عادل آباد رمس اسپتال میں آئی سی یو میں اے سی کی باقاعدہ دیکھ بھال ضروری
رِمس حادثے کے بعد اے سی کی مینٹیننس اور برقی حفاظت پر سوالات
تلنگانہ وائس ڈیسک اسپیشل رپورٹ
عادل آباد۔24/ستمبر(سینئیر صحافی مرزا مجتبی بیگ) اسپتالوں کے آئی سی یو اور خصوصی نگہداشت کے وارڈز میں مریضوں اور طبی آلات کو مناسب درجہ حرارت فراہم کرنے کے لیے ایئر کنڈیشنرز (اے سی) کا استعمال کیا جاتا ہے۔ خصوصاً وینٹی لیٹرز اور دیگر حساس طبی آلات کو زیادہ درجہ حرارت سے محفوظ رکھنے میں اے سی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم اے سی کی بروقت صفائی اور باقاعدہ دیکھ بھال نہ ہونے کی صورت میں شارٹ سرکٹ جیسے خطرات پیدا ہونے کا امکان رہتا ہے۔
حال ہی میں عادل آباد رِمس اسپتال کے ایس این سی یو میں پیش آئے آتشزدگی کے واقعہ میں اے سی سے آگ لگنے اور بعد ازاں دھماکہ ہونے کے بعد اسپتالوں میں نصب اے سی کی دیکھ بھال اور برقی حفاظتی انتظامات پر توجہ مرکوز ہوئی ہے۔ اس حادثے میں زیر علاج نومولود بچوں کی اموات نے انتظامی اور حفاظتی اقدامات پر بھی سوالات کھڑے کیے ہیں۔
Advertising

اے سی ماہرین کے مطابق تقریباً 20×20 فٹ کے ہال کے لیے ضرورت کے مطابق دو ٹن اور ڈیڑھ ٹن گنجائش والے اے سی درکار ہوسکتے ہیں۔ اے سی میں آٹومیٹک آن اور آف نظام نصب کیا جائے تو ہال کے درجہ حرارت کے مطابق اے سی خودکار طور پر چلنے اور بند ہونے کی وجہ سے اس کی کارکردگی اور پائیداری بہتر رہتی ہے۔
ہر تین ماہ میں صفائی ضروری
ماہرین کے مطابق اے سی کی کم از کم ہر تین ماہ میں ایک مرتبہ مکمل صفائی اور مینٹیننس کی جانی چاہیے۔ اے سی میں گرد و غبار جمع ہونے سے مطلوبہ ٹھنڈک حاصل نہیں ہوتی، جبکہ مسلسل چلنے کی صورت میں برقی تاروں پر اضافی دباؤ پڑنے اور ان کے گرم ہونے سے شارٹ سرکٹ کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
Advertising

موجودہ دور کے کئی اے سی میں R-32 گیس استعمال ہوتی ہے، جبکہ پرانے اے سی میں R-410A اور اس سے بھی پرانے ماڈلز میں R-22 گیس استعمال کی جاتی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ برقی خرابی کے باعث اے سی کے اندر معمولی چنگاری یا آگ پیدا ہونے کی صورت میں صورتحال سنگین ہوسکتی ہے، اس لیے برقی نظام اور اے سی کی باقاعدہ جانچ ضروری ہے۔
پانی کی نکاسی کا نظام بھی اہم
اے سی سے خارج ہونے والے پانی کی نکاسی کے لیے مناسب پائپنگ ضروری ہے۔ اگر ڈرین پائپ بند ہوجائے تو پانی اور نمی کے باعث برقی حصوں میں خرابی پیدا ہونے اور شارٹ سرکٹ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے اے سی کی صفائی کے ساتھ ڈرین پائپ اور دیگر برقی حصوں کی بھی باقاعدہ جانچ کی جانی چاہیے۔
عادل آباد ضلع میں متعدد آئی سی یو مراکز
موصولہ تفصیلات کے مطابق عادل آباد ضلع میں سوپر اسپیشالٹی اسپتال میں 5 اور اُٹنور سرکاری اسپتال میں 2 آئی سی یو موجود ہیں، جبکہ ضلع کے تقریباً 20 نجی اسپتالوں میں بھی آئی سی یو سہولتیں دستیاب ہیں۔ ایسے تمام مقامات پر اے سی، برقی نظام اور دیگر حفاظتی آلات کی باقاعدہ جانچ کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔
سابقہ واقعات سے سبق کیوں نہیں لیا گیا؟
رِمس اسپتال میں ماضی میں بھی آئی سی یو میں شارٹ سرکٹ کے واقعات پیش آنے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم ان واقعات کی شدت کم ہونے کی وجہ سے کوئی بڑا حادثہ پیش نہیں آیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سابقہ واقعات کے بعد اگر اے سی اور برقی نظام کی مکمل جانچ اور ضروری حفاظتی اقدامات کیے جاتے تو حالیہ سانحے کے خطرے کو کم کیا جاسکتا تھا۔
رِمس کے ایس این سی یو میں پیش آئے حالیہ واقعہ نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ حساس طبی شعبوں میں نصب اے سی اور برقی آلات کی باقاعدہ مینٹیننس، فائر سیفٹی اور الیکٹریکل سیفٹی آڈٹ کو کس حد تک یقینی بنایا جارہا ہے؟
Advertising


