نرمل خانہ پور میں اردو صحافیوں کا ریاستی سطح کا اجلاس کامیابی سے اختتام پذیر
اردو صحافیوں کو ’’اردو کا مجاہد‘‘ قرار دیتے ہوئے ایم اے ماجد کا متحرک رہنے کا مشورہ، صحافتی مسائل کے حل اور ڈیجیٹل میڈیا کے مؤثر استعمال پر زور
عادل آباد، 4/ ستمبر (تلنگانہ وائس ڈیسک) تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن ریاست تلنگانہ کے زیر اہتمام اردو صحافیوں کا ایک اہم ریاستی سطح کا اجلاس ضلع نرمل کے خانہ پور میں واقع ایک خانگی فنکشن ہال میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں اضلاع عادل آباد، نرمل اور نظام آباد کے علاوہ مختلف منڈلس سے تعلق رکھنے والے فیڈریشن کے ذمہ داران اور اردو صحافیوں نے شرکت کی۔ اجلاس پرامن ماحول میں کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

اجلاس کا آغاز تلاوتِ قرآنِ کریم اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا۔ بعد ازاں نرمل ضلع فیڈریشن کے صدر حافظ وسیم نے حمدِ باری تعالیٰ پیش کرتے ہوئے افتتاحی کلمات ادا کیے اور اجلاس کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔


اجلاس کے دوران مختلف اضلاع اور منڈلس سے شرکت کرنے والے اردو صحافیوں نے اپنے اپنے علاقوں میں درپیش مسائل سے ریاستی ذمہ داران کو واقف کروایا اور صحافتی میدان میں پیش آنے والی مشکلات، عملی دشواریوں اور دیگر امور پر اپنی تجاویز پیش کیں۔

ریاستی سطح کے اجلاس میں تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن کے ریاستی صدر ایم اے ماجد، ریاستی جنرل سکریٹری سید غوث محی الدین کے علاوہ ریاستی سطح کے دیگر ذمہ داران نے بحیثیت مہمانانِ خصوصی شرکت کی۔
اردو صحافی ’’اردو کے مجاہد‘‘ ہیں: ایم اے ماجد
اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے ریاستی صدر ایم اے ماجد نے عادل آباد، نظام آباد اور نرمل اضلاع کے صحافیوں کو اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے اسے کامیاب بنانے پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے اضلاع کے اردو صحافیوں کی صحافتی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں ’’اردو کا مجاہد‘‘ قرار دیا۔
Advertising

ایم اے ماجد نے کہا کہ اگر اردو صحافی مقامی سطح پر اپنی صحافتی خدمات کو پوری ذمہ داری اور تسلسل کے ساتھ انجام دیتے ہوئے متحرک رہیں تو نہ صرف ان کی اپنی شناخت مستحکم ہوگی بلکہ اردو صحافت کو بھی مزید تقویت حاصل ہوگی۔
Advertising

انہوں نے کہا کہ اردو صحافیوں کو مختلف سطحوں پر کئی طرح کے چیلنجس کا سامنا رہتا ہے۔ بعض اوقات مسائل حکومت کی جانب سے، بعض مرتبہ ضلعی انتظامیہ یا سیاسی قائدین کی جانب سے اور کبھی کبھار اپنے ہی حلقے سے پیدا ہوتے ہیں۔ ایسے حالات کا مقابلہ ہمت و حوصلہ، بلند عزم، واضح اہداف اور مثبت اقدامات کے ذریعے کرنے کی ضرورت ہے۔
Advertising

صحافی اپنا یوٹیوب چینل شروع کریں
ریاستی صدر نے اردو صحافیوں کو مشورہ دیا کہ وہ اخبارات یا نیوز چینلوں سے وابستہ رہتے ہوئے اپنا ذاتی یوٹیوب چینل بھی شروع کریں اور ڈیجیٹل میڈیا کے مواقع سے بھرپور استفادہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز صحافیوں کے لیے اپنی شناخت بنانے اور خبریں زیادہ سے زیادہ عوام تک پہنچانے کا مؤثر ذریعہ بن چکے ہیں۔

انہوں نے اردو اور اردو صحافیوں کو درپیش مختلف چیلنجس کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے ان سے نمٹنے کے لیے عملی راستوں کی نشاندہی کی اور صحافیوں کو وقت کے تقاضوں کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو فروغ دینے کا مشورہ دیا۔

ایکریڈیٹیشن، ہیلتھ اسکیم سے اے آئی تک مختلف امور پر گفتگو
ایم اے ماجد نے اپنے خطاب میں اردو صحافیوں کے اراضی سے متعلق مسائل، ایکریڈیٹیشن کارڈس، ہیلتھ اسکیم، تعلیم، تربیتی کلاسس، آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کی تربیت، سوشل میڈیا کے مؤثر استعمال، ضلعی انتظامیہ سے بہتر تعلقات، عدالتی مسائل، بس پاسس اور دیگر اہم امور پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
انہوں نے صحافیوں پر زور دیا کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کریں، جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل میڈیا سے واقفیت حاصل کریں اور اپنے اپنے اضلاع میں متحرک رہتے ہوئے عوامی مسائل کو اجاگر کرنے میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔
عادل آباد اور نرمل کے صحافیوں کے مسائل پیش
اس موقع پر ریاستی نائب صدر اعجاز احمد خان اور عادل آباد ضلع فیڈریشن کے صدر شاہد احمد توکل نے ریاستی ذمہ داران کی خدمات کو سراہتے ہوئے اردو صحافیوں کے مسائل کے حل اور صحافتی برادری کی فلاح و بہبود کے لیے کی جانے والی کوششوں کی ستائش کی۔ انہوں نے عادل آباد ضلع کے اردو صحافیوں کو درپیش مختلف مسائل اور مشکلات کو ریاستی ذمہ داران کے سامنے پیش کیا اور ان کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس میں شریک صحافیوں نے مختلف مسائل اور تجاویز پیش کیں، جن پر ریاستی صدر ایم اے ماجد اور قادر فیصل نے تفصیلی جواب دیتے ہوئے ممکنہ حل اور آئندہ کے لائحہ عمل پر رہنمائی کی۔
ریاستی ذمہ داران کی تہنیت
اجلاس کے اختتام پر تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن کے ریاستی ذمہ داران کو شال پوشی اور گلپوشی کے ذریعے تہنیت پیش کی گئی، جبکہ یادگاری مومینٹو بھی پیش کیے گئے۔
ریاستی سطح کے اجلاس کے بہترین انتظامات اور کامیاب انعقاد پر ریاستی ذمہ داران نے نرمل اور خانہ پور کے اردو صحافیوں کا شکریہ ادا کیا۔
آخر میں حافظ وسیم شکیل کے کلماتِ تشکر کے ساتھ اجلاس کا اختتام عمل میں آیا۔ اجلاس مجموعی طور پر پرامن ماحول میں کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
Advertising


