اکتوبر کے دوسرے ہفتے سے کپاس کی خریداری کا آغاز
کسانوں کو کسی قسم کی دشواری نہ ہو، انتظامات کو حتمی شکل دینے کی ہدایت ۔ کلکٹر راجرشی شاہ
عادل آباد، 4 اکتوبر (تلنگانہ وائس نیوز)
ضلع کلکٹر راجرشی شاہ نے کہا کہ کسانوں کو کسی قسم کی دشواری پیش آئے بغیر اکتوبر کے دوسرے ہفتے سے عادل آباد زرعی مارکیٹ یارڈ میں کپاس کی خریداری شروع کرنے کے لیے منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کاٹن کارپوریشن آف انڈیا (CCI) کے تحت کپاس کی خریداری کی تاریخ جلد قطعی کی جائے گی اور کسانوں کو اس کی اطلاع دی جائے گی۔

کپاس کی خریداری کے پیش نظر کلکٹر راجرشی شاہ نے عادل آباد زرعی مارکیٹ کمیٹی کے چیئرمین بورنچو شری کانت ریڈی اور میونسپل چیئرپرسن بنڈاری انوشا ستیش کے ہمراہ زرعی مارکیٹ یارڈ کا اچانک معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے خستہ حال عمارتوں، وزن مشینوں، بیت الخلاء، کمپاؤنڈ وال سمیت مختلف علاقوں کا جائزہ لیا اور کسانوں کے لیے درکار بنیادی سہولیات اور کپاس کی خریداری کے دوران کیے جانے والے انتظامات پر عہدیداروں سے تبادلہ خیال کیا۔
Advertising

کلکٹر نے بتایا کہ اس سال اے ای اوز کو بھی نمی کی جانچ کے لیے مشینیں فراہم کی گئی ہیں۔ انہوں نے کسانوں کو مشورہ دیا کہ مارکیٹ میں کپاس لانے سے قبل کپاس میں نمی کی مقدار سے متعلق اپنے شکوک و شبہات قریبی اے ای او سے دور کرلیں۔
Advertising

انہوں نے مہاراشٹرا کے کِن وٹ اور ماہُور علاقوں کے کسانوں کے لیے خصوصی طور پر جِننگ ملز کا انتظام کرنے کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ کسان اپنی مختص کردہ جِننگ ملز کی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کے مطابق ہی کپاس مارکیٹ میں لائیں۔
Advertising

کلکٹر نے بتایا کہ اس وقت سڑک کے کام جاری رہنے کے باعث کپاس کے کسان اور گاڑی مالکان رام پور روڈ کے راستے زرعی مارکیٹ پہنچیں۔ انہوں نے مارکیٹ میں ٹریفک کے ہجوم کو قابو میں رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے پولیس عہدیداروں کو ہدایت دی۔
Advertising

انہوں نے کہا کہ کپاس کی خریداری کا عمل کسان دوست اور شفاف بنانے کے لیے عہدیدار اور مارکیٹ عملہ باہمی تال میل کے ساتھ کام کریں گے۔ بیماری یا عمر رسیدگی کے باعث خود مارکیٹ آنے سے قاصر کسانوں کی جانب سے ان کے قریبی خونی رشتہ دار مناسب دستاویزات کے ساتھ حاضر ہوں تو خریداری کا عمل سہل بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
کلکٹر راجرشی شاہ نے کسانوں کو مشورہ دیا کہ رقم جس بینک اکاؤنٹ میں جمع ہونی ہے، اس اکاؤنٹ کا ای-کے وائی سی مکمل کرنے کے ساتھ آدھار لنک کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹ آتے وقت پٹہ پاس بک، سلاٹ بک اور فارمر آئی ڈی رجسٹریشن کی تفصیلات تیار رکھنے پر خریداری کے بعد تین دن کے اندر رقم اکاؤنٹ میں جمع ہونے کا امکان ہے۔
کلکٹر نے مزید بتایا کہ مہاراشٹرا کے کِن وٹ اور ماہُور علاقوں کے کسانوں کے لیے اس سال مزید دو جِننگ ملز کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ پہلے ہی 29 جِننگ ملز کو قطعی کیا جا چکا ہے، جبکہ مزید پانچ جِننگ ملز قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مہاراشٹرا کے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی مختص کردہ جِننگ ملز کی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کے مطابق ہی کپاس لائیں۔
اس موقع پر مارکیٹ کمیٹی کے چیئرمین بورنچو شری کانت ریڈی نے کہا کہ مارکیٹ میں کسانوں کو کسی قسم کی پریشانی نہ ہو، اس کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مارکیٹ آنے والے کسانوں کے لیے کھانے اور پینے کے پانی کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ بالخصوص خواتین کسانوں کے لیے خصوصی بیت الخلاء کا انتظام کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسانوں کو ضروری معلومات اور مدد فراہم کرنے کے لیے ہیلپ ڈیسک کے ساتھ ڈیجیٹل ڈسپلے بھی قائم کیا جائے گا۔ گزشتہ سال وزن اور دیگر امور میں پیش آنے والی مشکلات دوبارہ نہ ہوں، اس کے لیے مناسب اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اس موقع پر مارکیٹ ڈی ایم او گجانند، سلیکشن گریڈ وٹھل، مارکیٹ ڈائریکٹر و دیگر ارکان موجود تھے۔

