رمس سانحہ: پانچ شیر خوار بچوں کی موت پر کویتا کا دورہ، حکومت پر سخت تنقید
عادل آباد، 23 /ستمبر (تلنگانہ وائس)عادل آباد کے رمس اسپتال کے SNCU میں پیش آئے آتشزدگی کے واقعہ میں جملہ پانچ شیر خوار بچوں کی موت کے بعد تلنگانہ رکشا سینا کی چیف کلواکنتلا کویتا نے چہارشنبہ کو رمس اسپتال کا دورہ کیا۔ کویتا نے حادثہ کے مقام پر واقع اسپیشل نیوبورن کیئر یونٹ (SNCU) کا معائنہ کیا اور متاثرہ بچوں کے افرادِ خاندان سے ملاقات کرتے ہوئے ان سے اظہارِ ہمدردی کیا۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے کویتا نے حکومت پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ رمس میں بچوں کی اموات حکومت کی مبینہ لاپرواہی کا نتیجہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ اسپتال میں موجود بنیادی سہولیات اور انتظامی خامیوں پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔
Advertising

کویتا نے دعویٰ کیا کہ رمس میں گزشتہ سال 204 اور اس سے قبل 174 بچوں کی موت ہوئی تھی اور حکومت کو اسپتال کے حالات کا جامع جائزہ لے کر ضروری اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے ایجنسی علاقوں سے اسپتال پہنچنے کے لیے مناسب سڑکوں کی عدم دستیابی کا بھی مسئلہ اٹھایا۔
Advertising

متاثرہ خاندانوں کو 50 لاکھ روپے ایکس گریشیا کا مطالبہ
کویتا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ رمس سانحہ میں جان گنوانے والے ہر بچے کے خاندان کو 50 لاکھ روپے ایکس گریشیا دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو فوری مالی امداد فراہم کی جانی چاہیے۔
Advertising

انہوں نے رمس میں ڈاکٹرس، نرسنگ اور صفائی کے عملے کی کمی کا بھی دعویٰ کیا اور کہا کہ اسپتال میں موجود طبی و تکنیکی سہولیات کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔
کویتا نے مزید کہا کہ صحت کے شعبہ سے متعلق مسائل کا جائزہ لینے کے لیے ان کی جانب سے عادل آباد ضلع میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جو اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ انہوں نے ریاست کے تمام سرکاری اسپتالوں میں فارنزک آڈٹ اور حفاظتی جائزہ کرانے کا مطالبہ بھی کیا۔
حکومت کو ایک ماہ کی مہلت دینے کا اعلان
کویتا نے کہا کہ حکومت کو ایک ماہ کا وقت دیا جا رہا ہے کہ رمس کے زیرِ التوا بلوں کی ادائیگی کی جائے اور ایجنسی علاقوں میں سڑکوں کے مسائل حل کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مطالبات پر کارروائی نہیں کی گئی تو ایجنسی علاقوں کے قبائلی عوام کے ساتھ مل کر عادل آباد میں احتجاج کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ رمس کے SNCU میں 22 ستمبر کو AC یونٹ میں شارٹ سرکٹ کے بعد آگ اور دھواں پھیل گیا تھا۔ ابتدائی طور پر ایک شیر خوار بچے کی موت کی اطلاع سامنے آئی تھی، جبکہ بعد میں اموات کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ حکومت نے واقعہ کی جامع تحقیقات اور حفاظتی آڈٹ کے احکامات دیے ہیں۔
۔………………………..,…………….
نوٹ: کویتا کی جانب سے عملے کی کمی، ₹500 کروڑ بقایاجات اور گزشتہ برسوں میں بچوں کی اموات کے اعداد و شمار جیسے دعوے ان کے بیان کے طور پر رپورٹ کیے گئے ہیں؛ انہیں آزادانہ طور پر تصدیق شدہ سرکاری اعداد و شمار کے طور پر پیش نہیں کیا گیا ہے۔

