عادل آباد میونسپل کوآپشن انتخابات: سیاسی جوڑ توڑ عروج پر
آزاد کونسلرس پہلے ہی بی جے پی کے ساتھ، ووٹوں کی خرید و فروخت کی قیاس آرائیاں؛ میونسپل کے اطراف پولیس کا بھاری بندوبست
عادل آباد۔31/اگست (تلنگانہ وائس) عادل آباد میونسپل کوآپشن انتخابات سے قبل سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ 31 اگست کو دوپہر منعقد ہونے والے کوآپشن انتخابات کو لے کر بی جے پی اور کانگریس کے درمیان زبردست سیاسی رسہ کشی جاری ہے۔ کون سی جماعت اپنے امیدواروں کو کامیاب بنائے گی، اس پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

میونسپل کے آزاد کونسلرس پہلے ہی بی جے پی کی حمایت میں ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں بی جے پی کو اپنی موجودہ عددی طاقت کے ساتھ مزید چند کونسلرس کی حمایت حاصل ہونے کی صورت میں کوآپشن انتخابات میں اس کی پوزیشن مضبوط ہونے کا امکان ہے۔
Advertising

دوسری جانب سیاسی حلقوں میں یہ چرچا بھی عام ہے کہ کوآپشن انتخابات میں حمایت حاصل کرنے کے لیے 5 سے 7 لاکھ روپے نقد اور ایک پلاٹ تک کی پیشکش کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ اور یہ فی الحال سیاسی حلقوں میں جاری قیاس آرائیوں تک محدود ہیں۔
Advertising

اسی دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ڈی ایس پی ایل جیون ریڈی کی نگرانی میں مجلس بلدیہ عادل آباد کے اطراف پولیس کا بھاری بندوبست کیا گیا ہے۔ میونسپل احاطے اور اطراف میں پولیس کی موجودگی کے پیش نظر کوآپشن انتخابات کے دوران سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔
Advertising

اب اصل سوال یہ ہے کہ کانگریس اپنے تمام کونسلرس کو متحد رکھنے میں کامیاب ہوتی ہے یا بعض کونسلرس کا رخ بی جے پی کی جانب ہوتا ہے؟ کون سی جماعت کے حق میں ووٹ پڑتے ہیں اور کوآپشن ممبرس کس پارٹی کے حمایت یافتہ منتخب ہوتے ہیں، اس کا فیصلہ آج ہونے والے انتخابات میں ہوگا۔
اس کے علاوہ یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا اجلاس ماضی کی طرح ہنگامہ آرائی، الزامات اور سیاسی ڈرامے کی نذر ہوگا یا کوآپشن انتخابات کا عمل پرامن طریقے سے مکمل ہوگا؟ چند ہی گھنٹوں میں تمام سوالات کا جواب سامنے آنے والا ہے۔

