تلنگانہ وائس اسپیشل انٹرویو
دانتوں کی صحت: عام مسائل، احتیاط اور جدید علاج
معروف ڈینٹل سرجن ڈاکٹر محمد سمیع الدین سے خصوصی گفتگو
An Exclusive Conversation with
Dr. Md. Samiuddin
B.D.S., M.B.A., D.P.H., M.L.E.
Care Dental Hospital
Opp.DB Mart
Mochigalli
Contact: 9949427055
Adilabad
Recognised as a Referal Hospital for Dental Treatment of State Government Employees

عادل آباد۔20/جولائی(تلنگانہ وائس) دانت انسانی صحت کا اہم حصہ ہیں۔ مضبوط اور صحت مند دانت نہ صرف غذا چبانے میں مدد دیتے ہیں بلکہ خوبصورت مسکراہٹ، واضح گفتگو اور مجموعی صحت کے لیے بھی ضروری ہیں۔ ان خیالات کا اظہار کیئر ڈینٹل ہاسپٹل، موچی گلی، ڈی بی مارٹ کے روبرو، عادل آباد کے معروف ڈینٹل سرجن ڈاکٹر محمد سمیع الدین (B.D.S., M.B.A., D.P.H., M.L.E.) نے تلنگانہ وائس کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کیئر ڈینٹل ہاسپٹل ریاستی سرکاری ملازمین کے دانتوں کے علاج کے لیے منظور شدہ ریفرل ہاسپٹل بھی ہے۔
سوال: دانتوں کی صحت کیوں ضروری ہے؟
ڈاکٹر محمد سمیع الدین: صحت مند دانت بہتر غذا، اچھی گفتگو اور پُراعتماد شخصیت کی بنیاد ہوتے ہیں۔ منہ کی صفائی میں غفلت سے مسوڑھوں کی بیماریاں، دانتوں کا ضیاع اور دیگر جسمانی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
سوال: کن افراد کو دانتوں کی خصوصی دیکھ بھال کرنی چاہیے؟
جواب: ہر عمر کے افراد کو دانتوں کی حفاظت ضروری ہے۔ بچوں کے دودھ کے دانت مستقل دانتوں کی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ نوجوان اور بالغ افراد کو روزانہ صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ حاملہ خواتین میں ہارمونز کی تبدیلی کے باعث مسوڑھوں کے مسائل بڑھ سکتے ہیں، جبکہ بزرگ افراد کو باقاعدہ ڈینٹل معائنہ کروانا چاہیے۔
سوال: دن میں کتنی مرتبہ برش کرنا چاہیے؟
جواب: کم از کم دن میں دو مرتبہ، ایک بار صبح ناشتے سے پہلے اور دوسری بار رات سونے سے قبل نرم برش سے تقریباً دو منٹ تک دانت صاف کریں۔
سوال: کیا صرف برش کرنا کافی ہے؟
جواب: نہیں، برش کے ساتھ زبان کی صفائی، روزانہ فلاس کا استعمال اور ڈاکٹر کے مشورے سے ماؤتھ واش بھی ضروری ہے۔
سوال: مسوڑھوں سے خون کیوں آتا ہے؟
جواب: عموماً دانتوں پر میل (Plaque)، ٹارٹر، مسوڑھوں کی سوزش یا صفائی میں کوتاہی اس کی وجہ بنتی ہے۔ اگر خون آنا مسلسل جاری رہے تو فوری ڈینٹل معائنہ کروانا چاہیے۔

سوال: دانت یا داڑھ میں درد کی عام وجوہات کیا ہیں؟
جواب: دانتوں میں کیڑا لگنا، انفیکشن، مسوڑھوں کی بیماری، عقل داڑھ کے مسائل یا دانت میں دراڑ درد کا سبب بن سکتے ہیں۔ صرف درد کش دوا استعمال کرنے سے وقتی آرام ملتا ہے، اصل علاج ضروری ہوتا ہے۔

سوال: اگر درد خود بخود ختم ہو جائے تو کیا علاج ضروری ہے؟
جواب: جی ہاں، درد ختم ہونے کے باوجود انفیکشن اندر ہی اندر بڑھ سکتا ہے، اس لیے بروقت علاج انتہائی ضروری ہے۔

سوال: بچوں کے دانتوں کی دیکھ بھال کب سے شروع کرنی چاہیے؟
جواب: پہلے دانت کے نکلتے ہی صفائی شروع کر دینی چاہیے۔ ابتدا میں نرم کپڑے یا بچوں کے نرم برش سے صفائی کریں، جبکہ دو سال کی عمر کے بعد مناسب مقدار میں فلورائیڈ ٹوتھ پیسٹ استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سوال: خواتین کے لیے کیا مشورہ دیں گے؟
جواب: حمل کے دوران مسوڑھوں کی بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اس لیے منہ کی صفائی اور باقاعدہ ڈینٹل چیک اپ پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔
سوال: کیا موسم دانتوں کی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے؟
جواب: بعض افراد کو سردی یا گرمی میں دانتوں کی حساسیت بڑھ جاتی ہے، تاہم سال بھر مناسب صفائی ہی بہترین تحفظ ہے۔
سوال: کون سی غذائیں دانتوں کے لیے مفید ہیں؟
جواب: دودھ، دہی، پنیر، سبز پتوں والی سبزیاں، تازہ پھل اور مناسب مقدار میں پانی دانتوں اور مسوڑھوں کو مضبوط رکھتے ہیں۔
سوال: کن چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے؟
جواب: زیادہ میٹھی اشیاء، کولڈ ڈرنکس، تمباکو، گٹکا، پان مصالحہ اور سگریٹ نوشی سے حتی الامکان اجتناب کریں کیونکہ یہ دانتوں اور مسوڑھوں کی بیماریوں کا بڑا سبب ہیں۔

سوال: منہ کی بدبو کی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟
جواب: روزانہ دو مرتبہ برش کریں، زبان صاف رکھیں، زیادہ پانی پئیں اور اگر بدبو برقرار رہے تو فوراً ڈینٹسٹ سے رجوع کریں کیونکہ یہ مسوڑھوں یا دانتوں کی بیماری کی علامت ہو سکتی ہے۔

سوال: کتنے عرصے بعد ڈینٹسٹ سے معائنہ کروانا چاہیے؟
جواب: ہر فرد کو ہر چھ ماہ بعد ایک مرتبہ ڈینٹل چیک اپ ضرور کروانا چاہیے، چاہے کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔
آخر میں عوام کے نام پیغام
ڈاکٹر محمد سمیع الدین نے کہا کہ صحت مند دانت اللہ کی ایک بڑی نعمت ہیں۔ روزانہ دو مرتبہ برش کریں، متوازن غذا اختیار کریں، تمباکو نوشی اور نشہ آور اشیاء سے دور رہیں، اور دانتوں یا مسوڑھوں کی کسی بھی تکلیف کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔ بروقت تشخیص اور علاج سے نہ صرف سنگین بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے بلکہ زندگی بھر خوبصورت اور صحت مند مسکراہٹ بھی برقرار رکھی جا سکتی ہے۔
رپورٹ: تلنگانہ وائس، عادل آباد

