عادل آباد میں گنیش وسرجن شوبھا یاترا تقریباً 6 گھنٹے تک رکی رہی پولیس پابندیوں کے خلاف ہندو تنظیموں کا احتجاج، امبیڈکر چوک پر دھرنا؛ کلکٹر کی یقین دہانی کے بعد یاترا دوبارہ شروع

عادل آباد میں گنیش وسرجن شوبھا یاترا تقریباً 6 گھنٹے تک رکی رہی

پولیس پابندیوں کے خلاف ہندو تنظیموں کا احتجاج، امبیڈکر چوک پر دھرنا؛ کلکٹر کی یقین دہانی کے بعد یاترا دوبارہ شروع

عادل آباد۔26/ستمبر(تلنگانہ وائس) عادل آباد میں گنیش وسرجن شوبھا یاترا کے دوران جمعہ کی نصف شب کشیدہ صورتحال پیدا ہوگئی۔ امبیڈکر چوک پر شوبھا یاترا کو آگے بڑھانے کے معاملے میں پولیس کی جانب سے عائد پابندیوں کے خلاف ہندو تنظیموں کے نمائندوں اور گنیش اتسو سمیتی کے ارکان نے احتجاج شروع کردیا۔

احتجاج کرنے والوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے بینڈ باجوں کے فنکاروں اور اتسو سمیتی کے ارکان پر دباؤ ڈالا، جبکہ چار افراد کو حراست میں لینے کے علاوہ بعض مقامات پر مقدمات بھی درج کیے گئے۔ پولیس کے طرزعمل کے خلاف ہندو اتسو سمیتی نے احتجاج کرتے ہوئے مظاہرین نے امبیڈکر چوک پر دھرنا دے دیا اور واضح کیا کہ ایس پی کے موقع پر پہنچ کر گنیش مورتی کے سامنے پوجا کرنے تک شوبھا یاترا کو آگے بڑھنے نہیں دیا جائے گا۔

ڈی ایس پی، اے ایس پی اور ایڈیشنل کلکٹر نے موقع پر پہنچ کر مظاہرین کو سمجھانے کی کوشش کی، تاہم ہفتہ کی صبح تک شوبھا یاترا رکی رہی۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے وہیں ہنومان چالیسہ کا پاٹھ بھی کیا۔

Advertising

بعد ازاں ضلع کلکٹر راجرشی شاہ اور رکن اسمبلی پائل شنکر امبیڈکر چوک پہنچے اور احتجاج کرنے والوں سے بات چیت کی۔ ہندو تنظیموں کے قائدین نے کلکٹر کو بتایا کہ ہر سال پرامن انداز میں گنیش اتسو منایا جاتا ہے، لیکن اس مرتبہ پولیس کی جانب سے پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ مقدمات بھی درج کیے گئے۔

مظاہرین نے بجلی کی سربراہی منقطع کرنے اور پینے کے پانی کی سہولت فراہم نہ کرنے کی بھی شکایت کی۔ کلکٹر راجرشی شاہ نے واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مکمل تحقیقات کرانے اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

کلکٹر نے پولیس کو حراست میں لیے گئے نوجوانوں کو رہا کرنے کی ہدایت دی اور واضح کیا کہ شوبھا یاترا کے سلسلے میں کسی کے خلاف مقدمات درج نہیں کیے جائیں گے۔ اس کے بعد کلکٹر نے ناریل توڑ کر شوبھا یاترا کا دوبارہ آغاز کیا۔

Advertising

تقریباً 6 گھنٹے تک رکی رہنے والی شوبھا یاترا دوبارہ شروع ہونے کے بعد صورتحال معمول پر آگئی۔ ہفتہ کی صبح تقریباً 10:30 بجے مہاراشٹرا سرحد سے متصل پین گنگا ندی میں عادل آباد شہر کی گنیش مورتیوں کے وسرجن کا عمل شروع ہوا۔عادل آباد میں گنیش وسرجن شوبھا یاترا تقریباً 6 گھنٹے تک رکی رہی

پولیس پابندیوں کے خلاف ہندو تنظیموں کا احتجاج، امبیڈکر چوک پر دھرنا؛ کلکٹر کی یقین دہانی کے بعد یاترا دوبارہ شروع

عادل آباد، آندھرا پربھا: عادل آباد میں گنیش وسرجن شوبھا یاترا کے دوران جمعہ کی نصف شب کشیدہ صورتحال پیدا ہوگئی۔ امبیڈکر چوک پر شوبھا یاترا کو آگے بڑھانے کے معاملے میں پولیس کی جانب سے عائد پابندیوں کے خلاف ہندو تنظیموں کے نمائندوں اور گنیش اتسو سمیتی کے ارکان نے احتجاج شروع کردیا۔

احتجاج کرنے والوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے بینڈ باجوں کے فنکاروں اور اتسو سمیتی کے ارکان پر دباؤ ڈالا، جبکہ چار افراد کو حراست میں لینے کے علاوہ بعض مقامات پر مقدمات بھی درج کیے گئے۔ پولیس کے طرزعمل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مظاہرین نے امبیڈکر چوک پر دھرنا دے دیا اور واضح کیا کہ ایس پی کے موقع پر پہنچ کر گنیش مورتی کے سامنے پوجا کرنے تک شوبھا یاترا کو آگے بڑھنے نہیں دیا جائے گا۔

ڈی ایس پی، اے ایس پی اور ایڈیشنل کلکٹر نے موقع پر پہنچ کر مظاہرین کو سمجھانے کی کوشش کی، تاہم ہفتہ کی صبح تک شوبھا یاترا رکی رہی۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے وہیں ہنومان چالیسہ کا پاٹھ بھی کیا۔

بعد ازاں ضلع کلکٹر راجرشی شاہ اور رکن اسمبلی پائل شنکر امبیڈکر چوک پہنچے اور احتجاج کرنے والوں سے بات چیت کی۔ ہندو تنظیموں کے قائدین نے کلکٹر کو بتایا کہ ہر سال پرامن انداز میں گنیش اتسو منایا جاتا ہے، لیکن اس مرتبہ پولیس کی جانب سے پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ مقدمات بھی درج کیے گئے۔

مظاہرین نے بجلی کی سربراہی منقطع کرنے اور پینے کے پانی کی سہولت فراہم نہ کرنے کی بھی شکایت کی۔ کلکٹر راجرشی شاہ نے واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مکمل تحقیقات کرانے اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

کلکٹر نے پولیس کو حراست میں لیے گئے نوجوانوں کو رہا کرنے کی ہدایت دی اور واضح کیا کہ شوبھا یاترا کے سلسلے میں کسی کے خلاف مقدمات درج نہیں کیے جائیں گے۔ اس کے بعد کلکٹر نے ناریل توڑ کر شوبھا یاترا کا دوبارہ آغاز کیا۔

تقریباً 6 گھنٹے تک رکی رہنے والی شوبھا یاترا دوبارہ شروع ہونے کے بعد صورتحال معمول پر آگئی۔ ہفتہ کی صبح تقریباً 10:30 بجے مہاراشٹرا سرحد سے متصل پین گنگا ندی میں عادل آباد شہر کی گنیش مورتیوں کے وسرجن کا عمل شروع ہوا۔