لکشٹی پیٹ کسان اجلاس میں کے ٹی آر کی کانگریس حکومت پر شدید تنقید۔کالیشورم، روزگار اور کسانوں کے مسائل پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا، بی آر ایس کی واپسی کا دعویٰ

لکشٹی پیٹ کسان اجلاس میں کے ٹی آر کی کانگریس حکومت پر شدید تنقید

نوجوانوں اور کسانوں میں حکومت کے خلاف شدید ناراضگی، بی آر ایس دوبارہ اقتدار میں آئے گی: کے ٹی آر

کالیشورم، روزگار اور کسانوں کے مسائل پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا، بی آر ایس کی واپسی کا دعویٰ

منچریال.21/جولائی(تلنگانہ وائس) بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ (کے ٹی آر) نے کہا کہ ریاست میں موجودہ قحط قدرتی نہیں بلکہ کانگریس حکومت کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ وہ منگل کے روز ضلع منچریال کے لکشٹی پیٹ میں منعقدہ کسان اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

کے ٹی آر نے الزام لگایا کہ کانگریس حکومت نے نوجوانوں، کسانوں اور خواتین سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے اور عوام کو دھوکہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح دہلی میں نوجوانوں نے مرکزی حکومت کے خلاف احتجاج کیا، اسی طرح تلنگانہ میں بھی کانگریس حکومت کو عوامی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ فصلوں کی خریداری میں حکومتی غفلت کے باعث منچریال ضلع میں چار کسان جان کی بازی ہار گئے، لیکن حکومت نے متاثرہ خاندانوں کی کوئی مدد نہیں کی۔ انہوں نے بتایا کہ بی آر ایس کی جانب سے پارٹی سربراہ کے سی آر کی ہدایت پر چاروں متاثرہ خاندانوں کو پانچ، پانچ لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کی گئی، جبکہ رعیتو بیمہ اسکیم کے تحت بھی انہیں پانچ لاکھ روپے ملے۔

Advertising

کے ٹی آر نے کالیشورم پراجکٹ کو نظرانداز کرنے، یوریا کی فراہمی میں مشکلات پیدا کرنے اور کسان بندھو فنڈس کی ادائیگی میں تاخیر پر بھی کانگریس حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوام آئندہ انتخابات میں کانگریس کو مسترد کرکے کے سی آر کی قیادت میں دوبارہ بی آر ایس حکومت قائم کریں گے۔

Advertising

اس موقع پر سابق وزراء کوپولا ایشور، ویمولا پرشانت ریڈی، جوگو رامنا، جنرل سکریٹری ٹی جیون ریڈی، ایم ایل اے ڈاکٹر کلواکنٹلا سنجے، کووا لکشمی، سابق ارکان اسمبلی اور پارٹی کے دیگر قائدین بھی موجود تھے۔