کرپٹو کرنسی کے نام پر 10 کروڑ روپے سے زائد کے مبینہ فراڈ کا انکشاف، آئی ٹی سی گلوبل کے بانی اور شریک بانی گرفتار ۔ ضلع ایس پی اکھل مہاجن کی پریس کانفرنس

کرپٹو کرنسی کے نام پر 10 کروڑ روپے سے زائد کے مبینہ فراڈ کا انکشاف، آئی ٹی سی گلوبل کے بانی اور شریک بانی گرفتار

دو سال میں سرمایہ دوگنا کرنے کا لالچ دے کر سینکڑوں افراد کو نشانہ بنانے کا الزام، تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں تقریباً 500 افراد کے متاثر ہونے کا شبہ

فرضی ویب سائٹ، پونزی اسکیم اور ملٹی لیول مارکیٹنگ کے ذریعہ سرمایہ کاری کا جال بچھانے کا الزام؛ چھ ملزمین کے خلاف مقدمہ درج، اثاثے اور موبائل فون ضبط ۔ ضلع ایس پی اکھل مہاجن کی پریس کانفرنس

 

عادل آباد، 11/ اکتوبر(خضر احمد یافعی/تلنگانہ وائس) کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کے ذریعہ بھاری منافع اور دو سال میں رقم دوگنی کرنے کا لالچ دے کر عوام سے کروڑوں روپے کی مبینہ دھوکہ دہی کے معاملے میں عادل آباد ون ٹاؤن پولیس نے اہم کارروائی کرتے ہوئے آئی ٹی سی گلوبل (ITC Global) کمپنی کے بانی اور شریک بانی کو گرفتار کرلیا۔ ضلع ایس پی اکھل مہاجن آئی پی ایس نے اتوار کو ون ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران اس مبینہ مالی فراڈ کی تفصیلات کا انکشاف کیا۔ پولیس کے مطابق اس معاملے میں 10 کروڑ روپے سے زائد کی دھوکہ دہی کا شبہ ہے، جبکہ تلنگانہ اور آندھرا پردیش سمیت مختلف علاقوں کے تقریباً 500 افراد کے متاثر ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ ایس پی نے بتایا کہ ملزمین نے مبینہ طور پر ایک فرضی ویب سائٹ کے ذریعہ سرمایہ کاری کی اسکیم شروع کی اور پونزی اسکیم و ملٹی لیول مارکیٹنگ کے طریقۂ کار کو استعمال کرتے ہوئے عوام کو سرمایہ کاری کی جانب راغب کیا۔ اس معاملے میں چھ افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، جن میں سے دو اہم ملزمین کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

ایس پی نے بتایا کہ عادل آباد ضلع کے تلامڑگو منڈل کے موضع روئیاڈی سے تعلق رکھنے والے جوواکا نرسملو نے شکایت درج کرائی کہ آئی ٹی سی گلوبل کمپنی کے نمائندوں نے انہیں سرمایہ کاری پر بھاری منافع، دو سال میں رقم دوگنی ہونے اور ’’X4+4 ریٹرنس‘‘ کا لالچ دیا تھا۔ کمپنی کے نمائندوں کے دعوؤں پر بھروسہ کرتے ہوئے نرسملو نے سال 2023 میں ITC 58708 آئی ڈی کے ذریعہ 7 لاکھ 50 ہزار روپے کی سرمایہ کاری کی۔ تاہم، بار بار مطالبہ کرنے کے باوجود انہیں رقم واپس نہیں ملی، جس کے بعد انہوں نے پولیس سے رجوع کیا۔

Advertising

شکایت کی بنیاد پر عادل آباد ون ٹاؤن پولیس نے کرائم نمبر 17/2026 کے تحت آئی پی سی کی دفعات 420 اور 409 کے علاوہ پرائز چٹس اینڈ منی سرکولیشن اسکیمس (بیننگ) ایکٹ کی دفعات 3 اور 4 کے تحت مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کیں۔ پولیس تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ملزمین نے مبینہ طور پر cticlub.org نامی ویب سائٹ تیار کرکے آئی ٹی سی کرپٹو کرنسی کے نام سے سرمایہ کاری کی اسکیم چلائی۔ اس اسکیم کے تحت ایک ہزار روپے سے لے کر تین لاکھ روپے تک کی مختلف سرمایہ کاری کی پیشکش کی گئی اور سرمایہ کاروں کو دو سال میں رقم دوگنی ہونے کا یقین دلایا گیا۔ایس پی کے مطابق ملزمین نے نان ورکنگ پلان اور ورکنگ پلان کے نام سے دو طرح کی اسکیمیں متعارف کروائیں۔

 

نان ورکنگ پلان میں دو سال کے اندر سرمایہ دوگنا کرنے کا وعدہ کیا گیا، جبکہ ورکنگ پلان کے تحت نئے ارکان کو شامل کرنے پر ان کی سرمایہ کاری کے حساب سے 25 فیصد تک کمیشن دینے کی پیشکش کی گئی۔ زیادہ منافع اور کمیشن کی امید میں سرمایہ کاروں کو مزید افراد شامل کرنے کی ترغیب دی جاتی تھی، جس کے ذریعہ مبینہ طور پر مزید رقم جمع کی گئی۔

 

عوام کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے مختلف مقامات پر ہوٹلوں اور لاجس میں اجلاس منعقد کیے گئے، جبکہ زوم میٹنگس اور ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ بھی اسکیم کی تشہیر کی گئی۔ کمپنی کی ساکھ قائم کرنے کے لیے ڈائریاں اور کیلنڈرس بھی تقسیم کیے گئے۔

Advertising

تحقیقات کے مطابق سرمایہ کاری کرنے والوں کو ویب سائٹ پر رجسٹر کیا جاتا تھا اور انہیں آن لائن ایکسچینج یا گوگل پے جیسے ڈیجیٹل ذرائع سے رقم منتقل کرنے کی ہدایت دی جاتی تھی۔ رقم وصول ہونے کے بعد سرمایہ کاروں کی آئی ڈی میں آئی ٹی سی کرپٹو کرنسی جمع ہونے کا اندراج دکھایا جاتا تھا۔ پولیس کا الزام ہے کہ سال 2023 میں ملزمین نے اپنے ایجنٹس کے ذریعہ عادل آباد پہنچ کر دوارکا ہوٹل میں اجلاس منعقد کیے اور مقامی افراد کو اس اسکیم میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دی۔

Advertising

ایس پی کے مطابق عادل آباد ون ٹاؤن پولیس اسٹیشن کے حدود میں اب تک پانچ افراد کی جانب سے کی گئی سرمایہ کاری میں تقریباً 30 لاکھ روپے کے نقصان کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ شکایات میں درج سرمایہ کاری کی تفصیلات کے مطابق:

Advertising

– جوواکا نرسملو: 7 لاکھ 50 ہزار روپے

– چکی گنگادھر: 7 لاکھ 50 ہزار روپے

– اڈی کانتا ریڈی: 6 لاکھ 21 ہزار روپے

ایس پی اکھل مہاجن نے بتایا کہ دیگر متاثرین کی تفصیلات اور اصل مالی نقصان کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ تحقیقات کے مطابق سرمایہ کاروں سے رقم جمع کرنے کے بعد ویب سائٹ بند کردی گئی اور مبینہ طور پر رقم واپس نہیں کی گئی۔ رقم کی واپسی کا مطالبہ کرنے والوں کو مزید کچھ دنوں میں ادائیگی کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے ٹال مٹول کیے جانے کا الزام ہے۔ایس پی کے مطابق US-DX اور Dexa نامی کرپٹو کرنسی پلیٹ فارمس کے ذریعہ بھی سرمایہ کاروں کو راغب کیے جانے کی اطلاعات کی جانچ کی جارہی ہے۔ ان پلیٹ فارمس کی سرگرمیوں، مالی لین دین اور گرفتار ملزمین سے ممکنہ روابط کا پتہ لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایس پی نے گرفتار شدہ ملزمین کی شناخت پولاماراشیٹی رتن راجو (47)، ساکن وشاکھاپٹنم، آندھرا پردیش، جو آئی ٹی سی گلوبل کا بانی بتایا گیا ہے، اور دونڈاپاٹی لکشمن راؤ عرف لازرس (46)، ساکن مغربی گوداوری، آندھرا پردیش، جو کمپنی کا شریک بانی بتایا گیا ہے، کے طور پر کی ہے۔ دیگر ملزمین میں گوپی کرشنا اور عظیم خان کو کمپنی کے نمائندے، جبکہ ورنگل سے تعلق رکھنے والے گاجولا پرمود کمار اور ویمونوری سدھیر کو ایجنٹس بتایا گیا ہے۔ پولیس ان تمام افراد کے کردار کی تحقیقات کررہی ہے۔ایس پی کے مطابق تحقیقات کے دوران ظہیرآباد اور راجمندری سے وابستہ اثاثوں اور موبائل فونوں کو ضبط کیا گیا ہے۔ ضبط شدہ اشیاء اور مالی لین دین کی جانچ کے ذریعہ دیگر ملزمین کے کردار، سرمایہ کاری کی رقم کے استعمال اور ممکنہ طور پر مزید متاثرین کی تفصیلات جمع کی جارہی ہیں۔ضلع ایس پی اکھل مہاجن آئی پی ایس نے عوام کو خبردار کیا کہ کرپٹو کرنسی یا کسی بھی سرمایہ کاری اسکیم کے ذریعہ مختصر مدت میں رقم دوگنی کرنے اور غیر معمولی منافع دینے کے دعوؤں پر آنکھ بند کرکے بھروسہ نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ آن لائن تشہیر، زوم میٹنگس یا ایجنٹس کے وعدوں سے متاثر ہوکر اپنی محنت کی کمائی سرمایہ کاری میں نہ لگائیں۔ کسی بھی اسکیم میں رقم جمع کرنے سے پہلے متعلقہ ادارے کی قانونی حیثیت اور اعتبار کی مکمل جانچ کریں۔ ایس پی نے اپیل کی کہ اس طرح کی مالی دھوکہ دہی کا شکار ہونے والے افراد فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن سے رجوع ہوں۔ آن لائن مالی فراڈ کی صورت میں تاخیر کیے بغیر سائبر کرائم ہیلپ لائن نمبر 1930 پر اطلاع دیں۔ اس پریس کانفرنس میں عادل آباد ڈی ایس پی ایل۔ جیون ریڈی، ون ٹاؤن انسپکٹر بی۔ سنیل کمار، سب انسپکٹرس اشوک اور سنجے سمیت دیگر پولیس اہلکار موجود تھے۔