الیکشن کمیشن کی ساکھ کے تحفظ کے لیے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار استعفیٰ دیں ۔ ڈاکٹر نریش جادھو کلکٹریٹ کے سامنے کانگریس کا احتجاج، پولیس اور کارکنوں کے درمیان معمولی دھکم پیل

الیکشن کمیشن کی ساکھ کے تحفظ کے لیے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار استعفیٰ دیں ۔ ڈاکٹر نریش جادھو

کلکٹریٹ کے سامنے کانگریس کا احتجاج، پولیس اور کارکنوں کے درمیان معمولی دھکم پیل

عادل آباد۔28/ستمبر (تلنگانہ وائس)

الیکشن کمیشن آف انڈیا کی کارکردگی اور ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے عمل میں مبینہ بے قاعدگیوں کے خلاف عادل آباد ضلع کانگریس کمیٹی کی جانب سے پیر کو ڈی سی سی صدر ڈاکٹر نریش جادھو کی قیادت میں بڑے پیمانے پر احتجاجی ریالی اور دھرنا منعقد کیا گیا۔

Advertising

احتجاج سے قبل کانگریس قائدین نے گاندھی چوک اور امبیڈکر چوک پر مہاتما گاندھی اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے مجسموں پر پھول مالائیں چڑھاکر خراج عقیدت پیش کیا۔ بعد ازاں ضلع کانگریس دفتر سے ڈاکٹر نریش جادھو، سابق رکن پارلیمنٹ سویم بابوراؤ، عادل آباد اسمبلی حلقہ انچارج کندی سرینواس ریڈی، بوتھ اسمبلی حلقہ انچارج آڑے گجیندر، سابق TPCC جنرل سکریٹری گندرَتھ سجاتا، سابق مارکیٹ چیئرمین آلوری سنجیوا ریڈی اور عادل آباد مارکیٹ چیئرمین سری کانت ریڈی، ٹاون کانگریس صدر خضر پاشاہ کی قیادت میں سینکڑوں کانگریس کارکنوں نے ریالی نکالی اور کلکٹر دفتر پہنچے۔

Advertising

کلکٹریٹ کے سامنے دھرنا دیتے ہوئے کانگریس قائدین اور کارکنوں نے مرکزی الیکشن کمیشن کے طرزِ کار کے خلاف نعرے لگائے۔ اس موقع پر "گیانیش کمار استعفیٰ دو”، "ووٹ چور گدی چھوڑو” اور "مودی ڈاؤن ڈاؤن” جیسے نعرے بلند کیے گئے۔ مظاہرین نے انتخابی عمل میں شفافیت، جوابدہی اور ووٹروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔

Advertising

ڈاکٹر نریش جادھو نے کہا کہ ایک حالیہ اخباری تحقیقی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور ڈاکٹر وویک جوشی نے گزشتہ دس ماہ کے دوران کم از کم 14 مواقع پر الیکشن کمیشن کے فیصلوں اور احکامات پر باضابطہ اعتراضات درج کیے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اعتراضات ووٹر رجسٹریشن، ناموں کے اخراج و بحالی، فارم-6 میں تبدیلیوں اور ووٹر ڈیٹا بیس کے انتظام جیسے اہم امور سے متعلق بتائے گئے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ دوسری جانب الیکشن کمیشن کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ SIR سمیت حتمی فیصلے کمیشن کے ارکان کی منظوری اور اتفاقِ رائے سے لیے گئے ہیں۔ ڈاکٹر نریش جادھو نے مطالبہ کیا کہ ان تمام معاملات پر الیکشن کمیشن عوام کو مکمل شفافیت کے ساتھ وضاحت فراہم کرے، تاکہ انتخابی نظام پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جاری Special Intensive Revision (SIR) کے دوران 30 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی مسودہ ووٹر فہرستوں سے 13 کروڑ سے زائد نام حذف کیے گئے ہیں۔

ڈاکٹر نریش جادھو نے کہا کہ کسی بھی اہل ووٹر کا نام اس کی اطلاع کے بغیر ووٹر لسٹ سے حذف نہیں ہونا چاہیے۔ ہر ووٹر کو مناسب نوٹس، اپنا موقف پیش کرنے کا موقع، اصلاح اور اپیل کا مؤثر طریقہ فراہم کیا جانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ کا حق جمہوریت کی بنیاد ہے۔

 

 

 

ڈاکٹر نریش جادھو نے الیکشن کمیشن کی ساکھ، ادارہ جاتی خودمختاری اور عوامی اعتماد کے تحفظ کے لیے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے الیکشن کمشنروں کے درمیان مبینہ طور پر درج کیے گئے اعتراضات، متعلقہ فائلوں، داخلی نوٹس اور اجلاسوں کی کارروائی کو قانونی حدود کے اندر شفاف انداز میں عوام کے سامنے لانے اور SIR کے دوران ووٹر ناموں کے حذف و بحالی کے طریقۂ کار کا آزادانہ جائزہ لینے کا بھی مطالبہ کیا۔

 

 

 

دھرنے کے بعد کانگریس کارکنوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا پتلا نذرِ آتش کرنے کی کوشش کی، جسے پولیس نے روک دیا۔ اس دوران پولیس اور کانگریس کارکنوں کے درمیان کچھ دیر دھکم پیل ہوئی، جس سے کلکٹریٹ کے سامنے مختصر وقت کے لیے کشیدگی پیدا ہوگئی۔

 

بعد ازاں کانگریس قائدین نے ضلع ایڈیشنل کلکٹر کو یادداشت پیش کی، جس میں ووٹروں کے حقوق کے تحفظ، SIR عمل میں شفافیت اور الیکشن کمیشن کی جوابدہی کے سلسلے میں فوری اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔