فصلوں کی خریداری سے دستبرداری کا فیصلہ واپس لینے تک جدوجہد جاری رہے گی: کے ٹی آر
عادل آباد، 20 جون(تلنگانہ وائس) بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ (کے ٹی آر) نے کانگریس حکومت کی جانب سے فصلوں کی خریداری کے متعلق لیے گئے فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب تک حکومت اپنا فیصلہ واپس نہیں لیتی، بی آر ایس کسانوں کے حق میں اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے یہ بات حلقہ بوتھ میں منعقدہ بی آر ایس کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
کے ٹی آر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے چند روز قبل اعلان کیا تھا کہ کسانوں کی پیداوار کے آخری دانے تک خریداری کی جائے گی، مگر اب وہ اپنے وعدے سے منحرف ہو گئے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حالیہ کابینہ اجلاس میں ایسا فیصلہ لیا گیا ہے جو کسانوں کے لیے کسی لعنت سے کم نہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے اب مرکز کی جانب سے مقررہ کوٹہ کے مطابق ہی فصلیں خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر کسی کسان کی فی ایکڑ پیداوار کوٹہ سے زیادہ ہوتی ہے تو اضافی فصل کھلے بازار میں فروخت کرنا پڑے گی، جس سے کسانوں کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔

کے ٹی آر نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ سرکاری افسران کے بجائے کانگریس قائدین سے جواب طلب کریں اور پوچھیں کہ انتخابی وعدوں میں اعلان کردہ بونس اور خریداری مراکز کا کیا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی نااہلی کے باعث کسان خودکشیوں پر مجبور ہو رہے ہیں اور اس کے لیے کانگریس حکومت کو جواب دینا ہوگا۔

انہوں نے کانگریس اور بی جے پی کے ارکانِ پارلیمنٹ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے انہیں بھی اپنی ذمہ داری نبھانی چاہیے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سابق وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ (کے سی آر) کے دورِ حکومت میں جب مرکز نے بعض فصلوں کی خریداری سے انکار کیا تھا تو پوری کابینہ، ارکانِ اسمبلی، ارکانِ کونسل اور ارکانِ پارلیمنٹ دہلی جا کر احتجاج کرتے ہوئے کسانوں کے حق میں آواز بلند کی تھی۔

کے ٹی آر نے کہا کہ بی آر ایس حکومت کے دور میں کسانوں کی پیداوار کا ایک ایک دانہ خریدا گیا، چاہے اس کے لیے ریاستی خزانے پر ہزاروں کروڑ روپے کا بوجھ ہی کیوں نہ پڑا ہو۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریتھو بندھو، ریتھو بیمہ، قرض معافی، مشن کاکتیہ اور آبپاشی کے مختلف منصوبوں نے تلنگانہ کو ملک کی صفِ اول کی زرعی ریاست بنا دیا تھا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد کسانوں کو کھاد کی قلت، برقی مسائل، فصلوں کی خریداری کے بحران اور دیگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کے مفادات کے تحفظ اور زرعی شعبہ کی ترقی کے لیے ایک بار پھر کے سی آر جیسی قیادت کی ضرورت ہے۔
اجلاس میں سابق وزراء پرشانت ریڈی، جوگو رامنا، ارکانِ اسمبلی انیل جادھو، پاڈی کوشک ریڈی، ڈاکٹر کلواکنٹلہ سنجے، رکن قانون ساز کونسل نوین کمار ریڈی، سابق رکن اسمبلی جیون ریڈی، بی آر ایس قائد جانسن نائک اور دیگر پارٹی رہنماؤں نے شرکت کی۔

