عادل آباد کی مٹی کا سپوت ایڈوکیٹ ایم اے اشفاق، سیاست میں ایک نیا چہرہ
تلنگانہ رکشنا سینا کے مسلم مائناریٹی لیگل ونگ کے نائب صدر مقرر، عوامی حقوق اور انصاف کے لیے جدوجہد کا عزم
عادل آباد۔23/اکتوبر(تلنگانہ وائس)
عادل آباد میں پیدا ہونے اور یہیں پرورش پانے والے ایڈوکیٹ ایم اے اشفاق نے انجینئرنگ سے قانون کے شعبے تک کا سفر طے کرتے ہوئے اپنی ایک منفرد شناخت قائم کی ہے۔ وہ اس وقت تلنگانہ ہائی کورٹ میں وکالت کر رہے ہیں اور تلنگانہ رکشنا سینا (TRS) کے نیشنل ترجمان کی حیثیت سے بھی سرگرم ہیں۔ حال ہی میں انہیں "کے کویتا” نے "ٹی آر ایس پارٹی” کے مسلم مائناریٹی لیگل ونگ کا نائب صدر مقرر کیا گیا ہے۔

ایڈوکیٹ ایم اے اشفاق نے اپنی ابتدائی تعلیم سینٹ جوزف کانوینٹ اسکول سے حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے حیدرآباد سے انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کی اور لندن میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ آئی ٹی سیکٹر میں بھی خدمات انجام دیں۔
تاہم، انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کو چھوڑ کر عثمانیہ یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی اور قانون کے ذریعے عوام کی خدمت کرنے کا راستہ اختیار کیا۔ سیاسی میدان میں تلنگانہ رکشنا سینا کے نیشنل ترجمان کی حیثیت سے ایم اے اشفاق حکومت اور مختلف سیاسی جماعتوں کی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے عوامی مسائل کو اجاگر کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ سیاست کا مقصد کسی مخصوص طبقے کی نمائندگی تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہر شہری کے حقوق کا تحفظ اور انصاف کی فراہمی ہونا چاہیے۔ ان کی جدوجہد کا محور مذہب سے بالاتر ہوکر ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی سمیت تمام طبقات کے غریبوں، متوسط طبقے کے خاندانوں اور مظلوم افراد کے حقوق کی آواز بلند کرنا ہے۔
Advertising

مسلم مائناریٹی لیگل ونگ کے نائب صدر کی حیثیت سے نئی ذمہ داری ملنے کے بعد ان سے عوامی مسائل کو قانونی اور سیاسی سطح پر اجاگر کرنے کی توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں۔ ان کی تعلیمی قابلیت، قانونی تجربہ اور سیاسی سرگرمیاں عادل آباد میں ایک نئے سیاسی چہرے کے طور پر ان کی شناخت کو نمایاں کر رہی ہیں۔
ایم اے اشفاق کا پیغام ہے کہ سیاست کسی کے خلاف نہیں، بلکہ عوام کے حق میں ہونی چاہیے۔ ان کی نئی ذمہ داری عادل آباد کے عوام کے لئے کس حد تک مؤثر ثابت ہوتی ہے، یہ آنے والا وقت بتائے گا۔

