بی آر ایس کے دس سالہ دورِ اقتدار میں عادل آباد ضلع کے ساتھ شدید ناانصافی ہوئی ۔ نریش جادھو
کے ٹی آر کو کسانوں کے مسائل پر بات کرنے کا اخلاقی حق نہیں ۔ ڈی سی سی صدر ڈاکٹر نریش جادھو، اے ایم سی چیئرمین بورنچو سری کانت ریڈی کی دہلی میں پریس کانفرنس
عادل آباد۔2/نومبر(تلنگانہ وائس) عادل آباد ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر ڈاکٹر نریش جادھو کے ہمراہ عادل آباد مارکٹ کمیٹی کے چیئرمین بورنچو سری کانت ریڈی نے نئی دہلی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے بی آر ایس کے دس سالہ دورِ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس عرصے میں عادل آباد ضلع کی ترقی کے لیے کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ کے ٹی آر کو کسانوں کے مسائل پر بات کرنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی آر ایس کے دس سالہ دورِ اقتدار میں قبائلیوں اور دلتوں کی ترقی کو نظرانداز کیا گیا۔
اس کے علاوہ چناکا کوراٹا پراجیکٹ کی لاگت میں اضافے اور کالیشورم پراجیکٹ میں بے ضابطگیوں کی ذمہ داری بھی سابق حکومت پر عائد ہوتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی کی قیادت میں کانگریس حکومت اپنے وعدوں پر عمل کرتے ہوئے عوام کو فلاحی اسکیموں کے ثمرات پہنچا رہی ہے۔
Advertising

انہوں نے کہا کہ قبائلیوں اور دلتوں کی بڑی آبادی والے عادل آباد ضلع میں بی آر ایس حکومت نے دس سال کے دوران کم از کم ایک یونیورسٹی یا انجینئرنگ کالج قائم کرنے کی بھی کوشش نہیں کی۔
انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کے ٹی آر نے وزیر صنعت کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے باوجود ضلع میں ایک بھی صنعت قائم نہیں کروائی۔
انہوں نے بتایا کہ چناکا کوراٹا پراجیکٹ کی ڈی پی آر ابتدا میں 350 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کی گئی تھی، لیکن اب اس کی لاگت بڑھ کر تقریباً 2 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے اس اضافے کے لیے سابق بی آر ایس حکومت کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کے ٹی آر کو چیلنج کیا کہ وہ ذاتی تنقیدوں سے گریز کرتے ہوئے ترقیاتی امور پر مباحثے کے لیے آگے آئیں۔ بی آر ایس کے دس سالہ دورِ حکومت میں عادل آباد ضلع کے لیے کیے گئے کاموں پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی مقام پر مباحثے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی کی قیادت میں کانگریس حکومت عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کر رہی ہے۔
باریک چاول کی تقسیم، مفت برقی سربراہی، خواتین کے لیے مفت بس سفر اور 500 روپے میں گیس سلنڈر جیسی فلاحی اسکیموں کے فوائد عوام تک پہنچائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کانگریس حکومت کے پاس ابھی مزید دو سال کا وقت ہے اور وہ عوام سے کیے گئے ہر وعدے کو پورا کرنے کے لیے پابند عہد ہے۔اس پریس کانفرنس میں ٹی پی سی سی کے جنرل سکریٹریز درگم بھاسکر، اندراکرن ریڈی اور دیگر قائدین نے شرکت کی۔

