عادل آباد بلدیہ میں 43.18 کروڑ روپے کے ترقیاتی کاموں کے ٹینڈروں پر سیاسی رسہ کشی
من پسند ٹھیکیداروں کو کام دلانے کی مبینہ کوششیں، ٹینڈر کھولنے میں 20 دن کی تاخیر؛ 48 ٹھیکیداروں نے بولیاں داخل کیں
تلنگانہ وائس اسپیشل رپورٹ
عادل آباد | 17 اکتوبر 2026 | تلنگانہ وائس
عادل آباد شہر میں 43.18 کروڑ روپے کی لاگت سے انجام دیے جانے والے ترقیاتی کاموں کے ٹینڈروں کے معاملے میں مبینہ طور پر سیاسی مداخلت اور پس پردہ سرگرمیاں جاری ہیں۔ الزام ہے کہ بعض سیاسی قائدین اپنے من پسند ٹھیکیداروں کو کام دلانے اور دیگر ٹھیکیداروں کو مقابلے سے باہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ٹینڈر کا عمل تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔ ضابطوں کے مطابق گزشتہ ماہ 24 ستمبر کو ٹینڈر کھولنے کے بعد مقررہ طریقۂ کار کے تحت کامیاب بولی دہندگان کے ساتھ معاہدے کیے جانے تھے، تاہم 20 دن گزرنے کے باوجود ٹینڈر کھولنے میں تاخیر کی اطلاعات ہیں۔
43.18 کروڑ روپے سے 88 ترقیاتی کام
عادل آباد بلدیہ کو تلنگانہ اربن فنانس اینڈ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ کارپوریشن (TUFIDC) اسکیم کے تحت گزشتہ اپریل میں 30 کروڑ روپے اور جولائی میں 13.18 کروڑ روپے منظور کیے گئے تھے۔ اس طرح مجموعی طور پر 43.18 کروڑ روپے سے شہر کے مختلف وارڈوں میں سی سی اور بٹیومینس سڑکوں، ڈرینیج نالوں، کلورٹس اور دیگر بنیادی سہولتوں سے متعلق 88 کام انجام دینے کا منصوبہ بنایا گیا۔
Advertising

30 کروڑ روپے کے تحت 38 کاموں کو تین پیکیجوں میں تقسیم کیا گیا، جبکہ 13.18 کروڑ روپے کے تحت 50 کاموں کو آٹھ پیکیجوں میں شامل کیا گیا۔ محکمہ صحتِ عامہ و میونسپل انجینئرنگ کے ایگزیکٹیو انجینئر کی نگرانی میں ان کاموں کے لیے ٹینڈرس طلب کیے گئے تھے۔ ان ٹینڈرس میں مجموعی طور پر 48 ٹھیکیداروں نے بولیاں داخل کیں۔
سیاسی مداخلت کے الزامات، ٹینڈر عمل میں تاخیر
رپورٹ کے مطابق، ٹینڈر کا تکنیکی مرحلہ مکمل ہونے کے بعد مقررہ شرائط پوری کرنے والے اہل ٹھیکیداروں کی بولیوں کی بنیاد پر معاہدے اور ورک آرڈرس جاری کیے جانے تھے۔ تاہم، مبینہ طور پر بعض ٹھیکیداروں نے اپنے پسندیدہ کام حاصل کرنے کے لیے سیاسی قائدین سے رجوع کیا۔ الزام ہے کہ ریاستی سطح کے بعض قائدین کی مداخلت کے بعد ٹینڈر کھولنے کا عمل مؤخر کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض ٹھیکیداروں کو دوسرے کام دلانے کا وعدہ کرتے ہوئے مخصوص کام چھوڑ دینے کے لیے راضی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر وہ آمادہ نہ ہوں تو ٹینڈر کی شرائط میں کسی خامی کا حوالہ دے کر انہیں مقابلے سے باہر کرنے کی کوششوں کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔
ترقیاتی کام متاثر ہونے کا خدشہ
بنگاری گوڑہ میں سی سی سڑکوں اور ڈرینیج نالوں کی تعمیر کے لیے بھی TUFIDC اسکیم کے تحت ایک کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ٹینڈروں میں تاخیر کے باعث شہر میں بنیادی سہولتوں کی ترقی کے کام متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اہم سوال؟ کیا متعلقہ حکام ٹینڈر کے عمل میں تاخیر کی وجوہات واضح کرتے ہوئے شفافیت اور قواعد کے مطابق تمام اہل ٹھیکیداروں کو یکساں مواقع فراہم کریں گے؟
خبروں کی دنیا میں ایک نیا اور معتبر نام — تلنگانہ وائس
سچ، اعتماد اور عوامی مسائل کی مؤثر ترجمانی
Telangana Voice – Delivering Truth, Empowering People
Advertising & News
WhatsApp 8919329620
#Adilabad #TelanganaVoice #MunicipalDevelopment #TUFIDC #AdilabadMunicipality

