جدید ٹیکنالوجی سے زراعت میں اخراجات کم اور منافع میں اضافہ ممکن ۔ ضلع  کلکٹر راجرشی شاہ

جدید ٹیکنالوجی سے زراعت میں اخراجات کم اور منافع میں اضافہ ممکن ۔ ضلع  کلکٹر راجرشی شاہ

عادل آباد، 11 ستمبر(تلنگانہ وائس) جدید ٹیکنالوجی کو زراعت میں وسیع پیمانے پر استعمال کرتے ہوئے کاشتکاری کے اخراجات اور وقت میں کمی لائی جاسکتی ہے، جس سے کسان زیادہ منافع حاصل کرسکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ضلع کلکٹر راجرشی شاہ نے جمعہ کو تلامڈگو منڈل کے پالسی (کے) گاؤں کے دورے کے موقع پر کیا۔

ضلع کلکٹر نے گاؤں میں ڈیجیٹل کراپ سروے اور کپاس کے کھیت میں ڈرون کے ذریعے کیڑے مار ادویات کے چھڑکاؤ کا عملی طور پر معائنہ کیا۔ انہوں نے ڈرون کے استعمال اور اس سے حاصل ہونے والے فوائد کے بارے میں متعلقہ عہدیداروں سے معلومات حاصل کیں۔ بعد ازاں انہوں نے رضاکار کی جانب سے آس پاس کے کھیتوں میں کیے جارہے ڈیجیٹل کراپ سروے کا بھی جائزہ لیا۔

اس موقع پر منعقدہ گاؤں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کلکٹر نے کہا کہ دیہی علاقوں کی ہمہ جہت ترقی، کسانوں کی فلاح و بہبود اور بے روزگار نوجوانوں کو خود روزگار کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ گاؤں میں بنیادی سہولیات سے متعلق مسائل کو مرحلہ وار حل کیا جائے گا۔

Advertising

ضلع کلکٹر راجرشی شاہ نے بتایا کہ گاؤں کے لیے بس کی سہولت فراہم کرنے کے سلسلے میں آر ٹی سی ڈی ایم سے بات چیت کی گئی ہے۔ پالسی (کے) سے تانڈا تک سڑک کی منظوری دی جاچکی ہے، جبکہ ڈورلی سڑک کے مسئلے کا جائزہ لے کر اسے حل کیا جائے گا۔ انہوں نے گاؤں کی گرام پنچایت عمارت کی تعمیر بھی آئی ٹی ڈی اے کے ذریعہ جلد مکمل کرنے کا تیقن دیا۔

Advertising

کلکٹر نے کسانوں کو کم بارش کی صورتحال سے نمٹنے اور معاشی طور پر مستحکم ہونے کے لیے مربوط زرعی طریقہ کار اپنانے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ روزگار ضمانت اسکیم کے تحت فارم پونڈس تعمیر کیے جائیں تو دوسری فصل کی کاشت کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ موجودہ فارم پونڈس کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ضروری فنڈز فراہم کرنے کا بھی انہوں نے وعدہ کیا۔

Advertising 

انہوں نے کسانوں کو مویشیوں کے شیڈ، ورمی کمپوسٹ یونٹس قائم کرتے ہوئے قدرتی زراعت اختیار کرنے کی ترغیب دی اور کہا کہ حکومت ایسے کسانوں کی ہر ممکن حوصلہ افزائی کرے گی۔

بے روزگار نوجوانوں سے دستیاب روزگار کے مواقع سے استفادہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کلکٹر نے بتایا کہ ضلع میں پہلی مرتبہ پالسی (کے) گاؤں کے دو نوجوانوں کو ڈرون پائلٹ کی تربیت فراہم کی گئی ہے۔ انہیں سی ایس آر فنڈز کے ذریعہ ایک لاکھ روپے مارجن منی کے ساتھ رعایتی شرح پر بینک قرض بھی فراہم کیا گیا ہے۔ مستقبل میں مزید نوجوانوں کو ڈرون کے ذریعے زرعی ادویات کے چھڑکاؤ کی مفت تربیت فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس ملازمتوں کی تیاری کرنے والے امیدواروں کے لیے عادل آباد اسٹڈی سرکل کے ذریعہ 100 کانسٹیبل اور 100 سب انسپکٹر امیدواروں کو مفت تربیت فراہم کی جائے گی۔

بعد ازاں کلکٹر نے اسکول کے احاطے میں قائم کچن گارڈن کا معائنہ کیا اور اس کی دیکھ بھال پر عملہ کی ستائش کی۔

اس موقع پر ضلع زرعی افسر بی۔ رویندر سنگھ، لیڈ ڈسٹرکٹ منیجر اُتپل کمار، کے وی کے سینئر سائنسداں ڈاکٹر این۔ رام گوپال ورما، تحصیلدار راج موہن، ایم پی ڈی او شنکر، سرپنچ نائتم چنو، محکمہ زراعت کے عہدیداران، کے وی کے سائنسداں، ڈرون آپریٹرس، تکنیکی عملہ، طلبہ اور دیگر موجود تھے۔