عادل آباد میں بعض بی جے پی کونسلروں پر سیٹلمنٹ اور وصولی کے الزامات

 

عادل آباد۔ 6/جون (تلنگانہ وائس)

عادل آباد بلدیہ میں عوامی مسائل کے حل کے وعدوں کے ساتھ منتخب ہونے والے بعض کونسلروں پر اب مبینہ طور پر سیٹلمنٹ اور غیر قانونی وصولیوں کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق تعمیراتی اجازت ناموں کے معاملات میں موجود خامیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض کونسلر عمارت مالکان کے ساتھ سودے بازی کر رہے ہیں۔

ایک تلگو اخبار میں شائع خبر کے مطابق اگر تعمیراتی مالکان مطالبہ کے مطابق رقم ادا کریں تو معاملات آسانی سے نمٹا دیے جاتے ہیں، بصورت دیگر ٹاؤن پلاننگ حکام کو شکایات دے کر تعمیراتی کاموں میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔ اس صورتحال کے باعث بلدیہ میں تعمیراتی سرگرمیوں سے متعلق شکایات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ بعض کونسلر اپنے وارڈ میں کسی بھی عمارت کی منظوری اپنے علم کے بغیر جاری نہ کرنے کے لئے افسران پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ عوامی شکایات کی جانچ کے لئے ٹاؤن پلاننگ عملہ جب متعلقہ علاقوں کا دورہ کرتا ہے تو بعض اراکین انہیں روک کر سوالات بھی کر رہے ہیں۔

بلدیہ حکام نے مبینہ طور پر کونسلروں کے دباؤ سے تنگ آکر معاملہ ضلع کلکٹر کی توجہ میں لایا۔ ذرائع کے مطابق کلکٹر نے افسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ قانون کے مطابق کام کریں اور کسی بھی قسم کے دباؤ میں نہ آئیں۔

کئی واقعات بھی منظر عام پر آئے ہیں جن میں مختلف وارڈوں کے کونسلروں کے درمیان اختیارات اور مداخلت کے معاملات پر تنازعات پیدا ہوئے۔ ایک تجارتی کامپلیکس کی تعمیر کے معاملے میں دو کونسلروں کے درمیان اختلافات سامنے آئے جبکہ بعض دیگر معاملات میں شکایات کے ذریعے عمارت مالکان پر دباؤ ڈالنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

 

اشتہار ۔۔۔۔۔۔۔ Advertisment

شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ عوامی نمائندوں کو عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے اور بلدیہ کے انتظامی امور میں غیر ضروری مداخلت سے گریز کرنا چاہیے تاکہ شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔