عادل آباد رمس میں مدر و طفل نگہداشت کو اولین ترجیح، جدید طبی سہولیات کا جائزہ
آتشزدگی میں جاں بحق پانچ بچوں کے خاندانوں کو فی کس 5 لاکھ روپے ایکس گریشیا؛ کلکٹر راجرشی شاہ کا رمس کا دورہ، حفاظتی انتظامات مزید مستحکم کرنے کا اعلان
عادل آباد۔24/ستمبر ( تلنگانہ وائس نیوز)عادل آباد ضلع کلکٹر راجرشی شاہ نے کہا کہ رمس اسپتال کے نومولود بچوں کے وارڈ میں حالیہ آتشزدگی کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کے اعادہ کو روکنے کے لیے اسپتال میں حفاظتی انتظامات کو مزید مستحکم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدر و طفل اموات میں کمی لانے کے ساتھ ساتھ نومولود بچوں کو بہترین طبی سہولیات مقامی سطح پر ہی فراہم کرنے کے مقصد سے رمس میں خصوصی انتظامات تیزی سے کیے جا رہے ہیں۔جمعرات کو چائلڈ پروٹیکشن کمیشن کے ارکان کے ہمراہ رمس کا دورہ کرنے والے کلکٹر نے کریٹیکل کیئر وارڈ، شعبہ اطفال، پہلی منزل پر واقع آئی سی یو وارڈ سمیت مختلف شعبوں کا معائنہ کیا۔ انہوں نے ایمس کے ڈاکٹروں کے ساتھ بچوں کو فراہم کی جانے والی طبی خدمات، دستیاب طبی آلات، عملہ کی کارکردگی اور ہنگامی طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔کلکٹر نے بتایا کہ رمس کے شعبہ اطفال میں نومولود بچوں کے لیے جدید طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔

ماؤں اور بچوں کی سہولت کے لیے مدر بیڈس کے ساتھ خصوصی بیڈس بھی قائم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آکسیجن لائننگ، بیبی وارمرز، سی پی اے پی سپورٹ، وینٹی لیٹرز اور ٹرانسپورٹ انکیوبیٹر جیسے جدید طبی آلات دستیاب ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر 34 بیڈس قائم کیے گئے ہیں، جن میں 23 بیڈس کو براہِ راست آکسیجن کی سہولت جبکہ 11 بیڈس کو سی پی اے پی سپورٹ حاصل ہے۔ مادر و طفل کے ماہرین، ماہر اطفال اور خصوصی تربیت یافتہ اسٹاف نرسیں مسلسل دستیاب رہتے ہوئے بچوں کی صحت کی صورتحال کی نگرانی کریں گی۔
Advertising

کلکٹر نے بتایا کہ رمس آتشزدگی میں جاں بحق ہونے والے پانچ بچوں کے خاندانوں کو حکومت کی جانب سے فی کس 5 لاکھ روپے ایکس گریشیا کے چیکس حوالے کیے گئے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہے اور ضرورت کے مطابق ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ آتشزدگی کے واقعہ کی جامع تحقیقات کے لیے خصوصی ملٹی ڈسپلنری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
Advertising

اسپتال کے حفاظتی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے خامیوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے اور ضروری احتیاطی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔کلکٹر راجرشی شاہ نے بتایا کہ رمس میں زیر علاج بعض بچے صحت یاب ہوکر پہلے ہی ڈسچارج ہوچکے ہیں، جبکہ دیگر بچے ڈاکٹروں کی مسلسل نگرانی میں مستحکم حالت میں ہیں۔ جن بچوں کو فوری طور پر بہتر علاج کی ضرورت ہے، انہیں سنگل پوائنٹ آف کانٹیکٹ کے ذریعے حیدرآباد کے معروف پرائیویٹ اسپتالوں میں منتقل کرکے علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ بدھ کی رات 15 بچوں میں سے سات بچوں کو بحفاظت حیدرآباد منتقل کیا گیا، جہاں انہیں بہتر طبی علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔
Advertising

حیدرآباد میں زیر علاج بچوں کی صحت کی صورتحال کے بارے میں ڈاکٹروں سے مسلسل رابطہ رکھتے ہوئے نگرانی کی جا رہی ہے۔
کلکٹر نے واضح کیا کہ مدر و طفل نگہداشت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے رمس میں طبی خدمات کے معیار کے ساتھ ساتھ حفاظتی انتظامات کو بھی مزید بہتر بنایا جائے گا۔رمس آتشزدگی کے واقعہ پر ریاستی خواتین کمیشن کی ارکان ماری پیلی چندنا اور پریملتا اگروال نے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ کمیشن کی چیئرپرسن سیتا دیاکر ریڈی کی ہدایت پر جمعرات کو دونوں نے رمس اسپتال کا دورہ کرتے ہوئے جائے حادثہ کا معائنہ کیا۔بعد ازاں انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں حوصلہ دیا۔ کمیشن کے ارکان نے جاں بحق بچوں کے خاندانوں کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ فی کس 5 لاکھ روپے ایکس گریشیا کی فراہمی کا ذکر کیا اور کہا کہ زیر علاج بچوں کی صحت کی صورتحال کی خواتین کمیشن کی جانب سے مسلسل نگرانی کی جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ آتشزدگی کے واقعہ کی جامع تحقیقات کرنے کے لیے عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے۔ متاثرہ خاندانوں کو خواتین کمیشن کی جانب سے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کا بھی یقین دلایا گیا۔اس موقع پر ایڈیشنل کلکٹر راجیشور، رمس ڈائریکٹر جئے سنگھ راتھوڑ، ڈی ڈی ڈبلیو او ملکا، چائلڈ پروٹیکشن آفیسر راجندر پرساد کے علاوہ ڈاکٹرس اور متعلقہ عہدیدار موجود تھے۔

