راجَرشی شاہ نے کہا کہ ایم این آئی سی یو کے ساتھ اسٹیپ ڈاؤن یونٹ کو مضبوط بنانے سے ان نومولود بچوں کو بروقت بہتر علاج فراہم کرنے میں مزید سہولت ہوگی جنہیں خصوصی طبی نگرانی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایس این سی یو واقعہ سے متاثرہ ہر بچے کی صحت کی صورتحال پر حکام مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ زیر علاج بچوں کو ضروری طبی خدمات فراہم کرنے کے لیے متعلقہ اسپتالوں کے ساتھ تال میل جاری ہے، جبکہ ڈسچارج ہونے والے بچوں کے لیے مسلسل طبی فالو اَپ یقینی بنایا جارہا ہے۔ بچوں کے خاندانوں کو ضروری طبی مدد، فالو اَپ خدمات اور دیگر ضروری تعاون فراہم کرتے ہوئے صورتحال کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جارہا ہے۔

