استاد کی منتقلی کے خلاف طلبہ و والدین کا دھرنا
’ہمیں ہمارے استاد انکش سر ہی چاہئیں‘، طلبہ کا احتجاج
عادل آباد:۔20/ستمبر(تلنگانہ وائس)ضلع عادل آباد کے بیلا منڈل کے ڈھوپٹالا پرائمری اسکول سے استاد انکش کو چپرالا ضلع پریشد ہائی اسکول میں عارضی طور پر منتقل کیے جانے پر طلبہ اور والدین نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ ہفتہ کے روز طلبہ اور والدین نے اسکول کے مرکزی گیٹ کے سامنے دھرنا دیتے ہوئے اپنے استاد کی منتقلی واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
احتجاج کے دوران طلبہ نے ’ہمیں ہمارے استاد انکش سر ہی چاہئیں‘ کے نعرے لگائے۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ انکش سر کی تدریس کا انداز انہیں پسند ہے اور ان کی تعلیم سے انہیں کافی فائدہ ہو رہا ہے۔
اس موقع پر طالبہ ادویتہ نے کہا کہ وہ پہلے پرائیویٹ اسکول میں پڑھتی تھی، لیکن انکش سر کی اچھی تعلیم اور تدریس سے متاثر ہوکر سرکاری اسکول میں داخلہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انکش سر کو یہاں سے منتقل کرکے کسی دوسرے استاد کو مقرر کیا گیا تو وہ اس اسکول میں نہیں رہیں گے اور دوبارہ دوسرے اسکول جانے پر مجبور ہوں گے۔
Advertising

سرپرست انیل نے کہا کہ انکش سر کی بہتر تدریسی خدمات کی وجہ سے کئی والدین نے اپنے بچوں کو پرائیویٹ اسکولوں سے نکال کر ڈھوپٹالا سرکاری اسکول میں داخل کرایا تھا۔ اب ان کی منتقلی کے بعد بچے اسکول جانے میں دلچسپی نہیں دکھا رہے ہیں۔
Advertising

والدین نے متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ استاد انکش کی عارضی منتقلی کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے انہیں ڈھوپٹالا پرائمری اسکول میں ہی برقرار رکھا جائے۔ بصورت دیگر اپنے بچوں کو دوبارہ پرائیویٹ اسکولوں میں داخل کرانے کی نوبت آنے کا خدشہ ظاہر کیا۔
Advertising


