کے ٹی آر کی عادل آباد آمد پر گلابی رنگ میں رنگا شہر، مگر عوام کے ذہنوں میں ترقی سے متعلق سوالات!
رعیتو گرجنا میں کانگریس پر تنقید، دوسری جانب سوشل میڈیا پر بی آر ایس کے دس سالہ دورِ اقتدار میں عادل آباد کی ترقی کو نظرانداز کرنے پر عوام کے سوالات
عادل آباد۔یکم/نومبر(تلنگانہ وائس) آج بروز اتوار عادل آباد شہر کے ڈائیٹ گراؤنڈ میں بی آر ایس پارٹی کی جانب سے منعقدہ ’’رعیتو گرجنا‘‘ جلسے میں سابق وزیر اور بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے بحیثیت مہمانِ خصوصی شرکت کی، جہاں پارٹی قائدین اور کارکنوں کی جانب سے ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔
کے ٹی آر کی عادل آباد آمد کے موقع پر شہر کو گلابی رنگ میں رنگ دیا گیا۔ شہر کے مختلف مقامات پر گلابی جھنڈے، فلیکس اور ہورڈنگس نظر آئے، جبکہ بی آر ایس کارکنوں نے جلسے کو کامیاب بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر انتظامات کیے۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کانگریس حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اس کی ناکامیوں کو اجاگر کرتے ہوئے پارٹی کے موقف کو عوام کے سامنے رکھا۔
تاہم، ایک جانب جلسہ گاہ میں سیاسی تقاریر اور کانگریس حکومت پر تنقید جاری رہی تو دوسری جانب سوشل میڈیا پر عادل آباد کے عوام اور نوجوانوں نے کے ٹی آر سے ان کے سابقہ دورِ اقتدار میں ضلع کی ترقی کے حوالے سے سوالات اٹھائے۔ خصوصاً کے ٹی آر کے فیس بک پوسٹس پر کیے گئے تبصروں میں بی آر ایس کے دس سالہ دورِ حکومت کے دوران عادل آباد کو نظرانداز کیے جانے کے معاملے پر دلچسپ اور توجہ طلب سوالات سامنے آئے۔
عوام اور نوجوانوں کا سوال ہے کہ جب بی آر ایس تلنگانہ میں دس سال تک اقتدار میں رہی تو عادل آباد ضلع میں بڑے صنعتی ادارے کیوں قائم نہیں کیے گئے؟ ضلع میں آج بھی ایک بھی انجینئرنگ کالج نہ ہونے کی صورتِ حال کیوں برقرار ہے؟ اعلیٰ تعلیم اور روزگار کے لیے عادل آباد کے نوجوانوں کو دوسرے اضلاع اور ریاستوں کا رخ کیوں کرنا پڑ رہا ہے؟
سوشل میڈیا پر اٹھائے جانے والے سوالات میں یہ بات بھی نمایاں ہے کہ کیا بی آر ایس حکومت کے لیے صرف ورنگل اور کریم نگر جیسے اضلاع ہی ترجیحی اہمیت رکھتے تھے، یا عادل آباد کی ترقی بھی اس کی ترجیحات میں شامل تھی؟ اگر دیگر اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھایا گیا تو عادل آباد کو بڑے صنعتی منصوبوں، اعلیٰ تعلیمی اداروں اور روزگار کے مواقع سے محروم کیوں رکھا گیا؟
عوام کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتیں اقتدار میں رہتے ہوئے ترقی کے بڑے بڑے دعوے کرتی ہیں، لیکن عادل آباد جیسے اضلاع کے نوجوان آج بھی بہتر مستقبل کی تلاش میں نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کے مطابق، محض جلسوں میں تقاریر، سیاسی الزامات اور وعدوں سے ضلع کی تقدیر نہیں بدلی جا سکتی، بلکہ اس کے لیے عملی اقدامات، صنعتوں کا قیام، تعلیمی اداروں کا قیام اور مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرنا ضروری ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کانگریس حکومت کی ناکامیوں پر تنقید کرنے والے کے ٹی آر عادل آباد کے عوام کے ان سوالات کا جواب کب دیں گے؟ کیا بی آر ایس اپنے سابقہ دس سالہ دورِ اقتدار میں ضلع کی ترقی کے حوالے سے اپنی کارکردگی عوام کے سامنے رکھے گی، یا عادل آباد کے نوجوانوں کو ایک بار پھر وعدوں اور یقین دہانیوں پر ہی اکتفا کرنا پڑے گا؟
عادل آباد کے عوام کو سیاسی تقاریر سے زیادہ ترقیاتی منصوبوں، صنعتوں، انجینئرنگ کالج اور روزگار کے مواقع کی ضرورت ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ سیاسی جماعتیں عادل آباد کی ترقی کے معاملے میں اپنی ذمہ داریوں کا واضح جواب دیں۔

