حروف نہ لکھنے پر کمسن طالب علم پر مبینہ تشدد، ٹیچر اور اسکول انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج

حروف نہ لکھنے پر کمسن طالب علم پر مبینہ تشدد، ٹیچر اور اسکول انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج

عادل آباد/بوتھ، 29 اگست(تلنگانہ وائس)ضلع عادل آباد کے بوتھ پولیس اسٹیشن کے حدود میں ایک پرائیویٹ اسکول میں زیرِ تعلیم کمسن طالب علم کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے کے معاملے میں پولیس نے کلاس ٹیچر کے ساتھ اسکول انتظامیہ کے خلاف بھی مقدمہ درج کرتے ہوئے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ یہ اطلاع بوتھ سب انسپکٹر وی۔ پرشوتم نے دی۔

CC TV PHOTAGE

پولیس کے مطابق کوچلاپور گاؤں سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے شکایت درج کراتے ہوئے بتایا کہ اس کا بیٹا بوتھ شہر کے ایک پرائیویٹ اسکول میں زیرِ تعلیم ہے۔ 27 اگست کو تقریباً صبح 11 بجے طالب علم کلاس روم میں موجود تھا، جہاں کلاس ٹیچر نے مبینہ طور پر اسے کچھ دیر تک کان پکڑوا کر کھڑا رکھا اور بعد ازاں اس کے گالوں اور جسم کے مختلف حصوں پر مارپیٹ کی۔

Advertising

طالب علم جب گھر واپس آیا تو وہ رو رہا تھا۔ والدین نے جب اس کے جسم کا معائنہ کیا تو کان، گال اور دیگر حصوں پر چوٹ کے نشانات پائے گئے۔ واقعہ سے متعلق مبینہ ویڈیو بھی شکایت کنندہ کی جانب سے پولیس کے حوالے کی گئی۔

Advertising

شکایت کی بنیاد پر بوتھ پولیس نے متعلقہ قانونی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے جووینائل جسٹس (بچوں کی نگہداشت و تحفظ) ایکٹ کی متعلقہ دفعات بھی شامل کی ہیں۔ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں اور واقعہ سے متعلق شواہد اور دیگر پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

Advertising

پولیس نے واضح کیا کہ بچوں کے ساتھ کسی بھی قسم کا تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا۔ کمسن بچوں پر جسمانی یا ذہنی تشدد کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی، تاکہ اسکولوں میں بچوں کے لیے محفوظ اور پُرامن تعلیمی ماحول کو یقینی بنایا جاسکے۔

حروف نہ لکھنے پر اتنی بڑی سزا؟

معصوم بچوں کو تعلیم دینے کے نام پر جسمانی تشدد کا نشانہ بنانا ایک سنگین معاملہ ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی کمسن طالب علم حروف لکھنے میں غلطی کرے یا سبق یاد نہ کر پائے تو کیا اسے مارپیٹ کرنا کسی صورت قابلِ قبول ہوسکتا ہے؟

کیا بچوں کی اصلاح تشدد کے ذریعے کی جائے گی؟

کیا کم عمری میں ہی معصوم بچوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا جائے گا؟

پرسوں وشاکھاپٹنم، کل عادل آباد—آخر ایسے واقعات کب رکیں گے؟

تعلیم کا مقصد بچوں میں خوف پیدا کرنا نہیں بلکہ ان کے اندر علم، اعتماد اور صلاحیتوں کو پروان چڑھانا ہے۔ ہائی ٹیک اور ڈیجیٹل دور کی تعلیم کے ساتھ اگر بچوں کا بچپن ہی تشدد کی نذر ہوجائے تو ایسے تعلیمی نظام اور ایسے رویوں پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

اساتذہ معاشرے میں بچوں کے رہنما اور تربیت کار کا مقام رکھتے ہیں۔ کسی بھی غلطی کی صورت میں بچے کی اصلاح محبت، صبر اور تعلیمی طریقۂ کار کے ذریعے ہونی چاہیے، نہ کہ مارپیٹ کے ذریعے۔