*صحافیوں کے مسائل حل کیے جائیں*
*گاندھی جی کے مجسمے کو یادداشت پیش کرتے ہوئے احتجاج*
*مکانات، مکانات کے پلاٹس، ہیلتھ کارڈز اور خصوصی حفاظتی قانون فراہم کرنے کا مطالبہ*
تلنگانہ وائس نیوز
نارائن پیٹ، 3 /اکتوبر (پریس نوٹ) صحافیوں کے حقوق، تحفظ، سماجی بہبود اور پیشہ ورانہ مسائل حل کرنے کے مطالبے پر TUWJ (IJU) کی جانب سے جمعہ کے روز ضلع نارائن پیٹ مرکز میں احتجاجی پروگرام منعقد کیا گیا۔ IJU کی اپیل پر 2 اکتوبر کو ’برسرِکار صحافیوں کے مطالبات کا دن‘ کے طور پر مناتے ہوئے گاندھی نگر میں واقع مہاتما گاندھی کے مجسمے کو صحافیوں کے مسائل پر مشتمل یادداشت پیش کی گئی۔
Advertising

بعد ازاں سری گارڈن میں ضلع کلکٹر پرینکا اور رکن پارلیمنٹ ڈی کے ارونا سے ملاقات کرتے ہوئے صحافیوں کے مسائل سے واقف کرایا گیا اور یادداشت پیش کی گئی۔ اس موقع پر مطالبہ کیا گیا کہ صحافیوں کے مسائل کو ریاستی اور مرکزی حکومتوں کے علم میں لاتے ہوئے ان کے حل کے لیے اقدامات کیے جائیں اور یادداشت صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو کو روانہ کی جائے۔
Advertising

TUWJ (IJU) کے ضلع صدر کوئل کونڈہ نارائن ریڈی، جنرل سکریٹری شیوشنکر اور نیشنل کونسل کے رکن نکا سرینواس نے کہا کہ جمہوریت میں اہم کردار ادا کرنے والے صحافیوں کو پیشہ ورانہ تحفظ کے ساتھ ساتھ سماجی اور معاشی تحفظ فراہم کرنا حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے صحافیوں پر ہونے والے حملوں اور دھمکیوں کی روک تھام کے لیے خصوصی حفاظتی قانون نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔
Advertising

انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران میڈیا کے شعبے میں کئی اہم تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ 24 گھنٹے خبروں کی نشریات، ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا کے وسیع پھیلاؤ کے پیش نظر موجودہ حالات کے مطابق میڈیا کے شعبے کا جامع جائزہ لینے کے لیے نئی میڈیا کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کیا۔قائدین نے برسرِکار صحافیوں اور غیر صحافتی میڈیا ملازمین کے لیے نیا ویج بورڈ تشکیل دینے کا بھی مطالبہ کیا۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی کے مطابق تنخواہوں میں نظرثانی کرتے ہوئے پرنٹ، براڈکاسٹ اور ڈیجیٹل میڈیا ملازمین کو منصفانہ اجرت فراہم کرنے کے لیے اقدامات کرنے پر زور دیا۔
قائدین نے تلنگانہ میں کانگریس حکومت کی جانب سے صحافیوں سے متعلق انتخابی منشور میں کیے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کا مطالبہ کیا۔ صحافیوں کے مکانات اور مکانات کے پلاٹس کے مسئلہ کو حل کرنے کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمین کی طرز پر صحافیوں کو بھی ہیلتھ کارڈز جاری کرتے ہوئے کیش لیس طبی سہولیات فراہم کرنے کی اپیل کی۔انہوں نے صحافیوں پر ہونے والے حملوں کی روک تھام کے لیے مناسب قانون نافذ کرنے کا بھی حکومت سے مطالبہ کیا۔
اس پروگرام میں ضلع نائب صدور ہنمنتو، گروپرساد، سکریٹریز عزیز احمد خان، وٹوبا، محمد تقی، خازن مدھوکر، تشہیری سکریٹری سریش اور محکمۂ تعلیم کے کنوینر راجیش نے شرکت کی۔
عاملہ کے ارکان ویرنا، ایلارڈی، سریش گوڑ، نریندر، وجئے، پروین، عزیز خان، سرینواس، لکشمی ریڈی، آنند، ایشونتھ، محمد حسین، نرسمہا، اشوک، برہمانند راجو، اشوک، سریش اور سرینواس’ محمد الیاس’ اشفاق’ صادق چاند’ عبد الخالق سلمان سنڈکے’ شکیل’ کے علاوہ ضلع کے مختلف منڈلوں سے بڑی تعداد میں صحافیوں نے شرکت کی۔

