*مذہب کے نام پر نفرت نہیں، ہندو مسلم اتحاد ہی تلنگانہ کی اصل طاقت* *کسانوں کو فصلوں کی کاشت نہ کرنےکا مشورہ دینے والے چیف منسٹر کو اقتدار پر رہنے کا حق نہیں* *عادل آباد کے کسانوں کو ایک ایکڑ کے لئے بھی پانی نہ دینے والی بی آر ایس کس منہ سے کسان گرجنا سبھا منعقد کررہی ہے؟* *اندراویلی کی سرزمین پر تلنگانہ رکشنا سینا کی پنچا جنیم سنکلپ سبھا۔ کلواکنٹلہ کویتا کا خطاب*

*مذہب کے نام پر نفرت نہیں، ہندو مسلم اتحاد ہی تلنگانہ کی اصل طاقت*

*کسانوں کو فصلوں کی کاشت نہ کرنےکا مشورہ دینے والے چیف منسٹر کو اقتدار پر رہنے کا حق نہیں*

*عادل آباد کے کسانوں کو ایک ایکڑ کے لئے بھی پانی نہ دینے والی بی آر ایس کس منہ سے کسان گرجنا سبھا منعقد کررہی ہے؟*

*اندراویلی کی سرزمین پر تلنگانہ رکشنا سینا کی پنچا جنیم سنکلپ سبھا۔ کلواکنٹلہ کویتا کا خطاب*

 

عادل آباد/اندراویلی30/اکتوبر(تلنگانہ وائس) تلنگانہ رکشنا سینا کی سربراہ کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام ہندو مسلم اتحاد، امن اور بھائی چارے پر یقین رکھتے ہیں لیکن بی جے پی منافرت کو ہوا دے کر سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہب کے نام پر عوام کو تقسیم کرنے کے بجائے سماج میں محبت اور اتحاد کو فروغ دینا ضروری ہے۔ کویتا نے کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں نے مسلمانوں کو دھوکہ دیا لیکن تلنگانہ رکشنا سینا ان کی آواز بن کر ان کے حقوق کے لئے جدوجہد کرے گی۔اندراویلی میں تلنگانہ رکشنا سینا کی پنچاجنیم سنکلپ سبھا سے خطاب کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ وہ عادل آباد ضلع کے عوام کی دعائیں اور آشیرواد حاصل کرنے آئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اندراویلی کی سرزمین انقلابی جدوجہد اور قربانیوں کی علامت ہے۔ کویتا نےرام جی گونڈ، ونیلا ایلنا، ویڈم رامو، کمرم بھیم، شڈیم شمبو اور کمرم سورُو جیسے عظیم رہنماؤں کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ماضی میں کانگریس حکومت نے حقوق کے لئے آواز اٹھانے والے آدی واسیوں پر گولیاں چلائیں، جس کا دردناک سانحہ آج بھی اندراویلی کی تاریخ کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی نے شہداء کے خاندانوں کو 25 لاکھ روپئے دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن اقتدار میں آنے کے بعد صرف 5 لاکھ روپئے دے کر وعدہ پورا کرنے سے گریز کیا۔

کویتا نے یقین ظاہر کیا کہ ناگو با ماتا کے آشیرواد سے تلنگانہ رکشنا سینا کا پہلا پارٹی پرچم اسی سرزمین پر بلند ہوگا۔کویتا نے کہا کہ عادل آباد قدرتی وسائل، جنگلات اور آدی واسی آبادی سے مالا مال ہونے کے باوجود ترقی سے محروم ہے۔ ضلع کے 750 گاؤں میں بنیادی طور پر اسکول تک موجود نہیں۔ رنگاریڈی ضلع کی فی کس آمدنی 11 لاکھ روپے ہے۔ جبکہ متحدہ عادل آباد ضلع میں یہ دو لاکھ روپئے سے بھی کم ہے۔ کبھی آمدنی کے لحاظ سے نمایاں مقام رکھنے والا ضلع آج 27ویں مقام پر پہنچ گیا ہے۔

چیف منسٹر نے ہر دو ماہ میں ضلع کا دورہ کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن تین سال میں صرف دو مرتبہ آئے اور عوام سے کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے۔

انہوں نے کہا کہ کاغذ نگر میں ایک لاکھ پانچ ہزار ایکر کو پانی فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن صرف چھ ہزار ایکر تک پانی پہنچا۔ کے پی راؤ اور جگناتھ پراجکٹس بھی برسوں سے زیر التوا ہیں۔ تمّڈی ہیٹی پراجکٹ مکمل ہوتا تو ڈھائی لاکھ ایکر کو پانی ملتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پراجکٹ 152 میٹر کی سطح پر تعمیر کیا جائے اور معاہدے کے مطابق 148 میٹر تک پانی ذخیرہ کیا جائے۔

کویتا نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی چیف منسٹر نے کسانوں کو فصلیں نہ بونے کا مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ زراعت پر انحصار کرنے والے کسان فصلیں نہ بوئیں تو ان کے خاندانوں کا گزاراکیسے ہوگا؟ اگر خشک سالی کا خدشہ پہلے سے تھا تو حکومت نے بروقت اقدامات کیوں نہیں کئے؟ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو پانی، بجلی اور یوریا فراہم نہ کرنے والے چیف منسٹر کو اقتدار میں رہنے کا حق نہیں۔کویتا نے کہا کہ تلنگانہ رکشنا سینا کے پنچا جنیم پروگرام میں معیاری مفت تعلیم، بہتر طبی سہولتیں، کسانوں کی فلاح و بہبود، روزگار اور سماجی انصاف کو ترجیح دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نجی شعبے میں بھی معیاری مفت تعلیم اور علاج کی سہولتیں فراہم کرنا ضروری ہےکیونکہ معمولی بیماری بھی غریب خاندانوں پر بھاری مالی بوجھ ڈال دیتی ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ پارٹی اقتدار میں آنے پر نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق کاروبار شروع کرنے کے لئے 2 لاکھ سے 20 کروڑ روپئے تک قرض فراہم کئے جائیں گے۔ رمس اسپتال میں بچوں کی اموات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت کی لاپرواہی کو ذمہ دار قرار دیا اور آدی واسی علاقوں میں طبی سہولتوں میں بہتری کا مطالبہ کیا۔کویتا نے مطالبہ کیا کہ آئی ٹی ڈی اے میں جی او نمبر 57 سمیت مجموعی طور پر 27 جی اوز پر دوبارہ عمل کیاجائے۔ 1972 میں زمینیں خریدنے والے آدی واسیوں کے ساتھ انصاف کیا جائے اور آدی واسی خواتین میں خون کی کمی کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے تغذیہ بخش خوراک فراہم کی جائے۔

Advertising

انہوں نے کہا کہ رمس اسپتال کے اطراف صحت کے مراکز کی حالت بھی انتہائی خستہ ہے، جنہیں فوری طور پر بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

کویتا نے بی آر ایس کی کسان گرجنا سبھا پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ جس جماعت نے اپنے دور اقتدار میں عادل آباد کے کسانوں کو ایک ایکرکے لئے بھی پانی فراہم نہیں کیا۔ وہ کس منہ سے کسانوں کے نام پر جلسہ منعقد کررہی ہے؟ انہوں نے بی آر ایس میں سدی پیٹ اور سرسلہ کے قائدین کے درمیان اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی آپسی کشمکش سے کارکنان پریشان ہیں۔

انہوں نے کے ٹی آر سے سوال کیا کہ دس سالہ اقتدار میں عادل آباد کو یونیورسٹی اور انجینئرنگ کالج کیوں نہیں دیا گیا؟ سرپور کاغذ نگر مل کے مزدوروں کے لئے کیا اقدامات کئے گئے؟ سمنٹ کارپوریشن آف انڈیا اور نظام آباد شوگر فیکٹری کو دوبارہ کیوں نہیں کھولا گیا؟ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان اداروں کو بحال کرنے میں ناکامی کی ذمہ داری بی آر ایس، کانگریس اور بی جے پی پر عائد ہوتی ہے۔

کویتا نے کہا کہ چنکا۔کوراٹا پراجکٹ کی اصل لاگت 368 کروڑ روپئے تھی، جسے بڑھا کر 2,100 کروڑ روپئے کردیا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر اتنا بڑا اضافہ کس بنیاد پر کیا گیا اور رقم کہاں خرچ ہوئی؟ انہوں نے سابق وزراء اندراکرن ریڈی اور جوگو رامنا پر سوالات اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔انہوں نے کہا کہ عادل آباد میں تقریباً 80 لاکھ کنٹل کپاس پیدا ہوتی ہے لیکن صنعتوں کے وزیر رہنے والے کے ٹی آر نے اپنے دور میں یہاں ٹیکسٹائیل پارک قائم کرنے کے لئے کیا اقدامات کئے؟ بی جے پی کے ارکان اسمبلی پائل شنکر اور پلوائی ہریش بھی ضلع کے مسائل پر خاموش ہیں۔ کویتا نے کہا کہ کانگریس حکومت کی چھ ضمانتوں پر عمل آوری کے منتظر عوام آج بھی جواب چاہتے ہیں۔

گوداوری پشکرالو کے لئے 200 کروڑ روپئے مختص کئے گئے، لیکن ابھی تک کوئی کام شروع نہیں ہوا۔ انہوں نے منچریال کے رکن اسمبلی پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ان کے رویہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔

کویتا نے کہا کہ سماجی انصاف صرف نعروں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ثابت ہوتا ہے۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ تلنگانہ رکشنا سینا نے دو ایم ایل سی نشستوں کے لئے بی سی طبقات سے تعلق رکھنے والے سری کانت گوڑ اور آکاش کو امیدوار بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان نوجوانوں کا کوئی سیاسی پس منظر نہیں اور نہ ہی وہ دولت و وسائل رکھتے ہیں، لیکن وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور تلنگانہ کے لئے جدوجہد کرتے رہے ہیں۔ ایسے نوجوانوں کو سیاست میں موقع دینے سے سیاسی نظام میں تبدیلی آئے گی اور ریاست کی ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔

آخر میں کلواکنٹلہ کویتا نے عادل آباد کے آدی واسیوں اور عوام سے دعائیں اور آشیرواد طلب کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ تلنگانہ رکشنا سینا کو عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہوگی اور ضلع کے تمام اسمبلی حلقوں میں پارٹی امیدوار کامیاب ہوں گے۔