جعلی دستاویزات کے ذریعے اراضی پر قبضہ کی کوشش، چار گرفتار ایک ہی پلاٹ پر تین مرتبہ رجسٹریشن، اصل مالک سے 1.60 لاکھ روپے کا مطالبہ؛ جعلی دستاویزات تیار کرنے والے چار افراد گرفتار، چار مفرور

جعلی دستاویزات کے ذریعے اراضی پر قبضہ کی کوشش، چار گرفتار

ایک ہی پلاٹ پر تین مرتبہ رجسٹریشن، اصل مالک سے 1.60 لاکھ روپے کا مطالبہ؛ جعلی دستاویزات تیار کرنے والے چار افراد گرفتار، چار مفرور

عادل آباد، 4 /ستمبر (تلنگانہ وائس) عادل آباد کے موالا پولیس اسٹیشن حدود میں جعلی ریونیو پٹہ، گرام پنچایت ٹیکس رسیدیں اور دیگر دستاویزات تیار کرتے ہوئے اراضی پر قبضہ کرنے کی کوشش کے معاملہ میں پولیس نے چار افراد کو گرفتار کرلیا۔ عادل آباد ڈی ایس پی ایل جیون ریڈی نے بتایا کہ اس معاملہ میں 8 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ڈی ایس پی ایل جیون ریڈی نے پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ  پتّلواڑہ، دسناپور علاقہ میں واقع پلاٹ نمبر 14، سروے نمبر 21/3 میں 30×50 فٹ اراضی شکایت کنندہ نے رجسٹرڈ دستاویز نمبر 3154/2022 کے ذریعہ خریدی تھی اور تب سے اس کے قبضہ میں تھی۔

Advertising

الزام ہے کہ ملزمین نے اصل مالک کی اراضی سے متعلق تفصیلات، مکان کی تصاویر اور حدود کا مبینہ طور پر غلط استعمال کرتے ہوئے جعلی ریونیو پٹہ، گرام پنچایت ٹیکس رسیدیں اور دیگر دستاویزات تیار کیں۔

Advertising

پولیس تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ پلاٹ نمبر 8 کی تفصیلات کا غلط استعمال کرتے ہوئے دستاویز نمبر 7888/2023، 8240/2024 اور 1278/2025 کے ذریعہ مذکورہ اراضی پر جعلی حقوق قائم کرنے کی کوشش کی گئی۔ اصل اراضی 30×50 فٹ ہونے کے باوجود جعلی دستاویزات میں اسے 30×40 فٹ ظاہر کیا گیا اور اصل حدود کا استعمال کیا گیا۔

Advertising

شکایت کنندہ نے الزام عائد کیا کہ ملزمین نے اسے دھمکاتے ہوئے جعلی دستاویزات واپس لینے کے لیے 1 لاکھ 60 ہزار روپے کا مطالبہ کیا، جس پر متاثرہ شخص نے مبینہ طور پر 10 ہزار روپے ادا کیے۔

موالا  پولیس نے کرائم نمبر 604/2026 کے تحت دفعات 420، 467، 468، 471 بمعہ 34 آئی پی سی کے تحت مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کیں۔

گرفتار ملزمین

1. کاکڑے ناندیو عرف ناندیو کاکڑے (41)، ٹیلر، KRK کالونی، عادل آباد۔

2. میکلا سوریہ کرن (30)، تاجر، رکشا کالونی، عادل آباد۔

3. شیخ مبارک (44)، تاجر، KRK کالونی، عادل آباد۔

4. سورم سریام (30)، خانگی ملازم، اندراما کالونی، عادل آباد۔

چاروں کو 4 ستمبر کو گرفتار کیا گیا۔

مفرور ملزمین: ارچنا واگھمارے، سنتوش کمار ایپر، دیوکی بائی گٹو اور میکلا ملنا۔ پولیس ان کی گرفتاری کے لیے تلاش جاری رکھے ہوئے ہے۔

ڈی ایس پی ایل جیون ریڈی نے انتباہ دیا کہ جعلی دستاویزات تیار کرنے، دوسروں کی املاک پر غیر قانونی حقوق قائم کرنے کی کوشش اور دھمکانے جیسے اقدامات میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی جائیداد کے اصل کاغذات، رجسٹریشن تفصیلات اور دیگر دستاویزات محفوظ رکھیں اور کسی بھی مشتبہ لین دین یا جعلی دستاویزات کے معاملہ کی فوری اطلاع پولیس کو دیں۔

موالا سی آئی بی ڈی پریم کمار، ایس آئی راج شیکھر ریڈی اور پولیس عملہ نے کارروائی میں حصہ لیا۔