عادل آباد میں کمسن بچیوں کے خلاف جنسی جرائم کے واقعات تشویشناک
اسکول آٹو ڈرائیور سے لے کر دیگر افراد تک، معصوم بچیاں محفوظ نہیں؛ مختلف واقعات میں پولیس کی کارروائی، ملزمین گرفتار
چاکلیٹ اور دیگر لالچ دے کر معصوم بچیوں کو بنایا جا رہا ہے نشانہ، مختلف واقعات میں ملزمین گرفتار، والدین کو ڈی ایس پی جیون ریڈی کا محتاط رہنے کا مشورہ
عادل آباد، 4 نومبر (تلنگانہ وائس ڈیسک)عادل آباد ضلع میں کمسن بچیوں کے خلاف جنسی ہراسانی اور عصمت دری کے واقعات تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔ معصوم بچیوں کو مختلف بہانوں اور لالچ کے ذریعے اپنے جال میں پھنسا کر ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیے جانے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ ان میں بعض معاملات میں متاثرہ بچیوں کے قریبی ماحول سے تعلق رکھنے والے افراد بھی ملوث پائے گئے ہیں۔
ایک تلگو اخبار میں 3 نومبر کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق عادل آباد شہر میں ایک سات سالہ طالبہ کے ساتھ اس وقت جنسی زیادتی کا واقعہ پیش آیا جب اسے روزانہ اسکول لے جانے والا آٹو ڈرائیور ہی اس کا استحصال کرنے لگا۔ بتایا گیا ہے کہ 44 سالہ شادی شدہ آٹو ڈرائیور چاکلیٹ کا لالچ دے کر بچی کے ساتھ نازیبا حرکتیں کرتا تھا۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کرکے عدالتی تحویل میں بھیج دیا۔
Advertising

ایک دوسرے واقعہ میں شہر کی ایک کالونی میں چھ سالہ بچی کو ایک شخص نے بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ لے جاکر جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا۔ بچی کے والد کو اس بات کا علم ہونے پر انہوں نے ملزم کو روک کر پولیس میں شکایت درج کروائی، جس کے بعد ون ٹاؤن پولیس نے پوکسو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا۔
شاندار تقریبات کا بہترین مرکز—ڈبلیو کنوینشن ہال،اے سی، نان اے سی انکولی روڈ، عادل آباد
اسی طرح عادل آباد شہر کی ایک اور کالونی میں 16 سالہ لڑکی کے ساتھ دو افراد کی جانب سے اجتماعی عصمت دری کا سنگین واقعہ پیش آیا۔ رپورٹ کے مطابق متاثرہ لڑکی کی طبیعت خراب ہونے کے بعد اہل خانہ کو واقعہ کا علم ہوا۔
موالا پولیس اسٹیشن کے حدود میں بھی 12 سالہ بچی کو ایک خاتون کی جانب سے بہلا پھسلا کر قریبی جنگلاتی علاقے میں لے جانے اور وہاں دو نوجوانوں کے ذریعہ اجتماعی عصمت دری کیے جانے کا واقعہ رپورٹ ہوا ہے۔
والدین اور سرپرستوں کو محتاط رہنے کی ضرورت
ان واقعات کے تناظر میں بچوں کی حفاظت کے حوالے سے والدین اور سرپرستوں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ بالخصوص اسکول آنے جانے کے دوران بچوں کی نگرانی، انہیں لے جانے والے آٹو ڈرائیوروں اور دیگر افراد کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرنا اور بچوں سے روزانہ ان کے معمولات کے متعلق بات چیت کرنا ضروری ہے۔
بچوں کو یہ اعتماد بھی دلایا جانا چاہیے کہ اگر کوئی شخص انہیں چاکلیٹ یا دیگر چیزوں کا لالچ دے، غلط طریقے سے چھونے کی کوشش کرے یا کسی کو اس بات کا ذکر نہ کرنے کی دھمکی دے تو وہ بلا خوف اپنے والدین کو اطلاع دیں۔
والدین بچوں کی حفاظت کے لیے احتیاط برتیں: ڈی ایس پی جیون ریڈی

عادل آباد کے ڈی ایس پی ایل۔ جیون ریڈی نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بچیوں کی حفاظت کے معاملے میں خصوصی احتیاط برتیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو روزانہ اسکول آٹو یا بس کے ذریعہ بھیجا جاتا ہے، اس لیے ڈرائیوروں کے کردار اور ان کے پس منظر کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ضروری ہے۔ اگر اسکول کی چھٹی کے بعد بچی مقررہ وقت پر گھر نہ پہنچے تو والدین فوری طور پر اس کی معلومات حاصل کریں۔
Advertising

بچیوں کی حفاظت صرف پولیس یا اسکول انتظامیہ کی ذمہ داری نہیں بلکہ والدین، سرپرستوں اور پورے سماج کو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
Advertising

