عادل آباد ضلع میں خشک سالی کے سائے، 16 منڈلوں میں شدید قحط کا خدشہ ایل نینو کے اثرات سے زیرِ زمین پانی کی سطح میں کمی، کپاس کی پیداوار متاثر ہونے کا اندیشہ؛ حکومت سے فوری طور پر خشک سالی کا اعلان کرنے کا مطالبہ

عادل آباد ضلع میں خشک سالی کے سائے، 16 منڈلوں میں شدید قحط کا خدشہ

ایل نینو کے اثرات سے زیرِ زمین پانی کی سطح میں کمی، کپاس کی پیداوار متاثر ہونے کا اندیشہ؛ حکومت سے فوری طور پر خشک سالی کا اعلان کرنے کا مطالبہ

 

عادل آباد، 16/ اکتوبر(خضر احمد یافعی کی رپورٹ)

تلنگانہ کے عادل آباد ضلع میں ایل نینو کے اثرات کے باعث خشک سالی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ کم بارش، آبی ذخائر میں کمی اور فصلوں کی پیداوار کے ابتدائی اندازوں کی بنیاد پر ضلع کے 16 منڈلوں میں خشک سالی کی سنگین صورتحال کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

حکام نے اس سلسلے میں حکومت کو رپورٹ پیش کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔اطلاعات کے مطابق ضلع کے بھیم پور، گادی گوڑہ، نارنور، اندراویلی، گڈی ہتنور، عادل آباد رورل، عادل آباد اربن، موالا، تامسی، بازار ہتنور، بوتھ، نیراڈی گونڈہ، ایچوڑہ، اوٹنور، سونالا اور بھورج منڈلوں میں خشک سالی کے شدید آثار پائے گئے ہیں۔

 

پانی کی قلت کے پیش نظر بھیم پور منڈل کے نیپانی گرام پنچایت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ موٹروں کا استعمال صرف پینے کے پانی اور مویشیوں کی پیاس بجھانے کے لئے کیا جائے اور دیگر ضروریات کے لئے پانی استعمال نہ کیا جائے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا انتباہ بھی دیا گیا ہے۔اسی طرح بیلا منڈل کے تحصیلدار اور منڈل پریشد ڈیولپمنٹ آفیسر نے مشترکہ اپیل جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے گرنے کے باعث ندی نالوں، چھوٹی آبپاشی نہروں اور تالابوں میں برقی موٹروں یا آئل انجنوں کا استعمال نہ کیا جائے۔ خلاف ورزی کی صورت میں موٹریں اور دیگر سامان ضبط کرنے اور جرمانہ عائد کرنے کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھیم پور منڈل میں گزشتہ تین ماہ کے دوران صرف 20 دن بارش ہوئی۔ جون سے ستمبر کے درمیان تین مرتبہ خشک وقفے (Dry Spell) کی صورتحال پیدا ہوئی، جس میں مسلسل 21 دن تک بارش نہیں ہوئی۔ بارش کی کمی کے سبب کسانوں کو کپاس کی پیداوار میں بھاری نقصان کا خدشہ ہے۔

Advertising

کسانوں کا کہنا ہے کہ فی ایکڑ دو کوئنٹل کپاس حاصل ہونا بھی مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ دوسری جانب تلامڈگو، جینتھ، بیلا، سری کونڈہ اور سات نالا منڈلوں میں اگرچہ خشک وقفے کی صورتحال درج نہیں کی گئی، تاہم حکام کے مطابق ان علاقوں میں بھی بارش کی کمی کے اثرات نمایاں ہیں۔

 

عادل آباد کے پڑوسی ریاست مہاراشٹر میں حکومت نے پہلے ہی خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کا اعلان کر دیا ہے۔ سرحد سے متصل ناندیڑ، ایوت محل اور چندراپور اضلاع کے متاثرہ علاقوں میں امدادی اقدامات کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ عادل آباد ضلع کے عوام نے تلنگانہ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر خشک سالی کا اعلان کیا جائے اور متاثرہ کسانوں و عوام کو راحت فراہم کرنے کے لئے ضروری اقدامات کئے جائیں۔