پینے کے پانی کی سربراہی اور ترقیاتی کاموں میں غفلت برداشت نہیں کی جائے گی ۔ضلع کلکٹر راجَرشی شاہ
عادل آباد، 2 نومبر(تلنگانہ وائس) ضلع کلکٹر راجَرشی شاہ نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ ضلع میں پینے کے پانی کی سربراہی میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہونے پائے اور تمام متعلقہ محکمے مکمل چوکس رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں انجام دیں۔

پیر کے روز کلکٹریٹ کے میٹنگ ہال میں مختلف محکموں کے عہدیداروں کے ساتھ منعقدہ جائزہ اجلاس میں کلکٹر نے پینے کے پانی کی سربراہی، مشن بھگیرتا کے کاموں، موٹروں اور پائپ لائنوں کی مرمت، بورویلز کی تنصیب، یاسنگی (رعبی) فصلوں کے لیے آبپاشی کے وسائل، برقی سربراہی اور آبی تحفظ سمیت مختلف اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔
Advertising

اس موقع پر کلکٹر نے کہا کہ ضلع کے مختلف علاقوں میں پینے کے پانی سے متعلق پیدا ہونے والے مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے۔ مشن بھگیرتا کے تحت زیر التواء تخمینوں کو جلد مکمل کرتے ہوئے ٹینڈر کے عمل میں تیزی لائی جائے۔ انہوں نے نشانہ گھاٹ سمیت دیگر علاقوں میں خراب بورویلز کی فوری مرمت کرنے اور جہاں برقی کنکشن موجود نہیں ہیں وہاں متبادل کے طور پر ہینڈ پمپس نصب کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پینے کے پانی کی اسکیموں کی دیکھ بھال میں لاپرواہی برتنے والے عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
کلکٹر نے ایس آر ایس پی کے تحت زیر التواء تجاویز اور انٹرا اسکیم کے تحت گھریلو پانی کنکشن سے متعلق تجاویز کو لائن تخمینوں اور دیگر ضروری تفصیلات کے ساتھ جامع انداز میں تیار کرنے کی ہدایت دی۔ لو اییلڈ علاقوں میں موسمی بورویلز پر خصوصی توجہ دینے اور قواعد کے خلاف کام کرنے والوں کے ساتھ غیر قانونی بورویلز کے خلاف بھی مناسب کارروائی کرنے کا حکم دیا۔
یاسنگی (رعبی) فصلوں کی کاشت کے پیش نظر کسانوں کے لحاظ سے آبپاشی کے ذرائع کی تفصیلات جمع کرنے اور کاشت کے دوران پانی کی قلت پیدا نہ ہونے کے لیے پیشگی اقدامات کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے بورویلز، کنوؤں اور لفٹ اریگیشن اسکیموں کی کارکردگی پر مسلسل نظر رکھنے پر بھی زور دیا۔
Advertising
اجلاس میں برقی، زراعت، روزگار ضمانت اور انجینئرنگ محکموں کے تحت زمینی سطح پر زیر التواء کاموں اور مقررہ اہداف کی تکمیل کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کلکٹر نے دیہات میں برقی سربراہی کی صورتحال اور کن دیہات میں اسٹریٹ لائٹس روشن ہیں، اس کی واضح تصاویر کے ساتھ رپورٹ فوری طور پر پیش کرنے کی ہدایت دی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ نومبر کے اختتام تک فارم پونڈس، اجتماعی و انفرادی واٹر ہارویسٹنگ اسٹرکچرس اور سوک پٹس کی تعمیرات کو صد فیصد مکمل کیا جائے۔ جنگلاتی، اجتماعی اور آبپاشی کی اراضی میں مناسب مقامات کی نشاندہی کرتے ہوئے بورویل ریچارج ڈھانچوں، سرکولیشن ٹینکس اور کنٹور ٹرینچس کے کاموں میں تیزی لائی جائے۔
Advertising
کلکٹر نے تمام محکموں کے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ ترقیاتی اور فلاحی اسکیموں کے اہداف کو باہمی تال میل کے ساتھ مقررہ مدت میں مکمل کریں۔
اس جائزہ اجلاس میں ایڈیشنل کلکٹرس آر ایس چترو، ایس راجیشور، ضلع زرعی عہدیدار رویندر، محکمہ برقی کے ایس ای سبھاش، ڈی آر ڈی او رویندر راٹھوڑ، مشن بھگیرتا ایس ای شراون کمار، آبپاشی ای ای بھیم راؤ، محکمہ زیر زمین آبی وسائل کے اے ڈی ستیش کمار، ضلع مویشی پروری عہدیدار راماراؤ، ڈی پی او رمیش، میونسپل کمشنر جگدیشور گوڑ، محکمہ باغبانی کے عہدیدار سندیپ سمیت دیگر ضلعی عہدیداروں اور انجینئرنگ عملے نے شرکت کی۔
تلنگانہ وائس | عادل آباد

