صحافیوں کے تحفظ کا قانون ناگزیر، اظہارِ رائے کی آزادی اور آزاد صحافت کا تحفظ وقت کی اہم ضرورت

صحافیوں کے تحفظ کا قانون ناگزیر، اظہارِ رائے کی آزادی اور آزاد صحافت کا تحفظ وقت کی اہم ضرورت

حیدرآباد۔18/جولائی(تلنگانہ وائس ڈیسک)

صحافی خضر احمد یافعی

آزاد، ذمہ دار اور غیرجانبدار صحافت کسی بھی جمہوری نظام کی بنیاد اور آئین کی روح ہے۔ ہندوستان کا آئین ہر شہری کو آرٹیکل 19(1)(a) کے تحت اظہارِ رائے کی آزادی کا بنیادی حق عطا کرتا ہے۔ اسی آئینی حق کی بنیاد پر صحافی عوام کے مسائل کو اجاگر کرتے، حکومتی پالیسیوں کا جائزہ لیتے، انتظامیہ کی کارکردگی پر نظر رکھتے اور عوام تک درست، مستند اور غیرجانبدار معلومات پہنچاتے ہیں۔ آزاد صحافت دراصل اظہارِ رائے کی آزادی کا عملی مظہر ہے اور یہی کسی مضبوط جمہوریت کی اصل طاقت ہے۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ملک کی مختلف ریاستوں، بشمول تلنگانہ اور اضلاع میں صحافیوں کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران مسلسل دباؤ، دھمکیوں اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جب کوئی صحافی عوامی مفاد میں بدعنوانی، بے ضابطگی یا انتظامی خامیوں کو بے نقاب کرتا ہے تو بعض سیاسی قائدین اپنی طاقت و اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے اسے ڈرانے، دھمکانے یا اپنی حمایت میں خبریں شائع کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں۔ بعض مواقع پر چند سرکاری افسران اور پولیس اہلکار بھی صحافیوں کے ساتھ غیرمہذب رویہ اختیار کرتے ہوئے ان کی تذلیل کرتے ہیں، پیشہ ورانہ فرائض میں رکاوٹ ڈالتے ہیں، شخصی حملے کرتے ہیں اور بعض اوقات جھوٹے مقدمات درج کراکر انہیں خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اگر کسی صحافی کو سچ لکھنے یا عوامی مفاد کی خبر شائع کرنے پر دھمکیاں دی جائیں، اس کے خلاف انتقامی کارروائیاں کی جائیں یا اسے جھوٹے مقدمات میں الجھایا جائے تو یہ صرف ایک فرد یا ایک صحافی پر حملہ نہیں بلکہ آئین کی عطا کردہ اظہارِ رائے کی آزادی، آزادیٔ صحافت اور عوام کے حقِ معلومات پر براہِ راست حملہ ہے۔ ایسی روش جمہوری اقدار کو کمزور کرتی ہے اور عوام کا نظامِ حکومت پر اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے۔

Advertising

ملک کے مختلف حصوں سے ایسے واقعات آئے دن سامنے آتے ہیں۔ ہر واقعے کے بعد صحافتی تنظیمیں احتجاج کرتی ہیں، مذمتی بیانات جاری کرتی ہیں اور انصاف کا مطالبہ کرتی ہیں، مگر مستقل قانونی تحفظ نہ ہونے کے باعث ایسے واقعات کا سلسلہ ختم نہیں ہو پا رہا۔

Advertising

یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اگر صحافی خوف، دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے سائے میں کام کریں گے تو آزاد صحافت متاثر ہوگی، عوام تک سچ پہنچنے کا عمل کمزور پڑ جائے گا اور جمہوری نظام کی شفافیت بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔ اس لیے صحافیوں کا تحفظ صرف صحافی برادری کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے، جمہوریت اور عوام کے آئینی حقِ معلومات کا معاملہ ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ مرکزی حکومت اور تمام ریاستی حکومتیں، بالخصوص تلنگانہ حکومت، صحافیوں کے تحفظ کے لیے ایک جامع اور مؤثر قانون نافذ کریں۔ اس قانون میں فرائض کی انجام دہی کے دوران صحافیوں کو ہراساں کرنے، ان پر حملہ کرنے، جھوٹے مقدمات درج کرنے، غیرقانونی دباؤ ڈالنے، خبر روکنے یا آزادیٔ صحافت میں مداخلت کرنے والوں کے خلاف سخت اور فوری قانونی کارروائی کی واضح دفعات شامل ہونی چاہئیں۔

اس کے ساتھ ساتھ اضلاع میں خدمات انجام دینے والے اردو اور علاقائی زبانوں کے صحافیوں کے مسائل پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ محدود وسائل اور مشکلات کے باوجود یہ صحافی عوامی مسائل کو حکام اور حکومت کے سامنے لاتے ہیں، مگر انہیں نہ مناسب قانونی تحفظ حاصل ہے اور نہ ہی پیشہ ورانہ سہولتیں میسر ہیں۔

آزاد صحافت، اظہارِ رائے کی آزادی اور عوام کے حقِ معلومات ایک دوسرے سے جدا نہیں کیے جا سکتے۔ اگر ان میں سے کسی ایک پر بھی قدغن لگتی ہے تو جمہوریت کی بنیاد کمزور ہو جاتی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ حکومتیں صحافیوں کے تحفظ کو محض مطالبہ نہیں بلکہ آئینی ذمہ داری سمجھیں اور ایک ایسا مضبوط قانون نافذ کریں جو ہر صحافی کو بلا خوف و خطر سچ لکھنے، سچ دکھانے اور عوامی مفاد میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے کی مکمل آزادی اور تحفظ فراہم کرے۔