عادل آباد رِمس اسپتال کا رکن اسمبلی پایل شنکر نے اچانک معائنہ کیا ڈاکٹرس وقت کی پابندی کریں، ڈیوٹی میں لاپرواہی پر کارروائی کی سفارش کی جائے گی ۔ پایل شنکر

عادل آباد رِمس اسپتال کا رکن اسمبلی پایل شنکر نے اچانک معائنہ کیا

ڈاکٹرس وقت کی پابندی کریں، ڈیوٹی میں لاپرواہی پر کارروائی کی سفارش کی جائے گی ۔ پایل شنکر

عادل آباد، 28/اکتوبر(تلنگانہ وائس)

عادل آباد کے رِمس اسپتال میں ڈاکٹرس کی جانب سے وقت کی پابندی نہ کرنے اور ڈیوٹی میں لاپرواہی برتنے کی شکایات پر رکن اسمبلی پایل شنکر نے بدھ کے روز اسپتال کا اچانک معائنہ کیا۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر ڈاکٹرس نے اپنے رویے میں تبدیلی نہیں لائی اور فرائض کی انجام دہی میں غفلت برتی تو ان کے خلاف کارروائی کی سفارش کی جائے گی۔

رکن اسمبلی نے بتایا کہ ان کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ بعض ڈاکٹرس وقت پر اسپتال نہیں پہنچ رہے ہیں، جبکہ کچھ ڈاکٹرس اسپتال آنے کے بعد بھی صرف ایک یا دو گھنٹے ڈیوٹی انجام دے کر واپس چلے جاتے ہیں۔ بعض مواقع پر ڈاکٹرس کے ڈیوٹی پر حاضر نہ ہونے کی شکایات بھی موصول ہوئی ہیں۔

 

معائنے کے دوران پایل شنکر نے سب سے پہلے رِمس ڈائریکٹر کے چیمبر میں ڈاکٹرس کی حاضری کے رجسٹر اور دستخط کے اوقات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ اس کے بعد بایومیٹرک نظام کے ذریعے ڈاکٹرس کی آمد و رفت کے اوقات کی تفصیلات دریافت کیں۔ انہوں نے گائناکولوجی وارڈ اور آؤٹ پیشنٹ (او پی) شعبے میں موجود ڈاکٹرس سے ملاقات کرتے ہوئے مریضوں کی تعداد اور انہیں فراہم کی جانے والی طبی سہولتوں کے بارے میں دریافت کیا۔ اس موقع پر انہوں نے مریضوں سے بھی بات چیت کی اور ان کے مسائل معلوم کیے۔

Advertising

اس موقع پر رکن اسمبلی پایل شنکر نے کہا کہ ڈاکٹرس کو خدا کے بعد مسیحا کا درجہ حاصل ہے، اس لیے پسماندہ ضلع عادل آباد میں انہیں انسانی ہمدردی کے جذبے کے ساتھ اپنی خدمات انجام دینی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ بارہا درخواست کرنے اور ایک ماہ قبل منعقدہ اجلاس میں متعدد تجاویز پیش کرنے کے باوجود ڈاکٹرس کے رویے میں مطلوبہ تبدیلی نظر نہیں آ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گاندھی اور عثمانیہ اسپتالوں کے بعد رِمس عادل آباد بھی مریضوں کے زیادہ دباؤ والے اسپتالوں میں شامل ہے، لیکن بعض ڈاکٹرس کی ملازمت رِمس میں ہونے کے باوجود وہ عادل آباد میں دستیاب نہیں رہتے۔ ان کی موجودگی اور ڈیوٹی کے اوقات کے بارے میں بھی مسائل سامنے آ رہے ہیں، جبکہ ان کے کھاتوں میں تنخواہیں باقاعدگی سے جمع ہو رہی ہیں۔

 

پایل شنکر نے مزید کہا کہ کئی ڈاکٹرس نے تنخواہوں کو ناکافی قرار دیتے ہوئے ان سے نمائندگی کی تھی، جس کے بعد انہوں نے حکومت پر دباؤ ڈال کر عادل آباد کے لیے خصوصی جی او جاری کروایا۔ اس جی او میں ’یو کوٹ، وی پے‘ (آپ بتائیں، ہم ادا کریں گے) کی پالیسی شامل ہے۔ اس کے باوجود اگر ڈاکٹرس کی خدمات میں بہتری نہیں آتی تو یہ افسوس ناک ہے۔

 

انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی نے تقریباً 150 کروڑ روپے جاری کرتے ہوئے رِمس میں سپر اسپیشلٹی اسپتال کی تعمیر کے لیے سہولتیں فراہم کی ہیں، جہاں مریضوں کو کارپوریٹ اسپتالوں جیسی طبی سہولتیں مہیا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم، ڈاکٹرس کی عدم دستیابی کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

 

رکن اسمبلی نے واضح کیا کہ ڈاکٹرس اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے ادا کریں اور وقت کی پابندی کو یقینی بنائیں، بصورت دیگر متعلقہ حکام سے ان کے خلاف کارروائی کی سفارش کی جائے گی۔

 

اس موقع پر رِمس کے ڈائریکٹر جے سنگھ راٹھوڑ اور بی جے پی کے قائدین بھی موجود تھے۔

 

تلنگانہ وائس | عادل آباد