دہلی جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج اور سونم وانچک کی بھوک ہڑتال، ایڈوکیٹ ایم اے بصیر نے مرکزی حکومت کو خاموش تماشائی قرار دیا
نئی دہلی/عادل آباد۔18/جولائی(تلنگانہ وائس) دہلی کے جنتر منتر پر مبینہ نیٹ (NEET) پیپر لیک، طلبہ کی خودکشیوں، مرکزی حکومت کی مبینہ ناکامی اور مختلف عوامی مسائل کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج مسلسل جاری ہے۔ اسی دوران عادل آباد کے ابھرتے ہوئے ایڈوکیٹ ایم اے بصیر نے جنتر منتر پہنچ کر احتجاجی مظاہرین سے ملاقات کی اور اپنی حمایت کا اظہار کیا۔
اس موقع پر ایک میڈیا چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈوکیٹ ایم اے بصیر نے کہا کہ احتجاج ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا آئین ہر شہری کو پرامن احتجاج، اظہارِ رائے اور اپنے مطالبات پیش کرنے کی مکمل آزادی دیتا ہے، خواہ وہ کسی سیاسی جماعت سے وابستہ ہو یا کسی سماجی تحریک کا حصہ ہو۔
انہوں نے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے اور احتجاج میں شریک نوجوان طلبہ و طالبات کی جدوجہد کو سراہتے ہوئے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ نیٹ امتحان سے متعلق اٹھائے گئے اعتراضات اور طلبہ کے خدشات پر منصفانہ کارروائی کرتے ہوئے متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے۔
ادھر اپنے مطالبات کے حق میں گزشتہ بیس دن سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے سونم وانچک کو پولیس کی جانب سے زبردستی اٹھا کر اسپتال منتقل کیے جانے پر بھی ایڈوکیٹ ایم اے بصیر نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے بذریعہ فون عادل آباد کے اردو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت اس معاملے میں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
Advertising

ایڈوکیٹ ایم اے بصیر نے کہا کہ اس حکومت کا مقابلہ کرنے کے لیے بڑی قربانیاں دینی ہوں گی، کیونکہ یہ قومی نوعیت کے مسائل ہیں جہاں مذہب اور ذات پات کا کوئی سوال نہیں، اس کے باوجود حکومت عوامی مطالبات کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ سونم وانچک کو پولیس نے زبردستی بھوک ہڑتال سے اٹھا کر اسپتال منتقل کرنے کی اطلاعات ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ مرکزی حکومت کے دور میں اپوزیشن، سیاست دانوں، کسانوں، طلبہ، تعلیمی اداروں اور اساتذہ کی آواز کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ اگر جمہوری اقدار اور عوامی حقوق کو محفوظ رکھنا ہے تو اپوزیشن کو قربانی کے جذبے کے ساتھ متحد ہو کر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

