خبر جاری کرنے سے قبل حقائق کی تصدیق ضروری ہے سوشل میڈیا کے دور میں فرضی خبروں کی روک تھام ضروری، صحافیوں کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہونے کا مشورہ ضلع کلکٹر راجارشی شاہ

خبر جاری کرنے سے قبل حقائق کی تصدیق ضروری ہے

سوشل میڈیا کے دور میں فرضی خبروں کی روک تھام ضروری، صحافیوں کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہونے کا مشورہ

ضلع کلکٹر راجارشی شاہ

عادل آباد، 9 اکتوبر(تلنگانہ وائس)ضلع کلکٹر راجرشی شاہ نے میڈیا نمائندوں کو مشورہ دیا کہ وہ خبریں شائع کرنے سے قبل حقائق کی باریک بینی سے جانچ کریں اور مکمل تصدیق کے بعد ہی عوام تک پہنچائیں۔

تلنگانہ ریاستی میڈیا اکیڈمی کے زیرِ اہتمام مقامی ٹی ٹی ڈی سی ہال میں منعقدہ دو روزہ صحافیوں کے تربیتی پروگرام سے جمعہ کے روز خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیشِ نظر فرضی خبروں اور غلط معلومات کے تیزی سے پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے صحافیوں کو مشورہ دیا کہ وہ مصنوعی ذہانت (AI) کی ٹیکنالوجی کے بارے میں اپنی معلومات میں اضافہ کریں اور غیر مصدقہ معلومات کو عام کرنے سے گریز کریں۔

Advertising

ضلع کلکٹر نے کہا کہ عوام اور حکومت کے درمیان رابطے کا ذریعہ بننے کے ساتھ ساتھ عوامی مسائل کو اجاگر کرنے میں میڈیا کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

تلنگانہ ریاستی میڈیا اکیڈمی کے چیئرمین سرینواس ریڈی نے کہا کہ صحافیوں کو بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے مطابق اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ خبروں میں تیزی کے مقابلے حقائق اور اعتبار کو زیادہ اہمیت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں عوامی مسائل اور سرکاری اسکیموں پر عمل آوری کو اجاگر کرنے میں مقامی صحافیوں کا کردار انتہائی اہم ہے۔

سرینواس ریڈی نے مزید کہا کہ میڈیا اکیڈمی صحافیوں کو تربیت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے مسائل کے حل کے لیے بھی کوششیں کر رہی ہے۔

 

بعد ازاں میڈیا اکیڈمی کے چیئرمین سرینواس ریڈی اور ضلع کلکٹر راجارشی شاہ کی شال پوشی کرتے ہوئے تہنیت پیش کی گئی۔

 

اس پروگرام میں تلنگانہ ریاستی میڈیا اکیڈمی کے سکریٹری ناگولا پلی وینکٹیشور راؤ، ڈی پی آر او وشنو وردھن، رچنا کالج کے پرنسپل اوما مہیشور راؤ، میڈیا ایسوسی ایشن کے نمائندوں راجیشور، دیویندر، بیتا رمیش، ونود، سریش،محمد شاہد احمد، خضر یافعی، عمیم شریف،محمد محسن،محمد شفیع،اشفاق احمد،شیخ معیز،بیگ صاحب،محمد آصف الدین، وینکٹ، کرن سمیت دیگر افراد کے علاوہ شہری اور دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی۔