*بستی کے مجموعی حالات پر نظر رکھنا ہر امامِ مسجد کی ذمہ داری ہے*  رابطہء مکاتب کے فکری و مشاورتی اجلاس سے مولانا شاہد علی مظاہری، مولانا سید رضوان اسعدی اور الحاج ممتاز بیابانی کے فکر انگیز خطابات

*بستی کے مجموعی حالات پر نظر رکھنا ہر امامِ مسجد کی ذمہ داری ہے*

رابطہء مکاتب کے فکری و مشاورتی اجلاس سے مولانا شاہد علی مظاہری، مولانا سید رضوان اسعدی اور الحاج ممتاز بیابانی کے فکر انگیز خطابات

حراپور /عادل آباد ، 17/اگست 2026(تلنگانہ وائس)

تعلیم المسلمین ٹرسٹ عادل آباد کے شعبۂ مکاتب بنام ’’رابطہء مکاتب‘‘ کے اوٹنور و ایچوڑہ زون کے معلمین کا ایک اہم فکری و مشاورتی اجلاس مدرسہ فیض القاسم ٹرسٹ حراپور، منڈل اندرویلی میں منعقد ہوا، جس میں مکاتبِ دینیہ و قرآنیہ کے نظام کو مزید مستحکم، منظم اور مؤثر بنانے، نسلِ نو کے ایمان و اخلاق کی حفاظت اور بستیوں کے مجموعی دینی حالات کی اصلاح کے حوالے سے اہم امور پر غور و خوض کیا گیا۔

Advertising

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ مکرم حضرت مولانا شاہد علی مظاہری مدظلہ، نائب ناظم دارالعلوم صدیقیہ خانہ پور نے امامِ مسجد اور معلمِ مکتب کی ذمہ داریوں کی طرف خصوصی توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ امامِ مسجد کی ذمہ داری صرف نماز کی امامت اور مکتب کی تدریس تک محدود نہیں، بلکہ اسے اپنی بستی کے مجموعی حالات پر گہری نظر رکھنی چاہیے۔

Advertising

انہوں نے کہا کہ ائمہ و معلمین کو اپنی صلاحیتیں بالخصوص دو اہم میدانوں میں صرف کرنی چاہئیں: اولاً، بستی کے حالات پر نظر رکھنا کہ نوجوان نسل کن باطل نظریات اور غیراسلامی افکار سے متاثر ہورہی ہے، لڑکوں اور لڑکیوں کے دینی و اخلاقی حالات کیا ہیں اور انہیں فتنوں و گمراہیوں سے کس طرح محفوظ رکھا جاسکتا ہے؛ ثانیاً، جدید فتنوں اور باطل افکار سے پیدا ہونے والے سوالات کے جوابات دینے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ انہوں نے ائمہ و معلمین کو عقائدِ باطلہ کے مطالعہ، نقلی و عقلی دلائل سے واقفیت اور فتنوں کے علمی مقابلے کی تیاری کی ترغیب دی۔

مولانا شاہد علی مظاہری نے کہا کہ زمانہ جیسے جیسے آگے بڑھ رہا ہے، ہماری دینی ذمہ داریاں بھی بڑھتی جارہی ہیں؛ اس لیے ائمہ و معلمین کو اپنے علم، مطالعہ اور دعوتی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کرنا ہوگا۔

اس موقع پر مولانا سید رضوان اسعدی، صدر تعلیم المسلمین ٹرسٹ عادل آباد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا دینی تعلیمی سلسلہ اس عظیم آسمانی درسگاہ سے وابستہ ہے جس کے اولین طالبِ علم حضرت آدم علیہ السلام تھے، جبکہ مسلمانوں کے دینی تعلیمی نظام کی ایک روشن نسبت مدرسۂ صفہ سے بھی قائم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے اکابر علماء نے ہر دور میں مکاتبِ دینیہ و قرآنیہ کے قیام، استحکام اور فروغ کی فکر کی اور اس کے لیے بے مثال محنتیں کیں۔ مکتب کی ذمہ داری ایک طرف قابلِ فخر ذمہ داری ہے تو دوسری طرف قابلِ فکر اور قابلِ احتساب ذمہ داری بھی ہے۔ ہمیں اپنے اپنے مکاتب کے نظام کو تعلیمی، تربیتی، انتظامی اور دعوتی ہر اعتبار سے منظم کرنے کی فکر کرنی چاہیے۔

مولانا نے خصوصی طور پر خواتین کی دینی تعلیم و تربیت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے اصلاحی اجتماعات کے بغیر ہماری اصلاحی و دعوتی محنتیں ادھوری ہیں۔ ملت کے مجموعی حالات کی اصلاح کے لیے مردوں، خواتین، ائمہ، معلمین اور سماجی ذمہ داران کو مل کر کام کرنا ہوگا۔انہوں نے واضح کیا کہ ’’یہاں نہ کوئی تخت پر ہے اور نہ کوئی کسی کے تحت ہے؛ ہم سب ملت کی خدمت کے لیے ایک دوسرے کے معاون اور شریکِ کار ہیں۔‘‘

مولانا سید رضوان اسعدی نے اجلاس میں آئندہ کے متعدد اہم منصوبوں کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ان شاء اللہ معلمین کے لیے ’’تدریب المعلمین‘‘ پروگرام منعقد کیا جائے گا، تاکہ مکاتب کے اساتذہ کی تدریسی و تربیتی صلاحیتوں میں مزید نکھار پیدا ہو۔

انہوں نے کہا کہ ہر مکتب کے مقام پر عوامی سطح پر مکاتب کی اہمیت و افادیت کے سلسلے میں شعور بیداری پروگرام منعقد کیا جائے گا۔ اسی طرح ’’چلو! مدنی بستی بنائیں!‘‘ کے عنوان سے ایک اصلاحی و تربیتی تحریک شروع کی جائے گی۔

مزید برآں ہر مکتب میں سیرت کوئز مقابلہ منعقد کیا جائے گا اور مکاتب کے انتظام و استحکام کے لیے ’’مکتب معاون ٹیم‘‘ تشکیل دی جائے گی، تاکہ مقامی سطح پر عوام کو مکاتب کے نظام سے جوڑا جاسکے اور مکتب کو بستی کی دینی و تربیتی سرگرمیوں کا مؤثر مرکز بنایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم المسلمین ٹرسٹ عادل آباد ایک نوخیز ادارہ ہے، اسے وقت کے ساتھ مالی اعتبار سے مستحکم کرنا بھی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے,

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے الحاج ممتاز بیابانی صاحب، جنرل سیکریٹری تعلیم المسلمین ٹرسٹ عادل آباد نے کہا کہ موجودہ دور میں امت کا سب سے بڑا مسئلہ تحفظِ ایمان ہے۔ انہوں نے کہا کہ رابطۂ مکاتب کے معلمین نسلِ نو کی دینی تعلیم و تربیت کے ذریعے ایک عظیم خدمت انجام دے رہے ہیں، جس کا بہترین اجر اللہ تعالیٰ ہی عطا فرمائے گا۔انہوں نے اپنے حالیہ سفرِ دیوبند اور اکابر علماء سے ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ علماء بھی اس بات پر فکر مند ہیں کہ موجودہ نسل کے ایمان کی حفاظت کس طرح کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہر بستی میں بدلتے ہوئے حالات اور باطل کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا، ان کے اثرات کو سمجھنا اور ان کا علمی و دعوتی مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔الحاج ممتاز بیابانی صاحب نے انتہائی درد مندانہ انداز میں علماء و معلمین سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ قوم کی نئی نسل کے ایمان و عقیدے کی حفاظت کے لیے ہم سب کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہوگی۔

اجلاس کا آغاز مولانا ناظم خان قاسمی کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ حافظ محمد عرفان نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی۔

اوٹنور زون سے نارنور، تاڑی ہتنور، حسنہ پور، اوٹنور، دنتن پلی، بیرسائی پیٹ، شامپور، اندرویلی، حراپور، موتنور، شنکر گوڑہ، دھنورہ، توشم جدید و قدیم اور گڑھی ہتنور، جبکہ ایچوڑہ زون سے منور، سریا گوڑہ، شانتاپور، بورگاؤں، ایچوڑہ، مکھرا، بازار ہتنور، سنالہ، وڈور، وانکڑی اور نیریڈی گنڈہ کے معلمین اجلاس میں مدعو تھے۔

الحمدللہ اجلاس نہایت فکر انگیز، بامقصد اور حوصلہ افزا رہا۔ شرکائے اجلاس نے مکاتب کے نظام کو مزید مضبوط بنانے، نسلِ نو کے ایمان و اخلاق کی حفاظت کرنے اور اپنی اپنی بستیوں میں دینی و اصلاحی ماحول پیدا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

اجلاس کے اختتام پر حضرت مولانا شاہد علی مظاہری مدظلہ نے امت، مکاتبِ دینیہ و قرآنیہ، معلمین اور نسلِ نو کی دینی و ایمانی حفاظت کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔

رابطہء مکاتب کا یہ فکری اجتماع اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ ہر مکتب کو مضبوط، ہر معلم کو باصلاحیت، ہر امام کو بستی کے حالات سے باخبر اور ہر بستی کو دینی و اخلاقی اعتبار سے ایک مثالی بستی بنانے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔

 

Advertising