- عادل آباد میں بی آر ایس کے اہم پروگراموں میں اردو صحافیوں کو نظر انداز کرنے پر تشویش

عادل آباد۔30/اکتوبر(تلنگانہ وائس) عادل آباد مستقر کے ڈائٹ گراؤنڈ میں یکم نومبر کو بی آر ایس پارٹی کی جانب سے کسانوں کے حق میں بڑے پیمانے پر جلسۂ عام بعنوان ’’رعیتو گرجنا‘‘ منعقد کیا جا رہا ہے۔
اس جلسے میں بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر بحیثیت مہمانِ خصوصی شرکت کرنے والے ہیں۔ جلسے کو کامیاب بنانے کے لیے سابق وزیر جوگو رامنا کی نگرانی میں تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔
اسی سلسلے میں بی آر ایس پارٹی دفتر میں حالیہ دنوں جلسے کے پوسٹر کی رونمائی بھی کی گئی۔
Advertising

ایک جانب بی آر ایس قائدین جلسے کو کامیاب بنانے کے لیے سرگرم ہیں، وہیں دوسری جانب اردو میڈیا کے نمائندوں کو مناسب طور پر مدعو نہ کیے جانے پر اردو صحافتی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ اردو صحافیوں کا کہنا ہے کہ سابق وزیر جوگو رامنا، ان کے اسسٹنٹ اور پارٹی سے وابستہ مسلم اقلیتی قائدین کی جانب سے اب تک نہ تو راست ملاقات کے ذریعے اور نہ ہی فون کال کرکے انہیں جلسے میں شرکت یا کوریج کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔
اردو میڈیا سے وابستہ صحافیوں کا الزام ہے کہ دیگر زبانوں کے صحافیوں اور اسٹاف رپورٹرز کو باضابطہ طور پر پروگراموں کی اطلاع دی جاتی ہے، جبکہ اردو صحافیوں کو عموماً واٹس ایپ گروپ میں پیغام یا پریس کانفرنس کی اطلاع تک محدود رکھا جاتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پارٹی کے اہم پروگراموں میں اردو میڈیا کے ساتھ اس طرح کا رویہ کوئی نیا معاملہ نہیں، بلکہ طویل عرصے سے اردو صحافیوں کو نظر انداز کیے جانے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں!
شہر کے بعض سماجی کارکنوں نے سوال اٹھایا ہے کہ جب اردو صحافی بھی عوامی مسائل کو اجاگر کرنے اور سیاسی سرگرمیوں کی کوریج میں اپنا اہم کردار ادا کرتے ہیں تو پھر انہیں دوسرے صحافیوں کی طرح یکساں اہمیت کیوں نہیں دی جاتی؟ ان کے مطابق، سینئر، بزرگ اور نوجوان اردو صحافیوں کو نظر انداز کرنا نہ صرف صحافتی برادری میں احساسِ محرومی پیدا کرتا ہے بلکہ اردو میڈیا کے ساتھ امتیازی رویے کے تاثر کو بھی تقویت دیتا ہے۔
اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

