اللہ اور رسول کی آواز پر لبیک کہے بغیر زندگی، زندگی نہیں،  حضور کی زندگی ہمارے لیے انمول تحفہ،ان کی روشن زندگی کا بار بار مذاکرہ ایمان میں اضافہ کا باعث،  حضور اکرم سے عقیدت و محبت کے اظہار کے لیے اسوۂ حسنہ کو مشعل راہ بنائیں، مسلمانوں کو شریعت محمدی پر عمل کی تلقین، 

اللہ اور رسول کی آواز پر لبیک کہے بغیر زندگی، زندگی نہیں،

حضور کی زندگی ہمارے لیے انمول تحفہ،ان کی روشن زندگی کا بار بار مذاکرہ ایمان میں اضافہ کا باعث،

حضور اکرم سے عقیدت و محبت کے اظہار کے لیے اسوۂ حسنہ کو مشعل راہ بنائیں،

مسلمانوں کو شریعت محمدی پر عمل کی تلقین،

آصف آباد میں پانچواں جلسہ عظمت مصطفیٰ ﷺ واصلاح معاشرہ سے مفتی احمد اللہ نثار قاسمی و مفتی عامر قاسمی کے بصیرت افروز خطابات

تلنگانہ وائس نیوز

آصف آباد،یکم/ ستمبر ( ساجد خان کی خصوصی رپورٹ)

انتظامیہ کمیٹی، علماء و حفاظ و نوجوانان آصف آباد کے زیر اہتمام ہفتہ کی شب 29 اگست 2026ء بمطابق 15 ربیع الاول 1448ھجری کو اے روز گارڈن فنکشن ہال آصف آباد میں بعنوان ’’عظمت مصطفیٰ ﷺ و اصلاح معاشرہ‘‘ فقیدالمثال عظیم الشان پانچواں جلسۂ عام کا کامیاب انعقاد عمل میں آیا۔ جلسہ میں علماء، حفاظ، ائمہ مساجد و خطباء حضرات،نوجوانان اسلام اور عاشقان رسول ﷺ نے کثیر تعداد میں شرکت کرتے ہوئے بارگاہ رسالت مآب ﷺ سے اپنی والہانہ عقیدت و محبت کا اظہار کیا۔

جلسہ کی صدارت استاذ العلماء و الحفاظ حافظ سید منیر احمد اشاعتی ناظم مدرسہ عربیہ کاشف العلوم جئے نور نے فرمائی، جبکہ زیر سرپرستی مولانا میر اشرف علی ہاشمی اسعدی (شہباز) اور زیر نگرانی حافظ و قاری میر طاہر علی ہاشمی گورنمنٹ صدر قاضی آصف آباد نے انجام دی۔

Advertising

اس موقع پر خصوصی مقررین کی حیثیت سے بے باک و شعلہ بیان نوجوان عالم دین حضرت مفتی احمد اللہ نثار قاسمی نقشبندی مجددی، بانی و ناظم دارالعلوم رشیدیہ و صدر دارالافتاء والارشاد حیدرآباد، اور فصیح اللسان و بلیغ البیان نوجوان عالم دین حضرت مفتی عامر رحمانی قاسمی، استاذ فقہ و ادب دارالعلوم رحمانیہ حیدرآباد نے شرکت کی اور اپنے بصیرت افروز، ایمان افروز اور اصلاحی خطابات سے شرکائے جلسہ کو مستفید فرمایا۔

اپنے خطاب میں علماء کرام نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اکرم ﷺ کی آواز پر لبیک کہے بغیر حقیقی زندگی کا مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔ حضور اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ پوری انسانیت کے لیے انمول تحفہ اور کامل نمونۂ حیات ہے۔ آپ ﷺ کی روشن زندگی کا بار بار تذکرہ اور اسوۂ حسنہ پر غور و عمل ایمان میں اضافہ اور کردار میں پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔

Advertising

انہوں نے کہا کہ حضور اکرم ﷺ سے حقیقی عقیدت و محبت کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کو اپنی زندگی کے لیے مشعل راہ بنائیں۔ محض محبت کے دعوے کے بجائے آپ ﷺ کی سنتوں، اخلاق و کردار اور تعلیمات کو اپنے گھروں، معاملات اور معاشرتی زندگی میں اختیار کیا جائے۔

Advertising

مقررین نے مسلمانوں کو شریعت محمدی ﷺ پر عمل کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ آج معاشرہ مختلف اخلاقی، سماجی اور خاندانی مسائل سے دوچار ہے۔ ان مسائل کاے حقیقی حل سیرت رسول ﷺ اور اسلامی تعلیمات میں موجود ہے۔ والدین، علماء، اساتذہ اور معاشرے کے ذمہ دار افراد کو نئی نسل کی دینی و اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

علماء کرام نے نوجوانوں اور بچوں کی دینی و اخلاقی تربیت پر خصوصی زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں نوجوان نسل مختلف تہذیبی اور معاشرتی اثرات کی زد میں ہے۔ والدین اپنی اولاد کی نگرانی کے ساتھ ساتھ ان کے ساتھ محبت، اعتماد اور حکمت کا معاملہ کریں اور انہیں اچھے ماحول، دینی تعلیم اور صالح صحبت فراہم کریں۔

انہوں نے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو ایمان و کردار کی حفاظت کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ جذباتی فیصلوں سے گریز کریں، والدین کے احترام کو ملحوظ رکھیں اور غیر اسلامی تعلقات و ایسے روابط سے اجتناب کریں جو ان کے ایمان، عزت، خاندان اور مستقبل کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ ازدواجی معاملات میں دینی و اخلاقی اقدار، خاندان کی خیرخواہی اور مستقبل کے نتائج کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔

مقررین نے نوجوان نسل کو تعلیم جاری رکھنے کی بھی خصوصی تلقین کی اور کہا کہ لڑکے اور لڑکیاں دینی اقدار کے ساتھ عصری تعلیم اور ہنر حاصل کریں، اپنی صلاحیتوں کو نکھاریں اور ملک و ملت اور معاشرے کے لیے مفید اور باکردار افراد بننے کی کوشش کریں۔

خواتین کے حقوق اور گھریلو زندگی کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے علماء کرام نے کہا کہ اسلام نے عورت کو عزت، وقار، تحفظ اور مختلف بنیادی حقوق عطا کیے ہیں۔ ماں، بیٹی، بہن اور بیوی کی حیثیت سے عورت کے مقام و مرتبہ کو سمجھنا اور اس کے جائز حقوق ادا کرنا اسلامی معاشرت کا اہم تقاضا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شادی کے بعد میاں بیوی دونوں ایک دوسرے کے حقوق ادا کریں اور باہمی محبت، اعتماد، صبر و تحمل اور حسن سلوک کو اختیار کریں۔ نئی دلہن کو سسرال میں حسن اخلاق، محبت اور حکمت کے ساتھ زندگی گزارنی چاہیے اور ساس، سسر اور دیگر اہل خانہ کے ساتھ احترام سے پیش آنا چاہیے، جبکہ شوہر پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنی اہلیہ کے حقوق ادا کرتے ہوئے اسے عزت، تحفظ اور محبت فراہم کرے۔

مقررین نے واضح کیا کہ خوشحال خاندان کی ذمہ داری صرف عورت پر نہیں بلکہ شوہر اور بیوی دونوں پر عائد ہوتی ہے۔ باہمی احترام، برداشت، گفت و شنید اور اسلامی تعلیمات پر عمل ہی ایک مضبوط اور پرسکون خاندان کی بنیاد ہے۔

جلسہ کا آغاز مفتی انس قاسمی امام و خطیب مسجد ھدیٰ (مرکز) آصف آباد کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، جبکہ مولانا شیخ اسلم مفتاحی امام و خطیب مسجد ابو بکر جئے نور نے بارگاہ رسالت ﷺ میں نعت رسول مقبول ﷺ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔

جلسہ کی زیر قیادت حافظ و قاری محمد ساجد خان امام و خطیب مسجد صحابہ آصف آباد نے ذمہ داریاں انجام دیں، جبکہ مولانا سید ہارون رشید قاسمی جھری صدر مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع آصف آباد نے بحیثیت ناظم جلسہ امور انجام دیے۔ مفتی شیخ ساجد قاسمی امام و خطیب مسجد قدیم (مرکز) کاغذنگر نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔

جلسہ کے دوران علماء کرام کے اصلاحی بیانات، تلاوتِ کلام پاک اور نعت رسول مقبول ﷺ سے محفل کا ماحول ایمان افروز اور روح پرور بنا رہا۔ شرکائے جلسہ نے مقررین کے خطابات کو نہایت توجہ و عقیدت سے سماعت کیا۔

جلسہ کے اختتام پر امت مسلمہ، ملک و ملت کی سلامتی، نوجوان نسل کی دینی و اخلاقی حفاظت، معاشرے کی اصلاح اور گھروں میں امن و سکون کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ بعد ازاں نماز عشاء بھی اے روز گارڈن فنکشن ہال میں ہی ادا کی گئی۔ مقامی و دور دراز علاقوں سے آنے والے شرکائے جلسہ کے لیے انتظامیہ کی جانب سے طعام کا خصوصی انتظام کیا گیا تھا، جبکہ خواتین کے لیے پردے کا بھی معقول انتظام کیا گیا تھا۔

جلسہ کے کامیاب انعقاد پر انتظامیہ کمیٹی علماء و حفاظ و نوجوانان آصف آباد کی جانب سے تمام علماء کرام، حفاظ، ائمہ،ائمہ مساجد و خطباء حضرات، نوجوانان اسلام، معززین اور عامتہ المسلمین کا شکریہ ادا کیا گیا .