"اردو میڈیا”کا اپنے مقصد کے لئے استعمال کرنے والی سیاسی جماعتیں آخر کب اپنا رویہ بدلیں گی؟ مسلم اقلیتی قائدین کی خاموشی، سیاسی جماعتوں کی دوہری پالیسی اور اردو صحافت کے ساتھ ناانصافی! تحریر ۔صحافی خضر احمد یافعی ایڈیٹر ان چیف تلنگانہ وائس ڈیجیٹل

"اردو میڈیا”کا اپنے مقصد کے لئے استعمال کرنے والی سیاسی جماعتیں آخر کب اپنا رویہ بدلیں گی؟

مسلم اقلیتی قائدین کی خاموشی، سیاسی جماعتوں کی دوہری پالیسی اور اردو صحافت کے ساتھ ناانصافی!

تحریر ۔صحافی خضر احمد یافعی

ایڈیٹر ان چیف تلنگانہ وائس ڈیجیٹل

تلنگانہ وائس 31/10/2026 ہفتہ

حکومت کسی بھی سیاسی جماعت کی ہو، اقتدار کے ایوانوں سے لے کر سیاسی جماعتوں کے تنظیمی ڈھانچوں تک مسلم اقلیتوں، بالخصوص مسلم اقلیتی قائدین کو جو اہمیت، نمائندگی اور مقام دیا جانا چاہیے، وہ اکثر نہ ہونے کے برابر دکھائی دیتا ہے۔ مسلمانوں کے ووٹوں کی اہمیت ہر انتخاب میں یاد آتی ہے، ان کی آبادی، مسائل اور جذبات پر تقاریر ہوتی ہیں، مگر جب فیصلہ سازی، اہم عہدوں، تنظیمی ذمہ داریوں اور سیاسی اختیارات کی تقسیم کا وقت آتا ہے تو یہی اقلیتیں اکثر حاشیے پر کھڑی نظر آتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ دوہرا معیار کب تک جاری رہے گا؟

 

یہ محض کسی ایک سیاسی جماعت، ایک حکومت یا ایک علاقے کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک ایسی سیاسی روش ہے جس پر سنجیدہ بحث کی ضرورت ہے۔ مسلم اقلیتی قائدین میں باصلاحیت، تجربہ کار اور عوامی اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کی کمی نہیں۔ بعض قائدین اپنی محنت، صلاحیت، تعلقات اور سیاسی بصیرت کے بل پر آگے بڑھتے بھی ہیں، لیکن چند چہروں کی کامیابی کو پوری اقلیت کی سیاسی نمائندگی کا ثبوت نہیں بنایا جا سکتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا عام مسلم کارکن، زمینی سطح پر کام کرنے والا قائد اور اقلیتی مسائل کے لیے آواز اٹھانے والا شخص بھی وہی مواقع حاصل کر رہا ہے جو دوسری برادریوں کے قائدین کو حاصل ہوتے ہیں؟

Advertising

اگر نہیں، تو پھر صرف چند مسلم چہروں کو اہم تقریبات میں بٹھا دینے، اسٹیج پر جگہ دینے یا عہدوں کے نام پر مطمئن کر دینے سے نمائندگی کا حق ادا نہیں ہوتا۔ نمائندگی صرف تصویر میں نظر آنے کا نام نہیں؛ نمائندگی کا مطلب فیصلوں میں حصہ، وسائل تک رسائی، اپنے لوگوں کے مسائل اٹھانے کی آزادی اور اپنی بات منوانے کی قوت بھی ہے۔

اردو میڈیا: انتخابات میں ضرورت، باقی وقت بے وقعت؟

اس پوری صورتِ حال کا ایک نہایت تلخ پہلو اردو اخبارات، اردو نیوز چینلس اور اردو صحافیوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا رویہ ہے۔

 

جب کسی سیاسی جماعت کو اپنی کارکردگی بیان کرنی ہو، مخالفین پر الزامات عائد کرنے ہوں، پریس کانفرنس کے ذریعے جوابی حملہ کرنا ہو، اقلیتی ووٹروں تک اپنا پیغام پہنچانا ہو یا انتخابات کے دوران مسلمانوں کی حمایت حاصل کرنی ہو تو اردو میڈیا کی اہمیت اچانک بڑھ جاتی ہے۔ اردو صحافیوں کو فون کیے جاتے ہیں، پریس نوٹ بھیجے جاتے ہیں، پریس کانفرنسوں میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے اور امید کی جاتی ہے کہ قائدین کے بیانات نمایاں انداز میں شائع اور نشر ہوں۔

 

لیکن جیسے ہی اشتہارات، مالی معاونت اور ادارہ جاتی تعاون کی بات آتی ہے، یہی اہمیت اکثر کہیں کھو جاتی ہے۔

 

دیگر زبانوں کے اخبارات اور نیوز چینلس کو بڑے سیاسی پروگراموں، اہم تقریبات اور انتخابی مہمات کے دوران بھاری مالیت کے اشتہارات دیے جانے کی اطلاعات سامنے آتی ہیں، جبکہ اردو اخبارات اور اردو نیوز چینلس کو یا تو انتہائی کم مالیت کے اشتہارات دیے جاتے ہیں، یا انہیں مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ بعض مواقع پر اشتہارات کی ادائیگی میں اتنی تاخیر ہوتی ہے کہ اداروں کے لیے اپنے اخراجات پورے کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

 

یہاں سوال صرف اشتہار کی رقم کا نہیں، بلکہ برابری، پیشہ ورانہ احترام اور اردو زبان کے قارئین و ناظرین کی اہمیت تسلیم کرنے کا ہے۔

 

اگر اردو پڑھنے اور دیکھنے والے عوام سیاسی جماعتوں کے لیے اہم ہیں، تو ان تک پہنچنے والے میڈیا ادارے غیر اہم کیسے ہو سکتے ہیں؟ اگر اردو ووٹر کے ووٹ کی قیمت ہے، تو اردو اخبار کے صفحے اور اردو نیوز چینل کی اسکرین کی کوئی قیمت کیوں نہیں؟

 

کیا اردو میڈیا صرف سیاسی بیانات مفت میں پھیلانے کا ذریعہ ہے؟ کیا اردو صحافی کی محنت، وقت، سفری اخراجات، کیمرہ، انٹرنیٹ، ادارتی عمل اور تکنیکی وسائل کی کوئی قیمت نہیں؟ یا پھر اردو صحافت سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں کی تشہیر بھی کرے اور اپنے اخراجات بھی اپنی جیب سے برداشت کرے؟

نام اور تصویر چاہیے، مگر اشتہار دینے میں تکلیف کیوں؟

اس مسئلے کا ایک دلچسپ مگر افسوس ناک پہلو بھی ہے۔ بعض سیاسی قائدین اور کارکن چاہتے ہیں کہ اردو اخبار میں ان کا نام نمایاں ہو، ان کی تصویر شائع ہو، ان کی سرگرمیوں کو جگہ ملے اور ان کے سیاسی تشخص کو تقویت حاصل ہو۔ اگر کسی خبر میں نام شامل نہ ہو یا تصویر شائع نہ کی جائے تو فوراً شکایت کی جاتی ہے کہ اردو میڈیا نے انہیں نظر انداز کر دیا۔

 

لیکن کبھی یہ سوال بھی کیا جانا چاہیے کہ کیا ان قائدین نے خود اردو میڈیا کو وہ اہمیت دی جس کے وہ دعوے دار ہیں؟

 

کسی پروگرام کی کوریج کے لیے صحافی کو بلانا اور پھر اسے اشتہار یا ادارہ جاتی تعاون سے محروم رکھنا آخر کس اصول کے تحت درست قرار دیا جا سکتا ہے؟ کیا صحافی کا کام صرف قائدین کے نام اور تصاویر شائع کرنا ہے؟ کیا اردو میڈیا سے تعلق صرف اسی وقت ضروری ہے جب اپنی سیاسی تشہیر مقصود ہو؟

 

خبر کی اشاعت اور اشتہار دو الگ چیزیں ہیں۔ صحافت کا بنیادی فریضہ خبر کو عوام تک پہنچانا ہے، جبکہ اشتہار ادارے کی تشہیری ضرورت اور مالی معاونت کا معاملہ ہے۔ کسی قائد کی خبر شائع کرنے کا فیصلہ خبر کی اہمیت اور صحافتی اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے، لیکن سیاسی جماعتوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ اشتہارات کے معاملے میں اردو میڈیا کے ساتھ منصفانہ اور شفاف پالیسی اختیار کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔

 

اردو صحافی سے ہر وقت کوریج کی توقع رکھنا، لیکن اردو ادارے کے معاشی استحکام کی فکر نہ کرنا، تعاون نہیں بلکہ یک طرفہ فائدہ اٹھانے کی روش ہے۔

مسلم اقلیتی قائدین کی خاموشی بھی سوالوں کے گھیرے میں!

اب بات ان مسلم اقلیتی قائدین کی، جو مختلف سیاسی جماعتوں میں عہدوں پر فائز ہیں، تنظیمی فیصلوں میں حصہ لیتے ہیں، پارٹی قیادت تک رسائی رکھتے ہیں اور اپنے اثر و رسوخ کے دعوے بھی کرتے ہیں۔

 

اگر ایسے قائدین اپنی ہی زبان کے اخبارات اور نیوز چینلس کے مسائل سے واقف ہونے کے باوجود خاموش رہیں، تو ان کی سیاسی حیثیت اور نمائندگی پر سوال اٹھنا فطری ہے۔

 

کیا ان قائدین نے کبھی اپنی پارٹی کی قیادت کے سامنے اردو میڈیا کے لیے باقاعدہ اشتہاری پالیسی بنانے کا مطالبہ کیا؟ کیا انہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ انتخابی مہم کے دوران اردو اخبارات اور نیوز چینلس کو بھی ان کے قارئین، ناظرین، رسائی اور اشتہاری نرخوں کے مطابق مناسب مواقع کیوں نہیں دیے جاتے؟ کیا انہوں نے واجب الادا اشتہارات کی بروقت ادائیگی، چھوٹے اردو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی شمولیت اور اشتہارات کی منصفانہ تقسیم کے لیے کوئی عملی کوشش کی؟

 

اگر نہیں، تو پھر ان عہدوں، تعلقات اور اثر و رسوخ کا فائدہ آخر کس کو پہنچ رہا ہے؟

یہاں یہ واضح رہنا چاہیے کہ ہر مسلم قائد کو یکساں طور پر قصوروار ٹھہرانا درست نہیں۔ کئی قائدین اپنی بساط کے مطابق کوشش بھی کرتے ہوں گے، لیکن انفرادی کوششوں سے آگے بڑھ کر اجتماعی اور منظم آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ خاموشی اگر مسلسل رہے اور اس کے نتیجے میں اردو میڈیا کے مسائل جوں کے توں برقرار رہیں، تو اس خاموشی کا احتساب بھی ضروری ہو جاتا ہے۔

 

سیاسی جماعتوں میں عہدہ حاصل کرنا صرف ذاتی ترقی کا ذریعہ نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کسی قائد کو اپنی برادری، زبان اور علاقے کے لوگوں کی نمائندگی کا موقع ملا ہے تو اس نمائندگی کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے لوگوں کے جائز مسائل پارٹی قیادت تک پہنچائے۔ اردو میڈیا کا معاشی تحفظ بھی انہی مسائل میں سے ایک ہے۔

 

انتخابی موسم میں اردو میڈیا کی یاد کیوں آتی ہے؟

انتخابات کے قریب آتے ہی سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں تیز ہو جاتی ہیں۔ اقلیتی علاقوں میں جلسے، پریس کانفرنسیں، وفود سے ملاقاتیں اور ووٹروں سے رابطے بڑھ جاتے ہیں۔ اردو صحافیوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہر سرگرمی کو نمایاں انداز میں عوام تک پہنچائیں۔

 

لیکن انتخابات ختم ہوتے ہی کیا اردو میڈیا کی ضرورت بھی ختم ہو جای ہے؟

کیا مسلمانوں کے مسائل صرف انتخابی مہم تک محدود ہیں؟ کیا اردو زبان صرف ووٹ مانگنے کے لیے یاد کی جاتی ہے؟ کیا اردو اخبارات اور نیوز چینلس کے قارئین و ناظرین صرف انتخابات کے دوران ہی سیاسی اہمیت رکھتے ہیں؟

 

اگر سیاسی جماعتیں اردو میڈیا کو اپنی انتخابی مہم کا اہم ذریعہ سمجھتی ہیں، تو انہیں اشتہارات کی تقسیم میں بھی اس کی مناسب نمائندگی یقینی بنانی چاہیے۔ اشتہارات خیرات نہیں ہوتے، بلکہ تشہیری خدمات کے عوض ایک جائز تجارتی معاملہ ہیں۔ اس لیے اردو میڈیا کو کسی کی ذاتی عنایت کا منتظر بنانے کے بجائے اسے ایک باقاعدہ اور شفاف پالیسی کے تحت مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔

 

یہ مطالبہ بھی ضروری ہے کہ انتخابی اشتہارات کے لیے واضح نرخ، ادائیگی کی مقررہ مدت، تحریری معاہدے اور تمام زبانوں کے میڈیا اداروں کے لیے منصفانہ معیار مقرر کیے جائیں۔ سرکاری اشتہارات کی تقسیم کے اپنے ضابطے ہوتے ہیں اور انہیں سیاسی جماعتوں کے نجی اشتہارات سے الگ سمجھنا چاہیے، لیکن دونوں صورتوں میں شفافیت اور منصفانہ سلوک کی اہمیت اپنی جگہ برقرار رہتی ہے۔

اب وقت آگیا ہے کہ مسلم قائدین اپنی ذمہ داری ادا کریں!

مسلم اقلیتی قائدین کو اب رسمی بیانات، تصویری موجودگی اور نمائشی عہدوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ انہیں اپنی پارٹیوں میں اردو میڈیا کی نمائندگی کے لیے منظم انداز میں آواز اٹھانی چاہیے اور درج ذیل مطالبات کو قیادت کے سامنے رکھنا چاہیے:

 

– اردو اخبارات، نیوز چینلس اور معتبر ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارمز کے لیے واضح، شفاف اور منصفانہ اشتہاری پالیسی بنائی جائے۔

– اشتہارات کی تقسیم میں اداروں کی حقیقی رسائی، ناظرین، قارئین، معیار اور متعلقہ تشہیری ضرورت کو ملحوظ رکھا جائے۔

– انتخابی مہم کے دوران اردو میڈیا کو بھی دیگر زبانوں کے میڈیا کی طرح مناسب مواقع فراہم کیے جائیں۔

– اشتہارات کی ادائیگی کے لیے واضح مدت مقرر ہو اور منظور شدہ بلوں کو غیر ضروری طور پر برسوں تک زیر التوا نہ رکھا جائے۔

– چھوٹے اور مقامی اردو ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارمز کو بھی شفاف معیار کے تحت اشتہارات کے مواقع دیے جائیں۔

– سیاسی جماعتوں کی میڈیا پالیسی میں اردو صحافیوں اور اردو اداروں کے مسائل پر بات کرنے کے لیے باقاعدہ نمائندگی اور رابطے کا نظام قائم کیا جائے۔

 

یہ مطالبات کسی خصوصی رعایت کے لیے نہیں، بلکہ منصفانہ مواقع، پیشہ ورانہ احترام اور اردو صحافت کی بقا کے لیے ہیں۔

 

آخر اردو صحافی اپنی فریاد کس سے کرے؟

اردو صحافی بھی اسی معاشرے کا حصہ ہے۔ وہ بھی اپنے گھر کا خرچ چلاتا ہے، بچوں کی تعلیم، علاج، سفر، انٹرنیٹ، کیمرے اور دیگر پیشہ ورانہ اخراجات برداشت کرتا ہے۔ وہ بھی چاہتا ہے کہ اس کی محنت کی مناسب قدر ہو اور اس کا ادارہ معاشی طور پر مستحکم رہے۔

 

جب سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں کو مسلسل کوریج دینے کے باوجود ادارے کو مناسب اشتہارات نہ ملیں، ادائیگیاں وقت پر نہ ہوں اور ہر مرتبہ تعاون کی امید میں قیادت کے دروازے کھٹکھٹانے پڑیں، تو ایک صحافی کے لیے پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ مالی مشکلات سے نمٹنا بھی بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔

 

آخر وہ اپنی حالت کس کو بتائے؟ کس سے سوال کرے؟ کس دروازے پر دستک دے؟

اگر وہ سوال اٹھائے تو اسے ناراضگی کا اندیشہ، اگر خاموش رہے تو معاشی مشکلات کا سامنا، اور اگر اپنے حقوق کی بات کرے تو بعض اوقات اسے ناشکرا یا غیر تعاون کرنے والا سمجھا جاتا ہے۔ یہ صورتِ حال کسی بھی صحت مند جمہوری معاشرے کے لیے تشویش کا باعث ہونی چاہیے۔

 

اردو صحافی کو سیاسی قائدین کے نام اور تصاویر شائع کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے پیشے کی عزت، اپنے ادارے کی بقا اور عوام تک سچی خبر پہنچانے کے لیے کام کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔

 

اب فیصلہ مسلم اقلیتی قائدین کو کرنا ہے!

سیاسی جماعتوں سے وابستہ مسلم اقلیتی قائدین کے سامنے آج ایک اہم سوال ہے: کیا وہ اپنی سیاسی ترقی کو ہی کامیابی سمجھیں گے، یا اپنی زبان، اپنے صحافیوں اور اپنے معاشرے کے جائز مسائل کے لیے بھی آواز اٹھائیں گے؟

 

اگر ان کے پاس پارٹی قیادت تک رسائی ہے، تو اسے اردو میڈیا کے مسائل حل کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ اگر وہ اپنی جماعتوں میں اہم ذمہ داریاں رکھتے ہیں، تو ان ذمہ داریوں کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ اردو اخبارات اور نیوز چینلس کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر خاموش تماشائی بننے کے بجائے منصفانہ پالیسی کا مطالبہ کریں۔

 

سیاسی جماعتوں کو بھی سمجھنا ہوگا کہ اردو میڈیا کوئی انتخابی مہم کا عارضی آلہ نہیں، بلکہ ایک ایسی صحافتی آواز ہے جو معاشرے کے ایک بڑے طبقے تک خبریں، مسائل، حکومتی اقدامات اور سیاسی سرگرمیاں پہنچاتی ہے۔ اس آواز کو کمزور کرکے نہ اردو زبان کی خدمت کی جا سکتی ہے، نہ اقلیتی عوام کے ساتھ انصاف اور نہ ہی جمہوری ابلاغ کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

 

یاد رکھیے! اردو میڈیا کو نظر انداز کرکے اقلیتی ووٹوں کی قدر کا دعویٰ کرنا سیاسی تضاد ہے۔ اردو صحافی کی محنت سے فائدہ اٹھانا، مگر اس کے ادارے کی معاشی بقا سے لاتعلق رہنا، انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔

 

اب وقت آگیا ہے کہ مسلم اقلیتی قائدین محض اردو میں تقریریں کرنے اور اردو صحافیوں کے ساتھ تصاویر بنوانے سے آگے بڑھیں۔ اپنی سیاسی جماعتوں میں اردو میڈیا کے لیے مناسب اشتہارات، بروقت ادائیگیوں اور منصفانہ نمائندگی کی آواز بلند کریں۔

 

ورنہ آنے والا وقت یہ سوال ضرور پوچھے گا کہ جب اردو صحافت معاشی مشکلات سے دوچار تھی، جب اردو صحافی اپنے اداروں کو زندہ رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے، اور جب ان کے جائز مطالبات سیاسی ایوانوں تک پہنچائے جا سکتے تھے، تب ان قائدین نے اپنی سیاسی طاقت اور اثر و رسوخ کو کس مقصد کے لیے استعمال کیا؟

 

اردو میڈیا کو صرف ووٹ مانگنے کے موسم میں یاد نہ کیجیے؛ اس کی آواز، اس کے وقار اور اس کی معاشی بقا کو بھی اہمیت دیجیے۔ کیونکہ زبان کی عزت صرف نعروں سے نہیں، عملی رویوں سے ثابت ہوتی ہے۔