تلنگانہ میں کانگریس حکومت کے اقلیتی وعدوں پر سوالات، بجٹ مختص مگر عمل درآمد کتنا؟ انتخابی منشور میں سالانہ 4 ہزار کروڑ روپے، نوجوانوں کے لیے قرض، طلبہ کو تعلیمی امداد اور اردو اساتذہ کی بھرتی کا وعدہ؛ اقلیتی قائدین کی کوششوں اور حکومتی کارکردگی کا جائزہ ضروری

تلنگانہ میں کانگریس حکومت کے اقلیتی وعدوں پر سوالات، بجٹ مختص مگر عمل درآمد کتنا؟

انتخابی منشور میں سالانہ 4 ہزار کروڑ روپے، نوجوانوں کے لیے قرض، طلبہ کو تعلیمی امداد اور اردو اساتذہ کی بھرتی کا وعدہ؛ اقلیتی قائدین کی کوششوں اور حکومتی کارکردگی کا جائزہ ضروری

حیدرآباد، 19/ اکتوبر (تلنگانہ وائس) تلنگانہ میں کانگریس حکومت کے اقتدار میں آئے تقریباً تین سال ہونے کو ہیں، لیکن 2023 کے اسمبلی انتخابات سے قبل اقلیتی طبقے سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کا معاملہ اب بھی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ اقلیتی بہبود کے لئے بجٹ میں اضافہ ضرور ہوا ہے، تاہم مختلف اسکیموں کے تحت رقم کے استعمال، طلبہ کی فیس ری ایمبرسمنٹ، بے روزگار نوجوانوں کو قرض اور دیگر فلاحی اقدامات کی رفتار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

 

کانگریس نے انتخابات سے قبل اپنے اقلیتی منشور میں ہر سال اقلیتی بہبود کے لئے 4 ہزار کروڑ روپے مختص کرنے، ایک ہزار کروڑ روپے کے ذریعے اقلیتی نوجوانوں اور خواتین کو سبسڈی والے قرض فراہم کرنے، طلبہ کے لئے عبد الکلام تحفۂ تعلیم اسکیم شروع کرنے، شادی مبارک کی امداد بڑھا کر ایک لاکھ 60 ہزار روپے کرنے اور اردو میڈیم اساتذہ کی خصوصی بھرتی جیسے اہم وعدے کئے تھے۔ اس کے علاوہ وقف جائیدادوں کا تحفظ، اقلیتی اداروں کی خالی جائیدادوں کو پُر کرنا اور مذہبی خادمین (آئمہ و موذنین) کے اعزازیہ سے متعلق اعلانات بھی کئے گئے تھے۔

 

بجٹ میں اضافہ، مگر رقم کے استعمال پر سوالات

 

حکومت کی اقلیتی بہبود اسکیموں سے متعلق اپریل 2026 میں شائع ہونے والی آر ٹی آئی پر مبنی ایک رپورٹ کے مطابق، مالی سال 2023-24 میں اقلیتی بہبود کے لئے 2,195.71 کروڑ روپے مختص کئے گئے تھے، جن میں سے 1,755.29 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ مالی سال 2024-25 میں 2,997.02 کروڑ روپے کے بجٹ کے مقابلے میں 1,602.88 کروڑ روپے خرچ کئے گئے۔

 

مالی سال 2025-26 میں 3,585.03 کروڑ روپے مختص کئے گئے تھے، جبکہ 25 مارچ 2026 تک دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اخراجات 1,703.30 کروڑ روپے درج کئے گئے۔ چونکہ یہ اعداد مالی سال کے اختتام سے پہلے کے ہیں، اس لئے انہیں حتمی اخراجات نہیں سمجھا جا سکتا۔ تاہم یہ اعداد بجٹ کے مؤثر استعمال اور اسکیموں پر عمل درآمد کے بارے میں جائزہ لینے کی ضرورت کو ضرور ظاہر کرتے ہیں۔

 

طلبہ کی تعلیم اور نوجوانوں کے روزگار کا مسئلہ

اقلیتی طلبہ کے لئے اسکالرشپ اور فیس ری ایمبرسمنٹ اہم مسائل میں شامل ہیں۔ تلنگانہ ٹوڈے کی 28 مئی 2026 کی رپورٹ کے مطابق، مالی سال 2025-26 میں پوسٹ میٹرک اسکالرشپ کے لئے 120 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، لیکن رپورٹ میں درج اخراجات صرف 1.20 کروڑ روپے تھے۔ اسی طرح ٹیوشن فیس ری ایمبرسمنٹ کے لئے مختص 300 کروڑ روپے کے مقابلے میں 68.77 کروڑ روپے خرچ ہونے کی اطلاع دی گئی تھی۔

Advertising

اقلیتی نوجوانوں کے لئے سبسڈی والے قرض کی اسکیم کے تحت بھی بڑی تعداد میں درخواستیں موصول ہونے کے باوجود ان کی منظوری اور مستفیدین کی حتمی صورتِ حال پر واضح معلومات سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ عبد الکلام تحفۂ تعلیم اسکیم کے تحت تعلیمی مراحل کے مطابق مالی امداد دینے کا وعدہ بھی اہمیت رکھتا ہے، لیکن اس کے وعدے کے مطابق نفاذ کی صورتِ حال پر سوالات برقرار ہیں۔

اقلیتی قائدین کی جانب سے حکومت سے مطالبہ

مارچ 2026 میں اے آئی ایم آئی ایم کے فلور لیڈر اکبرالدین اویسی نے ڈپٹی چیف منسٹر ملو بھٹی وکرامارکا سے ملاقات کرکے اقلیتی منشور میں کئے گئے وعدوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا تھا۔ ان مطالبات میں 4 ہزار کروڑ روپے کا بجٹ، اقلیتی سب پلان، نوجوانوں کے لئے قرض، تعلیمی امداد، اردو میڈیم اساتذہ کی خصوصی بھرتی، ائمہ و مؤذنین کے اعزازیہ اور وقف جائیدادوں کے تحفظ جیسے امور شامل تھے۔

 

دوسری جانب بی آر ایس رہنما بھی حکومت کی اقلیتی بہبود پالیسیوں پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ اکتوبر 2026 میں سابق وزیر ٹی ہریش راؤ نے اقلیتی طبقے سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل نہ ہونے کا الزام عائد کیا۔ تاہم سیاسی جماعتوں کے الزامات اور دعووں کا جائزہ سرکاری اعداد و شمار اور آزادانہ تصدیق کی روشنی میں لیا جانا ضروری ہے۔

 

اقلیتی قائدین کے سامنے اب اصل چیلنج کیا ہے؟

اقلیتی طبقے کے نمائندوں، ارکان اسمبلی، سیاسی قائدین اور سماجی تنظیموں کے سامنے اب اہم سوال یہ ہے کہ مطالبات اور ملاقاتوں کے بعد کتنے وعدوں پر عملی پیش رفت ہوئی؟ حکومت سے وعدہ وار رپورٹ طلب کرنا، ہر اسکیم کے لئے مختص اور خرچ شدہ رقم کی تفصیلات حاصل کرنا، زیرِ التوا اسکالرشپ اور فیس کی ادائیگی کے لئے مقررہ مدت طے کروانا اور قرض اسکیم کے مستفیدین کی فہرست جاری کروانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

 

عادل آباد سمیت تلنگانہ کے تمام اضلاع میں اقلیتی بہبود کے کاموں کا جائزہ لے کر یہ معلوم کیا جانا چاہیے کہ کتنے طلبہ کو تعلیمی امداد ملی، کتنے بے روزگار نوجوانوں کو قرض حاصل ہوا، کتنے اہل افراد کو شادی امداد اور اعزازیہ ملا اور وقف جائیدادوں کے تحفظ کے لئے کیا اقدامات کئے گئے۔

 

نتیجہ: وعدوں کی گنتی نہیں، عملی فائدہ اہم

تلنگانہ میں کانگریس حکومت کے اقلیتی منشور پر عمل درآمد کا معاملہ محض سیاسی بحث نہیں، بلکہ تعلیم، روزگار، معاشی خودکفالت اور سماجی تحفظ سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ بجٹ میں رقم مختص کرنا ایک اہم قدم ہے، لیکن اس کا حقیقی فائدہ مستحق افراد تک پہنچنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔

 

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت تمام وعدوں کی موجودہ صورتِ حال پر شفاف رپورٹ جاری کرے اور اقلیتی قائدین بھی صرف مطالبات تک محدود رہنے کے بجائے ان کے نتائج پر مسلسل نظر رکھیں۔ عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ انتخابی وعدوں میں سے کیا پورا ہوا، کیا جزوی طور پر نافذ ہوا اور کیا اب بھی انتظار میں ہے۔

 

تلنگانہ وائس کا تجزیہ: اقلیتی طبقے کی فلاح و بہبود کے لئے بجٹ کے اعلانات کے ساتھ ساتھ جواب دہی، شفافیت اور وقت مقررہ پر عمل درآمد بھی ضروری ہے۔

خبروں کی دنیا میں ایک نیا اور معتبر نام — تلنگانہ وائس

سچ، اعتماد اور عوامی مسائل کی مؤثر ترجمانی

Telangana Voice – Delivering Truth, Empowering People

Advertising & News

WhatsApp 8919329620

#TelanganaVoice #TelanganaNews #MinorityWelfare #CongressGovernment #MinorityDeclaration #Scholarships #UrduTeachers #AdilabadNews