35 سال تک عوام کی آواز بننے والا صحافی خود علاج کے لیے ترستا رہا، آخر اس کا ذمہ دار کون؟ سینئر اردو صحافی نصیر احمد غیاث کا درد و کرب سے بھرا سوال، صحافیوں کی ہیلتھ انشورنس اسکیم، حکومتوں کی کارکردگی اور سیاسی، سماجی و مذہبی قیادت کی بے حسی پر اٹھائے سنگین سوالات

35 سال تک عوام کی آواز بننے والا صحافی خود علاج کے لیے ترستا رہا، آخر اس کا ذمہ دار کون؟

سینئر اردو صحافی نصیر احمد غیاث کا درد و کرب سے بھرا سوال، صحافیوں کی ہیلتھ انشورنس اسکیم، حکومتوں کی کارکردگی اور سیاسی، سماجی و مذہبی قیادت کی بے حسی پر اٹھائے سنگین سوالات

 

حیدرآباد۔5/نومبر(تلنگانہ وائس)جو صحافی اپنی پوری زندگی عوام کے مسائل، غریبوں کی پریشانیوں، حکمرانوں کی ناکامیوں اور سماج کی تلخ حقیقتوں کو اپنی تحریروں کے ذریعے اجاگر کرتا رہا، زندگی کے آخری ایام میں وہ خود علاج کے لیے مالی وسائل کا محتاج ہو جائے تو اس سے بڑا المیہ کیا ہو سکتا ہے؟ حیدرآباد میں ایک سینئر اردو صحافی عادل احمد خان  کی 56 سال کی عمر میں دورانِ علاج (٢٨/ اکتوبر کی شب)  سرکاری اسپتال میں موت نے نہ صرف صحافی برادری بلکہ حکومت، سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور مذہبی قیادت کی کارکردگی پر بھی کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

File Photo(post)

حیدرآباد کے سینئر صحافی نصیر احمد غیاث نے اس واقعہ پر اپنے گہرے دکھ، رنج اور تکلیف کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پیام میں سیاسی قائدین اور حکمرانوں کو سوالات کے کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جس صحافی نے اپنی زندگی کے 35 سال صحافت کے نام کر دیے، عوامی مسائل کو اجاگر کیا اور معاشرے کی خدمت کی، اگر وہ اپنی بیماری کے وقت مناسب علاج حاصل کرنے سے بھی محروم رہ جائے تو یہ پورے نظام کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔

Advertisment

شاندار تقریبات کا بہترین مرکز—ڈبلیو کنوینشن ہال،اے سی، نان اے سی انکولی روڈ، عادل آباد

اطلاعات کے مطابق، متوفی صحافی کے اہلِ خانہ نے علاج کے لیے دو خانگی اسپتالوں سے بھی رجوع کیا، لیکن مالی مشکلات کے باعث علاج جاری رکھنا ممکن نہیں ہو سکا۔ حتیٰ کہ پرانے شہر کے ایک نسبتاً کم خرچ اسپتال کے اخراجات برداشت کرنا بھی خاندان کے لیے دشوار ثابت ہوا۔ بالآخر صحافی نے سرکاری اسپتال میں دورانِ علاج دم توڑ دیا۔

انا للہ وانا الیہ راجعون

صحافیوں کے نام پر اسکیمیں، مگر ضرورت کے وقت سہارا کہاں؟

تلنگانہ میں سرکاری ملازمین اور صحافیوں کے لیے ہیلتھ انشورنس اسکیم موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ اسکیم واقعی مستحق اور اہل صحافیوں کے لیے مؤثر ثابت ہو رہی ہے؟ اگر کسی صحافی کو بیماری کے وقت کیش لیس علاج کی سہولت حاصل کرنے میں مشکلات پیش آئیں تو اس اسکیم کی افادیت پر سوال اٹھنا فطری ہے۔

کیا حکومت کے پاس اس بات کا کوئی واضح جواب ہے کہ صحافیوں کو علاج کے لیے کن شرائط اور سہولیات کے تحت انشورنس فراہم کیا جا رہا ہے؟ کیا ہر اہل صحافی کو بروقت علاج کی سہولت میسر ہے؟ یا پھر سرکاری اسکیمیں صرف فائلوں، اعلانات اور تشہیری دعوؤں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں؟

 

سیاسی قائدین! صحافی صرف جلسوں کی رونق نہیں ہوتے

انتخابات کے دوران سیاسی جماعتوں کے قائدین کو صحافیوں کی یاد ضرور آتی ہے۔ پریس کانفرنسوں، جلسوں اور سیاسی پروگراموں میں صحافیوں کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔ ان کی خبروں، تجزیوں اور تشہیر کے ذریعے سیاسی جماعتیں عوام تک اپنی آواز پہنچاتی ہیں۔ لیکن جب کسی صحافی کے گھر میں بیماری اور معاشی بحران دستک دیتا ہے تو اس کی مدد کے لیے کتنے سیاسی قائدین آگے آتے ہیں؟

 

اقتدار میں رہنے والے ہوں یا اپوزیشن میں بیٹھے رہنما، کیا کسی نے صحافیوں کے مستقل علاج، صحت کے تحفظ اور معاشی سلامتی کے لیے کوئی مؤثر نظام قائم کرنے کی سنجیدہ کوشش کی ہے؟ صحافیوں کو صرف اپنے سیاسی مفادات کے وقت یاد کرنا اور ان کی مشکلات کے وقت خاموش رہنا آخر کس سیاست کا حصہ ہے؟

 

سماجی اور مذہبی قائدین کی خاموشی بھی سوالیہ نشان

معاشرے میں فلاح و بہبود، غریبوں کی مدد، انسانی ہمدردی اور خدمت خلق کے بڑے بڑے دعوے کرنے والی سماجی و مذہبی تنظیموں اور قائدین کو بھی اس واقعہ سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔

 

کیا صحافی معاشرے کا حصہ نہیں؟ کیا اس کے اہلِ خانہ کو علاج، مالی تحفظ اور باعزت زندگی کا حق حاصل نہیں؟ جب کوئی صحافی اپنی زندگی دوسروں کے مسائل اجاگر کرنے میں گزار دیتا ہے تو اس کی پریشانی کے وقت سماج کے بااثر افراد اور فلاحی اداروں کی ذمہ داری کیوں محسوس نہیں ہوتی؟

 

مذہبی اجتماعات، سماجی پروگراموں اور عوامی جلسوں میں خدمت خلق کے پیغامات دینے والوں کو عملی طور پر بھی ایسے ضرورت مند خاندانوں کی مدد کے لیے آگے آنا چاہیے۔

 

عام آدمی کا کیا ہوگا؟

یہ واقعہ صرف صحافی برادری کا مسئلہ نہیں بلکہ تلنگانہ کے عام شہریوں کے لیے بھی ایک بڑا سوال ہے۔ اگر 35 سال تک پیشہ ورانہ خدمات انجام دینے والا صحافی علاج کے اخراجات کے بوجھ تلے بے بس ہو سکتا ہے تو روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور، چھوٹے تاجر اور غریب خاندان کس کرب سے گزرتے ہوں گے؟

آج بھی کئی خاندان کسی سنگین بیماری کی صورت میں قرض لینے، زیورات فروخت کرنے یا اپنی جائیداد گروی رکھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ کیا صحت کی سہولت صرف صاحبِ ثروت افراد کے لیے رہ گئی ہے؟ کیا غریب اور متوسط طبقے کے شہریوں کو معیاری علاج کا حق حاصل نہیں؟

 

تلنگانہ حکومت سے چند دوٹوک سوالات

1. صحافیوں کی ہیلتھ انشورنس اسکیم کے حقیقی فوائد کتنے صحافیوں تک پہنچ رہے ہیں؟

2. کیا تمام اہل صحافیوں کو خانگی اور کارپوریٹ اسپتالوں میں کیش لیس علاج کی سہولت حاصل ہے؟

3. علاج کے لیے مالی مشکلات کا سامنا کرنے والے صحافیوں کے اہلِ خانہ کی مدد کے لیے حکومت کے پاس کیا خصوصی انتظامات ہیں؟

4. کیا صحافیوں کے لیے مستقل میڈیکل ایمرجنسی فنڈ قائم کیا جائے گا؟

5. کیا حکومت صحافیوں کے معاشی اور طبی تحفظ کے لیے کوئی جامع پالیسی بنانے پر غور کرے گی؟

 

اب بیانات نہیں، عملی اقدامات کی ضرورت ہے

صحافت جمہوریت کا اہم ستون ہے۔ صحافی معاشرے کی آنکھ اور کان بن کر عوامی مسائل کو حکمرانوں تک پہنچاتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ اکثر صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے خود معاشی عدم تحفظ، کم تنخواہوں، ملازمت کے عدم استحکام اور طبی سہولیات کی کمی کا شکار رہتے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت صحافیوں کی ہیلتھ انشورنس اسکیم کا جائزہ لے، ہر اہل صحافی کے لیے مؤثر کیش لیس علاج کو یقینی بنائے، مستحق صحافیوں کے لیے ہنگامی طبی امداد کا فنڈ قائم کرے اور سیاسی، سماجی و مذہبی تنظیمیں بھی صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے عملی کردار ادا کریں۔

 

آخر ایک سوال جو ہر سیاسی قائد، ہر سماجی و مذہبی رہنما اور ہر حکومت سے پوچھا جانا چاہیے:

جو صحافی 35 سال تک معاشرے کی آواز بنا رہا، جب اس کی اپنی زندگی علاج کی محتاج ہوئی تو اس کی آواز سننے والا کوئی کیوں نہیں تھا؟

یہ ایک صحافی کی موت کا معاملہ ہی نہیں، بلکہ ہمارے نظامِ صحت، صحافیوں کے معاشی تحفظ اور معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری کا امتحان بھی ہے۔

Advertisment