عادل آباد میں رعیتو گرجنا سے قبل کویتا کی کے ٹی آر پر تنقید، بی آر ایس کے دس سالہ دور اقتدار پر اٹھائے سوالات تلنگانہ کی سیاست میں بی آر ایس پارٹی کے اندرونی اختلافات ایک بار پھر موضوعِ بحث

عادل آباد میں رعیتو گرجنا سے قبل کویتا کی کے ٹی آر پر تنقید، بی آر ایس کے دس سالہ دور اقتدار پر اٹھائے سوالات

تلنگانہ کی سیاست میں بی آر ایس پارٹی کے اندرونی اختلافات ایک بار پھر موضوعِ بحث

عادل آباد۔یکم/نومبر(تلنگانہ وائس) تلنگانہ کی سیاست میں بی آر ایس پارٹی کے اندرونی اختلافات ایک بار پھر موضوعِ بحث بن گئے ہیں۔ 30 اکتوبر کو عادل آباد ضلع کے اندراویلی میں ٹی آر ایس کے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کے کویتا نے بی آر ایس اور سابق وزیر کے ٹی آر کو تنقید کا نشانہ بنایا، جو رشتہ میں ان کے بھائی ہیں۔

https://www.facebook.com/share/v/1CXweg7dSA/

کویتا نے سوال اٹھایا کہ کے ٹی آر آخر کس منہ سے یکم نومبر کو عادل آباد میں منعقد ہونے والی بی آر ایس کی ’’رعیتو گرجنا‘‘ مہا سبھا میں شرکت کے لیے آرہے ہیں؟ انہوں نے بی آر ایس کے دس سالہ دورِ اقتدار کے دوران عادل آباد ضلع کی ترقی کو نظر انداز کیے جانے کا الزام عائد کیا۔

Advertising

کویتا نے کے ٹی آر سے کئی سوالات کرتے ہوئے ضلع کی ترقی، کسانوں کے مسائل اور عوامی ضروریات کے حوالے سے بی آر ایس کے سابقہ دورِ حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگایا۔ ان کے بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب بی آر ایس یکم نومبر کو عادل آباد کے ڈائٹ گراؤنڈ میں کسانوں کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے ’’رعیتو گرجنا‘‘ مہا سبھا منعقد کرنے جارہی ہے۔

 

سیاسی حلقوں میں کویتا کے ان بیانات کو خاصی اہمیت دی جارہی ہے۔ ایک طرف بی آر ایس کسانوں کی حمایت میں جلسہ منعقد کرنے کی تیاری کررہی ہے، تو دوسری طرف کویتا کی جانب سے اسی پارٹی کے سابقہ دورِ اقتدار اور کے ٹی آر کی کارکردگی پر اٹھائے گئے سوالات نے سیاسی بحث کو مزید تیز کردیا ہے۔

 

اب دیکھنا یہ ہوگا کہ یکم نومبر کو عادل آباد میں منعقد ہونے والی رعیتو گرجنا مہا سبھا میں بی آر ایس قائدین کویتا کے الزامات اور سوالات کے حوالے سے کیا مؤقف اختیار کرتے ہیں۔