کندی سرینواس ریڈی بی جے پی کے نمائندہ، ریونت ریڈی کا جھکاؤ آر ایس ایس کی طرف ۔ بھارگو دیش پانڈے
پائل شنکر سے وزیر اعلیٰ کی دوستی پر سوال، کانگریس کی تلنگانہ سیاست پر سخت تنقید؛ متحدہ عادل آباد کے 10 اسمبلی حلقوں میں کانگریس کو ایک بھی نشست نہ جیتنے دینے کا چیلنج
عادل آباد۔26/اکتوبر(تلنگانہ وائس ڈیسک)بی آر ایس میں شمولیت کے بعد نوجوان سیاسی قائد بھارگو دیش پانڈے نے کانگریس اور بی جے پی کی سیاسی حکمت عملی پر سخت تنقید کرتے ہوئے تلنگانہ کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ انہوں نے کانگریس قائد کندی سرینواس ریڈی کو بی جے پی کا نمائندہ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جب کانگریس میں کئی سینئر قائدین موجود ہیں تو پھر بی جے پی سے کانگریس میں آنے والے ایک نئے چہرے کو اسمبلی انتخابات میں ٹکٹ دینا کہاں تک درست ہے؟ انہوں نے بی جے پی کے عادل آباد رکن اسمبلی پائل شنکر اور وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کے درمیان مبینہ قربت پر بھی سوالات اٹھائے۔
عادل آباد میں بی آر ایس پارٹی دفتر میں اتوار کے روز منعقدہ میڈیا کانفرنس سے بات کرتے ہوئے بھارگو دیش پانڈے نے کہا کہ راہول گاندھی کی دہلی کی سیاست اور ریونت ریڈی کی تلنگانہ کی سیاست میں واضح فرق ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کا جھکاؤ آر ایس ایس اور بی جے پی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر یہی سیاسی طرزِ عمل جاری رہا تو ریونت ریڈی ایک دن خود تلنگانہ میں کانگریس کو سیاسی طور پر نقصان پہنچانے کا سبب بنیں گے۔
Advertising

شاندار تقریبات کا بہترین مرکز—ڈبلیو کنوینشن ہال،اے سی، نان اے سی انکولی روڈ، عادل آباد
بھارگو دیش پانڈے نے آئندہ اسمبلی انتخابات کے حوالے سے بڑا سیاسی چیلنج پیش کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عادل آباد ضلع کے تمام 10 اسمبلی حلقوں میں کانگریس کو ایک بھی نشست جیتنے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ ان کے اس بیان کو بی آر ایس کی جانب سے آئندہ انتخابات کے لیے سیاسی صف بندی اور کارکنوں کو متحرک کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید اعلان کیا کہ یکم نومبر کو عادل آباد میں منعقد ہونے والی ’رعیتو گرجنا‘ کسان ریلی کے موقع پر سابق وزیر و بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ (کے ٹی آر) کی موجودگی میں کانگریس سے وابستہ یوتھ کانگریس قائدین سمیت سینکڑوں افراد بی آر ایس میں شامل ہوں گے۔
سابق وزیر و بی آر ایس کے ضلع صدر جوگو رامنا نے اعلان کیا ہے کہ یکم نومبر کو عادل آباد کے ڈائٹ میدان میں شام 5:30 بجے ’رعیتو گرجنا‘ ریلی منعقد کی جائے گی۔ اس سلسلے میں پارٹی کے ضلعی دفتر میں جوگو رامنا اور بھارگو دیش پانڈے نے ریلی کے پوسٹرس جاری کیے اور عوام، کسانوں، پارٹی قائدین اور کارکنوں سے بڑی تعداد میں شرکت کی اپیل کی۔جوگو رامنا نے کانگریس کی ریاستی اور بی جے پی کی مرکزی حکومت پر کسانوں کے مسائل نظرانداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کو رعیتو بندھو اور رعیتو بیمہ اسکیموں کے فوائد جاری رکھنا، قرض معاف کرنا اور فصلوں کے نقصان کا معاوضہ ادا کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی اور آبپاشی کے پانی کی قلت سے کسان پریشان ہیں، لیکن حکومتیں انہیں مناسب راحت فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔
واضح رہے کہ بھارگو دیش پانڈے نے حال ہی میں حیدرآباد میں کے ٹی آر کی موجودگی میں بی آر ایس میں شمولیت اختیار کی۔ وہ سابق ریاستی صدر این ایس یو آئی اور سابق صدر ضلع کانگریس کمیٹی عادل آباد رہ چکے ہیں۔ ان کی بی آر ایس میں شمولیت اور کانگریس قیادت پر تازہ تنقید کے بعد ضلع کی سیاست میں سرگرمیاں تیز ہونے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔سیاسی حلقوں کی نظر اب یکم نومبر کی کسان ریلی پر مرکوز ہے، جہاں بی آر ایس قیادت کسانوں کے مسائل کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ نئی سیاسی شمولیتوں کے ذریعے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ تاہم، بھارگو دیش پانڈے کے الزامات اور انتخابی دعوؤں پر کانگریس، کندی سرینواس ریڈی اور پائل شنکر کا ردعمل سامنے آنے پر سیاسی بحث مزید واضح ہوگی۔

