عادل آباد میں غیر قانونی تعمیرات عروج پر، میونسپل حکام کی کارروائی صرف نوٹس تک محدود ۔ منظور شدہ نقشوں کی خلاف ورزی، رہائشی اجازت کی آڑ میں کمرشل تعمیرات؛ 96 غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی، 89 معاملات زیر التوا

عادل آباد میں غیر قانونی تعمیرات عروج پر، میونسپل حکام کی کارروائی صرف نوٹس تک محدود

عادل آباد، 25 اگست (تلنگانہ وائس) عادل آباد میونسپل حدود میں غیر قانونی اور بغیر اجازت تعمیرات کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ کئی علاقوں میں منظور شدہ نقشوں کے برخلاف اضافی منزلیں تعمیر کی جارہی ہیں، جبکہ رہائشی عمارتوں کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی بھی شکایات سامنے آرہی ہیں۔

ایمپلائز کالونی میں ایک عمارت کے لیے صرف گراؤنڈ فلور کی اجازت حاصل کی گئی تھی، تاہم اس وقت اوپری منزل کی تعمیر جاری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ اجازت نامے کی مدت بھی ختم ہوچکی ہے۔ اسی طرح 13ویں وارڈ کے سبھاش نگر میں رہائشی مکان کی اجازت حاصل کرکے عمارت کو تجارتی استعمال کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔

Advertising

نئے میونسپل قوانین کے مطابق مکان کے اوپر غیر مجاز پینٹ ہاؤس کی تعمیر قواعد کی خلاف ورزی ہے، لیکن 41ویں وارڈ میں ایک تین منزلہ عمارت پر مبینہ طور پر بغیر اجازت پینٹ ہاؤس تعمیر کیا جارہا ہے۔

بفر زون اور ڈرینیج لائن پر بھی تعمیرات

عادل آباد شہر میں بعض تعمیرات حساس مقامات پر بھی کیے جانے کی شکایات ہیں۔ ایک کمرشل عمارت دسناپور بریج سے متصل بفر زون میں تعمیر کیے جانے کا ذکر ہے، جبکہ ایک اور عمارت بس اسٹینڈ کے قریب میونسپل ڈرینیج لائن کے اوپر تعمیر کی گئی۔ حکام کی جانب سے بعض تعمیرات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے معاملہ ڈسٹرکٹ ٹاسک فورس کمیٹی کو بھیجے جانے کے باوجود طویل عرصے سے کارروائی نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

96 غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی

میونسپل حدود میں اب تک 96 غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان میں سے 35 کو نوٹس جاری کیے گئے، 7 تعمیرات منہدم کی گئیں، جبکہ 89 معاملات زیر التوا بتائے گئے ہیں۔

Advertising

غیر قانونی تعمیرات کی شکایات منی پور، ایمپلائز کالونی، تروملا نگر، بھگوتی نگر، نیو ہاؤسنگ بورڈ، گرین ویلی، جوبلی ہلز، بنجارہ ہلز اور رام نگر سمیت مختلف علاقوں سے سامنے آرہی ہیں۔ الزام ہے کہ بعض مقامات پر ڈرینیج چینلز اور بفر زونز کی بھی پابندی نہیں کی جارہی۔

Advertising

کہاں ہے ڈسٹرکٹ ٹاسک فورس؟

غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کے لیے حکومت کی جانب سے ڈسٹرکٹ ٹاسک فورس کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس میں میونسپل، ریونیو، آر اینڈ بی، فائر اور پولیس محکموں کے عہدیدار شامل ہیں۔ کمیٹی کو ہر 15 دن میں غیر قانونی تعمیرات سے متعلق شکایات کا جائزہ لینے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

Advertising

تاہم مقامی سطح پر یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران کمیٹی کے اجلاس اور کارروائیوں کا ریکارڈ کیوں سامنے نہیں آیا۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بروقت کارروائی نہ کی گئی تو مستقبل میں سنگین مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

شکایت کے بعد ہی کارروائی کیوں؟

ٹاؤن پلاننگ حکام پر الزام ہے کہ وہ اکثر عوامی شکایات موصول ہونے کے بعد ہی موقع کا معائنہ کرتے اور نوٹس جاری کرتے ہیں، جبکہ مستقل فیلڈ نگرانی اور فوری نفاذِ قانون پر توجہ کم ہے۔ عملے کی کمی کو بھی کارروائی میں تاخیر کی ایک وجہ بتایا جاتا ہے۔

ٹی پی ایس نوین کمار کے مطابق، غیر قانونی تعمیرات سے متعلق شکایات موصول ہوتے ہی متعلقہ مقامات کا معائنہ کیا جاتا ہے اور قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر مالکان کو نوٹس جاری کیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق معاملات اعلیٰ حکام کے علم میں لائے جارہے ہیں اور حالیہ عرصے میں متعدد غیر قانونی تعمیرات کے خلاف انہدامی کارروائی بھی کی گئی ہے۔

غیر قانونی تعمیرات کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر میونسپل حکام کی نگرانی اور ڈسٹرکٹ ٹاسک فورس کی فعالیت پر شہریوں کی نظریں مرکوز ہیں۔