عادل آباد میں انسدادِ تجاوزات کارروائی پر سیاسی ہلچل، اسٹریٹ وینڈرز کے حق میں مختلف جماعتیں میدان میں، روزگار اور نقصان کا معاملہ گرما گیا

عادل آباد میں انسدادِ تجاوزات کارروائی پر سیاسی ہلچل، اسٹریٹ وینڈرز کے حق میں مختلف جماعتیں میدان میں، روزگار اور نقصان کا معاملہ گرما گیا

عادل آباد۔6/اگست(تلنگانہ وائس نیوز) رام لیلا میدان اور رعیتو بازار کے اطراف مجلس بلدیہ عادل آباد کی جانب سے انسدادِ تجاوزات مہم کے تحت فٹ پاتھ پر قائم ناریل، سبزی اور دیگر ٹھیلوں کو ہٹائے جانے کے بعد شہر میں سیاسی ماحول گرم ہوگیا۔ میونسپل عملے نے جمعرات کی صبح سویرے پولیس کی موجودگی میں کارروائی انجام دی، جس کے بعد متاثرہ اسٹریٹ وینڈرز نے احتجاج کرتے ہوئے انصاف اور اپنے روزگار کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔

متاثرہ تاجروں کا الزام ہے کہ کارروائی کے دوران نہ صرف انہیں فٹ پاتھ سے بے دخل کیا گیا بلکہ ان کے عارضی شیڈ، ٹھیلا بنڈیاں اور دیگر سامان کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ ان کے مطابق بعض ٹھیلا بنڈیوں اور سامان کو سڑکوں پر منتشر کر دیا گیا، جبکہ کچھ سامان نالوں میں دھکیل دیا گیا، جس سے انہیں بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف ان کے روزگار کا ذریعہ چھین لیا گیا اور دوسری جانب ان کے سامان کو نقصان پہنچا کر مزید مشکلات میں مبتلا کر دیا گیا۔

احتجاج کی اطلاع ملتے ہی میونسپل وائس چیئرمین محمد روہیت، سابق ڈی سی سی صدر ساجد خان، مجلس اتحاد المسلمین کے ٹاؤن صدر نذیر احمد، کانگریس ٹاؤن صدر خضر پاشاہ، مجلس اور کانگریس کے کونسلرس سمیت مختلف عوامی نمائندے موقع پر پہنچے اور متاثرہ اسٹریٹ وینڈرز سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ اس دوران مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ پیشگی نوٹس دیے بغیر کارروائی کی گئی، ان کے کاروبار کو نقصان پہنچایا گیا اور میونسپل انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی گئی۔

بعد ازاں پولیس کی موجودگی میں میونسپل چیئرپرسن کے نمائندہ بنڈاری ستیش، وائس چیئرمین محمد روہیت، مجلس اور کانگریس کے قائدین و کونسلرس نے رام لیلا میدان اور رعیتو بازار کے اطراف کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر اسٹریٹ وینڈرز کو مشورہ دیا گیا کہ وہ ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ پیدا کیے بغیر اپنا کاروبار جاری رکھیں۔

عوامی نمائندوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ رعیتو بازار کے اندر کافی دکانیں اور جگہ خالی پڑی ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر سبزی فروش اور دیگر اسٹریٹ وینڈرز باہمی اتفاق سے بازار کے اندر منتقل ہو جائیں تو ایک جانب ٹریفک جام اور تجاوزات جیسے مسائل ختم ہوں گے اور دوسری جانب ان کا روزگار بھی محفوظ رہے گا۔

دوسری جانب متاثرہ اسٹریٹ وینڈرز نے سوال اٹھایا کہ کارروائی کے دوران ہونے والے مالی نقصان کی ذمہ داری کون قبول کرے گا اور ان کے ٹھیلوں، شیڈز اور دیگر سامان کے نقصان کا معاوضہ کون ادا کرے گا؟ انہوں نے مجلس بلدیہ کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ پورے معاملے کی غیرجانبدارانہ جانچ کرائی جائے، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور متاثرہ تاجروں کو مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے۔

متاثرین کا کہنا ہے کہ ان کے خاندانوں کا گزر بسر روزانہ کی آمدنی پر منحصر ہے، اس لیے حکومت اور میونسپل انتظامیہ کو ایسا مستقل اور انسانی ہمدردی پر مبنی حل تلاش کرنا چاہیے جس سے شہریوں کو تجاوزات اور ٹریفک کے مسائل سے بھی نجات ملے اور غریب اسٹریٹ وینڈرز کا روزگار بھی محفوظ رہے۔

Advertising

واضح رہے کہ خبر لکھے جانے تک اس معاملے پر مجلس بلدیہ عادل آباد کی جانب سے کوئی سرکاری وضاحت یا بیان جاری نہیں کیا گیا تھا۔ اگر بعد میں متعلقہ حکام کا مؤقف موصول ہوتا ہے تو اسے بھی شامل کیا جائے گا۔

Advertising

اب دیکھنا یہ ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین اسٹریٹ وینڈرز کو عملی انصاف دلانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا یہ معاملہ صرف احتجاج اور بیانات تک ہی محدود رہ جاتا ہے۔

Advertising