عادل آباد رمس اسپتال میں نصف شب بڑا حادثہ ایس این سی یو وارڈ میں شارٹ سرکٹ کے بعد دھواں، شیر خوار بچوں میں افرا تفری 27 بچوں کو دوسرے اسپتال منتقل کیا گیا، متعدد بچوں کی حالت تشویشناک

عادل آباد رمس اسپتال میں نصف شب بڑا حادثہ

ایس این سی یو وارڈ میں شارٹ سرکٹ کے بعد دھواں، شیر خوار بچوں میں افرا تفری

27 بچوں کو دوسرے اسپتال منتقل کیا گیا، متعدد بچوں کی حالت تشویشناک

عادل آباد۔22/ستمبر (تلنگانہ وائس)

عادل آباد ضلع مستقر کے رمس اسپتال میں پیر کی نصف شب پیش آئے آتشزدگی کے واقعہ سے شدید افرا تفری مچ گئی۔

 

رمس اسپتال کے اسپیشل نیو بورن کیئر یونٹ، یعنی ایس این سی یو وارڈ میں موجود اے سی میں شارٹ سرکٹ کے بعد اچانک دھواں پھیل گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے دھواں پورے وارڈ میں بھر گیا، جس کے باعث شیر خوار بچوں کے والدین میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

 

اطلاع ملتے ہی اسپتال کے عملہ نے فوری طور پر بجلی کی سپلائی منقطع کردی اور ایس این سی یو وارڈ میں زیر علاج بچوں کو بحفاظت باہر نکالنے کی کارروائی شروع کردی۔

 

حادثے کے وقت ایس این سی یو وارڈ میں موجود تقریباً 27 شیر خوار بچوں کو مزید علاج کے لیے سورکشا پرائیویٹ اسپتال سمیت دیگر مقامات پر منتقل کیا گیا۔

 

بتایا جاتا ہے کہ بچوں کو انتہائی احتیاط کے ساتھ وارڈ سے باہر نکالا گیا، جبکہ امدادی کارروائیوں کے دوران بعض مقامات پر شیشے توڑ کر بھی بچوں کو باہر منتقل کیا گیا۔

 

اسی دوران ایچوڑہ سے تعلق رکھنے والے ایک پانچ روزہ شیر خوار بچے کی موت کی اطلاع سامنے آئی، جبکہ بعد میں مزید بچوں کی موت کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔ ہلاکتوں کی حتمی تعداد کے بارے میں سرکاری سطح پر مکمل وضاحت کا انتظار ہے۔

 

حادثے کی اطلاع ملتے ہی ضلع کلکٹر راجرشی شاہ، ضلع ایس پی اکھل مہاجن آئی پی ایس اور رمس ڈائریکٹر جئے سنگھ راتھوڑ فوری طور پر رمس اسپتال پہنچے اور صورتحال کا جائزہ لیا۔

 

فائر بریگیڈ اور اسپتال کے عملہ نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں انجام دیں اور بچوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔

 

واقعہ کے بعد رمس اسپتال میں کچھ دیر تک خوف و ہراس کا ماحول برقرار رہا۔ متاثرہ بچوں کے والدین اور افراد خاندان شدید صدمے سے دوچار ہیں۔

 

حادثے کی اطلاع ملتے ہی سابق وزیر جوگورامنا، حلقہ بوتھ رکن اسمبلی انیل جادھو، حلقہ انچارج کندی سرینواس ریڈی، بی آر ایس لیڈر یونس اکبانی، مجلس صدر نذیر احمد، میونسپل چیئرپرسن بنڈاری انوشا، مارکیٹ چیئرمین بی سری کانت، وائس چیئرمین محمد روہیت کے علاوہ مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین، کونسلرس، عوامی نمائندے، سماجی قائدین اور عوام بڑی تعداد میں رمس اسپتال پہنچے۔

 

دوسری جانب چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے رمس اسپتال کے ایس این سی یو وارڈ میں پیش آئے واقعہ پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

چیف منسٹر نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ زیر علاج بچوں کو بہتر سے بہتر طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور ان کی صحت کی حالت پر مسلسل نظر رکھی جائے۔

انہوں نے واقعہ کی وجوہات کی مکمل تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے، جبکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں، اس کے لیے ریاست کے تمام اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات کو مزید مضبوط بنانے کی بھی ہدایت دی ہے۔

 

ادھر حیدرآباد سے وزراء کا ایک وفد بھی چیف منسٹر کی ہدایت پر عادل آباد کے لیے روانہ ہونے کی اطلاع ہے، جو رمس اسپتال پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لے گا۔

 

واقعہ کے بعد رمس اسپتال کے انتظامات اور حفاظتی اقدامات پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ عوام اور مختلف حلقوں کی جانب سے پورے واقعہ کی غیر جانب دارانہ اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

 

اب سب کی نظریں تحقیقات پر ہیں۔

آخر رمس اسپتال کے ایس این سی یو وارڈ میں شارٹ سرکٹ کیسے ہوا؟

حفاظتی انتظامات میں کوئی کوتاہی ہوئی یا نہیں؟

اور اس افسوسناک واقعہ میں کتنے بچوں کی موت ہوئی؟

ان تمام سوالات کے جواب تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوں گے۔

فی الحال عادل آباد سوگ میں ڈوبا ہوا ہے۔

اس افسوسناک واقعہ نے نہ صرف متاثرہ بچوں کے افراد خاندان بلکہ پورے شہر کو گہرے صدمے سے دوچار کردیا ہے۔