عادل آباد میں پانی اور بجلی کی قلت کا خدشہ، انتظامیہ متحرک
ایل نینو کے اثرات کے پیشِ نظر پیشگی اقدامات، بڑے تجارتی اداروں کو سولر یونٹس نصب کرنے کی ہدایت
پانی اور بجلی ضائع کرنے والے اداروں کو بھاری جرمانوں اور سیل کرنے کی کارروائی کا انتباہ ۔ ایڈیشنل کلکٹر راجیشور/میونسپل چیرپرسن بنڈاری انوشا
عادل آباد، 24 اکتوبر (تلنگانہ وائس)عادل آباد شہر میں ایل نینو کے ممکنہ اثرات کے پیشِ نظر آئندہ دنوں میں پانی کی قلت اور بجلی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے پیشگی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ ریاستی حکومت کے اعلیٰ حکام کی ہدایت پر ضلع کے ایڈیشنل کلکٹر راجیشور اور میونسپل چیئرپرسن بنڈاری انوشا ستیش کی نگرانی میں زیڈ پی میٹنگ ہال میں ایک خصوصی اجلاس منعقد کیا گیا۔

اجلاس میں واٹر سروسنگ سینٹرس، ہوٹلس، فنکشن ہالز، بڑے اسکولوں، کالجوں، ریسٹورنٹس، شاپنگ مالز اور دیگر تجارتی اداروں میں پانی اور بجلی کے بھاری استعمال کا جائزہ لیا گیا۔
Advertising

اس موقع پر ایڈیشنل کلکٹر راجیشور نے کہا کہ مستقبل میں بجلی کی قلت پر قابو پانے کے لیے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے ادارے لازمی طور پر سولر پاور یونٹس نصب کریں اور متبادل توانائی کی پیداوار و استعمال کو ترجیح دیں۔
انہوں نے بتایا کہ عادل آباد شہر کو پینے کا پانی فراہم کرنے والے سری رام ساگر پروجیکٹ میں عام طور پر 90 ٹی ایم سی پانی دستیاب رہنا چاہیے، تاہم فی الحال صرف 36 ٹی ایم سی پانی موجود ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ موجودہ ذخیرہ عادل آباد، نظام آباد، نرمل اور دیگر علاقوں کو فروری اور مارچ تک ہی پانی فراہم کرنے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔ اس لیے عوام کو پانی کے استعمال میں احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔
ایڈیشنل کلکٹر نے شہریوں سے اپیل کی کہ ہر مکان میں سوک پٹ (انکُڈو گنٹہ) تعمیر کیا جائے، بارش کے پانی اور گھروں سے خارج ہونے والے پانی کو مناسب طریقے سے محفوظ کرکے زیرِ زمین آبی ذخائر میں اضافہ کیا جائے اور پانی کو ضائع ہونے سے بچاتے ہوئے کفایت شعاری سے استعمال کیا جائے۔
انہوں نے خاص طور پر زیادہ مقدار میں پانی استعمال کرنے والے تجارتی اداروں کو سرکاری قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت دی۔ پانی اور بجلی کے وسائل ضائع کرنے والے اداروں کے خلاف ضرورت کے مطابق بھاری چالان اور جرمانے عائد کرنے کے علاوہ قواعد کے مطابق اداروں کو سیل کرنے کی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آنے والی گرمیوں میں عوام کو پینے کے پانی کی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے، اس کے لیے سرکاری عہدیداروں، تجارتی اداروں کے منتظمین اور عوام کو باہمی تعاون کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ پانی اور بجلی کا تحفظ محض انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کی سماجی ذمہ داری ہے۔
اجلاس میں میونسپل ٹاؤن پلاننگ افسران، انجینئرز، متعلقہ محکموں کے عہدیداروں اور زیادہ مقدار میں پانی و بجلی استعمال کرنے والے اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
تلنگانہ وائس | بے باک صحافت، سچ کی آواز

