عادل آباد میونسپل کونسل کے جنرل باڈی اجلاس میں ہنگامہ، کانگریس، بی آر ایس اور مجلس کے کونسلرس کا واک آؤٹ میونسپل چیرپرسن اور رکن اسمبلی پر ملی بھگت کا لگایا الزام

عادل آباد میونسپل کونسل کے جنرل باڈی اجلاس میں ہنگامہ، کانگریس، بی آر ایس اور مجلس کے کونسلرس کا واک آؤٹ

میونسپل چیرپرسن اور رکن اسمبلی پر ملی بھگت کا لگایا الزام

عادل آباد۔30/اکتوبر(تلنگانہ وائس ڈیسک)

عادل آباد میونسپلٹی کے دفتر میں جمعہ کے روز چیئرپرسن بنڈاری انوشا کی صدارت میں منعقدہ ہنگامی جنرل باڈی اجلاس گرما گرم بحث اور ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگیا۔ اجلاس کے آغاز کے کچھ ہی دیر بعد میڈیا نمائندوں کو اجلاس سے باہر بھیج دیا گیا۔

اجلاس کے دوران کونسلرس نے اپنے اپنے وارڈوں اور کالونیوں میں درپیش مسائل اور ترقیاتی کاموں کی عدم انجام دہی پر سوالات اٹھائے۔ چیئرپرسن کی جانب سے زیرو آور میں مسائل پر بات کرنے کا مشورہ دیے جانے کے باوجود کونسلرس نے اپنے مسائل پیش کرنے پر اصرار کیا، جس کے باعث اجلاس میں کچھ دیر تک گرما گرمی رہی۔

Advertising

بعد ازاں حکمراں جماعت کانگریس کے کونسلرس کے علاوہ بی آر ایس اور مجلس اتحاد المسلمین (ایم آئی ایم) کے وائس چیرمین سمیت کونسلرس نے اجلاس کا بائیکاٹ کردیا۔ اجلاس سے باہر نکلتے ہوئے انہوں نے میونسپل کمشنر جگدیشور گوڑ اور متعلقہ عہدیداروں کے خلاف نعرے بازی کی اور میونسپل دفتر کے روبرو احتجاج درج کروایا۔

 

میونسپل وائس چیئرمین محمد روہت نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ آٹھ ماہ سے میونسپل حدود میں کوئی ترقیاتی کام انجام نہیں دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہر اجلاس میں ترقیاتی کاموں کی انجام دہی کا تیقن دیا جاتا ہے، لیکن عملی طور پر کوئی پیش رفت دکھائی نہیں دیتی۔ انہوں نے "اشٹا لکشمی اسپننگ مل” سے متعلق کروڑوں روپے کے بقایہ پراپرٹی ٹیکس کی عدم وصولی پر بھی کمشنر سے سوال کیا اور الزام لگایا کہ عہدیدار صرف عام عوام پر ہی توجہ مرکوز کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ انتخابات کے وقت فٹ پاتھ تاجرین کے ساتھ انصاف کا وعدہ کیا تھا وہ بھی پورہ نہیں کیا گیا انہوں نے میونسپل کمشنر اور چیرپرسن پر جانبداری کا الزام لگایا۔

 

بی آر ایس کے میونسپل فلور لیڈر پرکاش نے کہا کہ میونسپلٹی میں ترقیاتی کام نہ ہونے کے خلاف ہی ان کی جماعت نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے وارڈ میں ڈرینیج کی تعمیر کے لیے رکن اسمبلی کے ذریعے 19 لاکھ روپے کے فنڈز منظور ہونے کے باوجود اب تک کام شروع نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق وارڈ کے عوام مسائل پر سوالات کررہے ہیں اور افتتاحی تقاریب کے باوجود ترقیاتی کام آگے نہیں بڑھ رہے ہیں۔

 

کانگریس کے فلور لیڈر سنجے نے بھی میونسپلٹی میں ترقیاتی کاموں کے ٹھپ ہوجانے پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ نو ماہ سے وارڈوں میں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوئے اور میونسپلٹی اپنی آمدنی کے وسائل سے بھی مناسب فائدہ اٹھانے میں ناکام ہے۔ انہوں نے چیئرپرسن اور رکن اسمبلی کے درمیان ملی بھگت کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے الزامات عائد کیے۔

 

کونسلرس نے میونسپل انتظامیہ پر وارڈوں کی ترقی کو نظرانداز کرنے، منظورہ فنڈز کے باوجود کاموں کو عملی جامہ نہ پہنانے اور ٹیکس کی وصولی میں مبینہ عدم دلچسپی کا الزام لگایا۔ تینوں جماعتوں کے کونسلرس کے مشترکہ واک آؤٹ اور احتجاج کے باعث میونسپل اجلاس میں سیاسی کشیدگی نمایاں رہی۔