عادل آباد ضلع میں موسمی بیماریوں کا قہر ڈینگو کے بڑھتے کیسز نے بجائی خطرے کی گھنٹی، سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹروں اور ادویات کی قلت

عادل آباد ضلع میں موسمی بیماریوں کا قہر

ڈینگو کے بڑھتے کیسز نے بجائی خطرے کی گھنٹی، سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹروں اور ادویات کی قلت

عادل آباد، 9 /ستمبر(تلنگانہ وائس) عادل آباد ضلع میں موسمی بیماریوں کے بڑھتے واقعات نے عوام میں تشویش پیدا کردی ہے۔ بخار، نزلہ، زکام، کھانسی اور جسم میں درد کی شکایات کے ساتھ بڑی تعداد میں مریض سرکاری و خانگی اسپتالوں کا رخ کررہے ہیں۔ عادل آباد ضلع کے مختلف سرکاری اسپتالوں اور پرائمری ہیلتھ سنٹروں میں مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ دوسری جانب ڈینگو کے کیسز میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران ضلع میں ڈینگو کے 33 کیسز درج ہونے کی اطلاع ہے۔

Advertising

موسمی بیماریوں کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ’تلنگانہ وائس‘  کی ٹیم نے منگل کی صبح ضلع کے مختلف سرکاری اسپتالوں کا دورہ کیا، جہاں طبی سہولتوں کی کمی اور عملہ کی قلت کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرتے دیکھا گیا۔

Advertising

رمس میں تقریباً 2 ہزار او پی

عادل آباد کے رمس اسپتال کے او پی شعبہ میں منگل کی صبح تقریباً 10:30 بجے مریضوں اور ان کے تیمارداروں کا ہجوم دیکھا گیا۔ موسمی بخار میں مبتلا مریض بڑی تعداد میں ڈاکٹروں سے رجوع کررہے تھے اور نسخے کے حصول کے لیے طویل قطاریں لگی ہوئی تھیں۔ اس دن تقریباً 2 ہزار او پی درج ہونے کی اطلاع ہے۔

Advertising

رمـس کے بیشتر شعبوں میں ڈاکٹر موجود تھے، تاہم این سی ڈی شعبہ میں ڈاکٹر دستیاب نہیں تھے۔ پیتھالوجی شعبہ میں زیر تربیت طلبہ خون کے نمونے حاصل کرتے ہوئے نظر آئے، جبکہ لیب ٹیکنیشن دستیاب نہیں تھے۔

Advertising

سرکاری دواخانے میں ادویات کی قلت

رمـس فارمیسی میں بھی مریضوں کو مکمل ادویات دستیاب نہ ہونے کی شکایات سامنے آئیں۔ بعض مریضوں نے بتایا کہ انہیں چند گولیاں فراہم کرنے کے بعد باقی ادویات خانگی میڈیکل اسٹور سے خریدنے کا مشورہ دیا جارہا ہے۔ اس صورتحال کے باعث اسپتال کے احاطہ میں موجود تین خانگی میڈیکل اسٹوروں پر مریضوں کا رش بڑھ گیا ہے۔

22 پی ایچ سی، 50 طبی عہدے، 24 خالی

ضلع میں ڈاکٹروں کی قلت بھی سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ ضلع میں 22 پرائمری ہیلتھ سنٹر ہیں، جہاں منظورہ 50 میڈیکل آفیسر عہدوں میں سے 24 عہدے خالی ہیں اور صرف 28 ڈاکٹر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ پی جی میں داخلہ ملنے کے باعث 16 ڈاکٹروں کے چلے جانے سے کئی مراکز میں طبی خدمات متاثر ہوئی ہیں۔

بائل پی ایچ سی میں صرف میڈیکل آفیسر

بائل کے پی ایچ سی میں صرف میڈیکل آفیسر خدمات انجام دیتے ہوئے پائے گئے، جبکہ دیگر عملہ کی کمی ہے۔ یہاں تقریباً 60 مریض او پی کے لیے پہنچے۔

ڈینگو کے کیسز میں اضافہ

ضلع میں ڈینگو کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ عہدیداروں کے مطابق جولائی میں 6، اگست میں 20 اور ستمبر میں اب تک 7 کیسز درج ہوئے ہیں، یعنی گزشتہ تین ماہ میں مجموعی طور پر 33 کیسز سامنے آئے ہیں۔ تاہم غیر سرکاری طور پر یہ تعداد مزید زیادہ ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ شہر کے بنگارو گوڑہ، رنادیویانگر، کے آر کے کالونی، بھکتاپور، ایچوڑ کے دھرم پوری، اندراویلی کے شنکر گوڑہ اور نیراڈی گونڈہ کے ترنم علاقوں میں بھی ڈینگو کے کیسز سامنے آنے کی اطلاع ہے۔

صفائی کا ناقص انتظام بھی وجہ

ضلع میں صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات کو موسمی بیماریوں اور ڈینگو کے پھیلاؤ کی اہم وجوہات میں شمار کیا جارہا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ مچھروں کی افزائش پر قابو پانے اور صفائی کے مؤثر انتظامات کے ساتھ سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹروں، نرسوں، لیب ٹیکنیشنز اور ادویات کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔