خواتین اور کم عمر بچوں کے تحفظ کے لیے شی ٹیم کی مسلسل کوششیں
عادل آباد میں 136 شکایات پر کارروائی، 117 ای پیٹی کیسز اور 5 ایف آئی آر درج؛ 2 کم عمری کی شادیوں کو روکا گیا
163 مقامات پر اچانک معائنے، 49 گاؤں میں دورے اور 48 بیداری پروگرام منعقد؛ بہترین کارکردگی پر شی ٹیم کے اہلکاروں کو نقد انعامات اور توصیفی اسناد
عادل آباد، 10 اکتوبر(تلنگانہ وائس) ضلع بھر میں خواتین، کم عمر بچوں اور طالبات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے شی ٹیم اور پولیس اَکّا ٹیمیں مسلسل سرگرم رہیں۔ خواتین کو ہراسانی سے محفوظ رکھنے، متاثرین کو مدد فراہم کرنے اور شکایات پر فوری کارروائی کرنے کو اولین ترجیح دی جائے۔ یہ ہدایات ضلع ایس پی اکھل مہاجن، آئی پی ایس، نے متعلقہ پولیس اہلکاروں کو دیں۔

ہفتہ کے روز ضلع پولیس کے مرکزی دفتر میں شی ٹیم اور پولیس اَکّا ٹیموں کی ماہانہ جائزہ میٹنگ منعقد ہوئی۔ اس موقع پر شی ٹیم کی ماہانہ رپورٹ کا جائزہ لیا گیا، جس کے مطابق مجموعی طور پر 136 شکایات موصول ہوئیں۔ ان شکایات پر کارروائی کرتے ہوئے 117 ای پیٹی کیسز اور 5 ایف آئی آر درج کی گئیں۔ ہراسانی میں ملوث افراد کی نشاندہی کرتے ہوئے ضروری قانونی کارروائی کی گئی اور متاثرین کو مناسب مدد فراہم کی گئی۔
163 مقامات پر اچانک معائنے
خواتین اور طالبات کی آمد و رفت والے مقامات، اسکولوں، کالجوں، شاپنگ مالس، ہوٹلوں اور دیگر تعلیمی اداروں پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ضلع کے مختلف حساس مقامات پر 163 اچانک معائنے کیے گئے۔ اس کے علاوہ ایک ماہ کے دوران 49 گاؤں کا دورہ کرتے ہوئے خواتین اور بچوں کے تحفظ سے متعلق عوام میں شعور بیدار کیا گیا۔
### دو کم عمری کی شادیوں کو روکا گیا
کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کے لیے بھی شی ٹیموں نے خصوصی اقدامات کیے۔ ماہانہ رپورٹ کے مطابق ٹیموں نے دو کم عمری کی شادیوں کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ایس پی اکھل مہاجن نے کہا کہ کم عمری کی شادیوں کے نقصانات سے عوام کو واقف کروایا جائے اور جہاں بھی ایسی شادیوں کی اطلاع ملے، فوری طور پر کارروائی کی جائے۔
Advertising

### 48 بیداری پروگرام منعقد
ضلع بھر میں خواتین کے تحفظ، کم عمری کی شادیوں کی روک تھام، ایو ٹیزنگ، سائبر جرائم اور سوشل میڈیا کے محفوظ استعمال جیسے موضوعات پر 48 بیداری پروگرام منعقد کیے گئے۔ ان پروگراموں کے ذریعے طالبات اور خواتین کو مشورہ دیا گیا کہ وہ اپنی ذاتی معلومات اجنبی افراد کے ساتھ شیئر نہ کریں۔ تصاویر اور ویڈیوز کے غلط استعمال یا آن لائن ہراسانی کی صورت میں فوری طور پر پولیس سے رجوع کریں۔
ایس پی نے کہا کہ اسکولوں، کالجوں، کام کی جگہوں یا عوامی مقامات پر خواتین اور طالبات کو کسی بھی قسم کی ہراسانی، ایو ٹیزنگ یا نامناسب لمس (بیڈ ٹچ) کا سامنا ہو تو وہ خوف زدہ ہوئے بغیر شی ٹیم یا پولیس اَکّا ٹیم سے رابطہ کریں۔ خواتین اور بچوں کی سلامتی کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔
### بہترین کارکردگی پر اہلکاروں کی ستائش
اس موقع پر فرائض کی انجام دہی میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے شی ٹیم اور پولیس اَکّا ٹیم کے اہلکاروں کی ایس پی نے ستائش کی۔ انہوں نے اہلکاروں کو نقد انعامات اور توصیفی اسناد پیش کرتے ہوئے حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے ہدایت دی کہ متاثرین کے ساتھ ذمہ داری اور حساسیت کے ساتھ پیش آتے ہوئے انہیں انصاف دلانے کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں۔
### شکایت کنندگان کی تفصیلات خفیہ رکھی جائیں گی
ایس پی اکھل مہاجن نے واضح کیا کہ خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے پولیس محکمہ ہمیشہ دستیاب ہے۔ کسی بھی قسم کی ہراسانی یا ہنگامی صورتحال میں شی ٹیم کے فون نمبر 8712659953 یا ڈائل 100/112 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ شکایت درج کروانے والوں کی شناخت کو خفیہ رکھتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس جائزہ میٹنگ میں شی ٹیم کی اے ایس آئی سشیلا، ہیڈ کانسٹیبل وانی شری، پولیس اَکّا ٹیم کے اہلکاروں اور دیگر متعلقہ عملے نے شرکت کی۔
#AdilabadPolice #AkhilMahajanIPS #SHETeams #WomenSafety #ChildSafety #TelanganaPolice #AdilabadNews #TelanganaVoice

