رمس عادل آباد آتشزدگی: NCPCR دہلی کی ٹیم عادل آباد پہنچ گئی، جامع تحقیقات جاری
تحقیقات مکمل ہونے کے بعد واقعہ کے اصل حقائق سامنے آنے کا امکان
عادل آباد، 30 ستمبر(تلنگانہ وائس)
عادل آباد کے راجیو گاندھی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (RIMS) کے اسپیشل نیونیٹل کیئر یونٹ (SNCU) میں پیش آئے آتشزدگی کے المناک واقعہ کی تحقیقات کے لیے قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال (NCPCR)دہلی کی ٹیم عادل آباد پہنچ گئی ہے۔ کمیشن کی جانب سے واقعہ کا ازخود نوٹس لیے جانے کے بعد ٹیم کی جانب سے جامع حقائق پر مبنی تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔
NCPCR نے 28 ستمبر کو جاری کردہ اپنے مکتوب میں بتایا تھا کہ RIMS کے نوزائیدہ بچوں کے یونٹ میں پیش آنے والی آتشزدگی کے نتیجے میں تین قبل از وقت پیدا ہونے والے شیر خوار بچوں کی موت ہوئی، جبکہ دیگر نوزائیدہ بچوں کو بحفاظت نکالنے کی کوشش کے دوران اسپتال کے عملے کے بعض افراد زخمی ہوئے۔
Advertising

کمیشن نے مختلف ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے والی رپورٹس کا نوٹس لیتے ہوئے CPCR ایکٹ 2005 کی دفعہ 13 کے تحت معاملے کی تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔
Advertising

NCPCR کی ٹیم میں چائلڈ ہیلتھ اینڈ سائیکالوجی کی سینئر ٹیکنیکل ایکسپرٹ شائستہ کے. شاہ کی قیادت میں کنسلٹنٹ شوبھی شرما اور تلنگانہ اسٹیٹ کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس کی ایک رکن شامل ہیں۔
Advertising

تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے RIMS کے متعلقہ افسران، میڈیکل انچارج اور دیگر ذمہ دار عہدیداروں سے واقعہ سے متعلق معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ جاں بحق بچوں کے والدین سے بھی ملاقات کرکے واقعہ سے متعلق تفصیلات معلوم کیے جانے کا امکان ہے۔
تحقیقات کے دوران آتشزدگی کے حالات، نوزائیدہ بچوں کی حفاظت کے لیے کیے گئے انتظامات، ہنگامی صورتحال میں اسپتال کے ردعمل اور دیگر متعلقہ امور کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
جامع تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واقعہ سے متعلق مزید حقائق اور ذمہ داری کے تعین سے متعلق صورتحال واضح ہونے کا امکان ہے۔ NCPCR کی رپورٹ میں سامنے آنے والے مشاہدات اور سفارشات کے بعد معاملے میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔

