تلنگانہ میں 544 مسلم عوامی نمائندے منتخب، مقامی انتخابات میں مسلم نمائندگی کا تاریخی اضافہ، بی سی ریزرویشن سے مسلم قیادت کو نئی طاقت ملی  “محمد علی شبیر “

تلنگانہ میں 544 مسلم عوامی نمائندے منتخب،

مقامی انتخابات میں مسلم نمائندگی کا تاریخی اضافہ،

بی سی ریزرویشن سے مسلم قیادت کو نئی طاقت ملی

 “محمد علی شبیر “

"تلنگانہ وائس”

کاماریڈی۔6/جون (سیدکوثرعلی کی رپورٹ) 

تلنگانہ حکومت کے مشیر برائے ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیتی بہبود محمد علی شبیر نے حالیہ گرام پنچایت اور بلدیاتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے تمام مسلم سرپنچوں، کونسلروں اور کارپوریٹروں کو دلی مبارکباد پیش کی ہے۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی صرف انتخابی فتح نہیں بلکہ مقامی جمہوریت میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی شمولیت اور بااختیاری کی علامت ہے۔ انہوں نے منتخب نمائندوں پر زور دیا کہ وہ اپنے علاقوں کے تمام طبقات کی خدمت دیانت داری، ذمہ داری اور عوامی جذبے کے ساتھ انجام دیں۔محمد علی شبیر نے بتایا کہ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ریاست تلنگانہ میں مجموعی طور پر 544 مسلم عوامی نمائندے منتخب ہوئے ہیں، جن میں 387 بلدیاتی اداروں سے جبکہ 157 سرپنچ کے طور پر کامیاب ہوئے ہیں۔ ان میں 256 نمائندے بی سی ریزرویشن نشستوں اور 288 عمومی نشستوں سے منتخب ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی مرحوم ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی قیادت والی کانگریس حکومت کے تاریخی فیصلوں کا نتیجہ ہے، جس کے تحت پسماندہ مسلمانوں کو بی سی-ای زمرہ کے تحت تعلیم اور ملازمتوں میں 4 فیصد ریزرویشن فراہم کیا گیا اور بعد ازاں مقامی اداروں کے انتخابات میں بھی بی سی ریزرویشن نشستوں سے مقابلہ کرنے کا حق دیا گیا۔

اشتہار۔ ۔۔۔۔۔۔Advertisment

محمد علی شبیر نے کہا کہ انہیں اس تاریخی فیصلے کا حصہ بننے پر فخر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم بااختیاری صرف تعلیم اور روزگار تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ سیاسی نمائندگی اور مقامی حکمرانی میں بھی اس کا اظہار ہونا چاہیے۔انہوں نے تمام منتخب نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ پارٹی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر عوامی خدمت، بنیادی سہولتوں کی فراہمی، تعلیم، صحت، صفائی، پینے کے پانی، خواتین کی فلاح، نوجوانوں کی ترقی اور سماجی ہم آہنگی پر خصوصی توجہ دیں۔انہوں نے نوجوان عوامی نمائندوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مقامی ادارے جمہوریت کی بنیاد ہوتے ہیں اور اس سطح پر کی جانے والی مخلصانہ خدمت عوام کی زندگیوں میں براہ راست تبدیلی لا سکتی ہے۔محمد علی شبیر نے کہا کہ بی سی ریزرویشن نشستوں کے ذریعے مسلم امیدواروں کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ آئینی پالیسیوں، عوامی مفاد پر مبنی فیصلوں اور سیاسی عزم کے ذریعے پسماندہ طبقات کو حقیقی مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے تمام منتخب مسلم عوامی نمائندوں کو ایک بار پھر مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے کامیاب دورِ کار کے لیے نیک تمناوں کااظہار کیا اور توقع ظاہر کی کہ وہ اپنی ذمہ داری عوامی خدمات و سماجی انصاف کیلئے بخوبی نبھائنگے۔