ریئل اسٹیٹ سرمایہ کاری کے نام پر کروڑوں کا فراڈ، دو گرفتار
16 افراد سے تقریباً 13.31 کروڑ روپے وصول کرنے کا انکشاف، ایک ملزم فرار — دو گاڑیاں اور اراضی کے دستاویزات ضبط ۔ ضلع ایس پی کی پریس کانفرنس
عادل آباد، 12 /ستمبر(تلنگانہ وائس) ریئل اسٹیٹ کے کاروبار میں سرمایہ کاری کرنے پر بھاری منافع کا لالچ دے کر عوام سے کروڑوں روپے وصول کرتے ہوئے مبینہ دھوکہ دہی کے معاملے میں عادل آباد پولیس نے دو اہم ملزمین کو گرفتار کرکے عدالتی تحویل میں بھیج دیا۔ ایک اور ملزم فرار بتایا گیا ہے۔
Advertising

ضلع ایس پی اکھل مہاجن، آئی پی ایس نے ون ٹاون میں منعقدہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ 9 ستمبر 2026 کو شانتی نگر کے سائی پروین کمار کی شکایت پر دھوکہ دہی کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کی گئی تھیں۔ شکایت کے مطابق ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کے نام پر مرحلہ وار بینک کھاتوں کے ذریعے 1.40 کروڑ روپے اور مزید 30 لاکھ روپے نقد وصول کئے گئے۔ کچھ رقم منافع کے طور پر واپس کرنے کے بعد باقی رقم کی ادائیگی میں ٹال مٹول کی گئی، جس پر شکایت درج کرائی گئی۔
Advertising

تحقیقات کے دوران گرفتار ملزم بنداری راکیش (30) سے پوچھ گچھ کی گئی، جس میں پولیس کے مطابق انکشاف ہوا کہ اس نے کنتوار اچیوت ریڈی (53) کے ساتھ مل کر آسانی سے رقم کمانے کے مقصد سے ریئل اسٹیٹ سرمایہ کاری کے نام پر لوگوں کو راغب کرنے اور ان سے رقم وصول کرنے کی سازش کی تھی۔
Advertising

ایس پی نے بتایا کہ ملزمین نے اپنے جاننے والے افراد کو ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری پر بھاری منافع کا یقین دلاتے ہوئے PhonePe، Google Pay، بینک کھاتوں اور نقد رقم کے ذریعے رقوم وصول کیں۔ اب تک 16 افراد اور دیگر لوگوں سے تقریباً 13.31 کروڑ روپے وصول کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ تاہم پولیس نے واضح کیا کہ یہ رقم فی الحال ملزم کی پوچھ گچھ میں سامنے آنے والے 16 افراد سے متعلق اعداد و شمار کی بنیاد پر ہے اور مزید تحقیقات میں مالی لین دین کی تصدیق کی جائے گی۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ راکیش نے اپنے اور اپنی اہلیہ کے بینک کھاتوں سے کنتوار اچیوت ریڈی اور اس کے خاندان کے افراد سے متعلق مختلف بینک کھاتوں میں رقم منتقل کی۔ ان بینک لین دین اور کھاتوں کی تفصیلات کی پولیس مزید جانچ کررہی ہے۔
11 ستمبر 2026 کو مصدقہ اطلاع کی بنیاد پر پولیس نے سی سی آئی کراس روڈ کے قریب بنداری راکیش اور کنتوار اچیوت ریڈی کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی۔ اہم معلومات سامنے آنے کے بعد دونوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ تیسرا ملزم کنتوار چندرکانت ریڈی فرار ہے اور پولیس اس کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہے۔
پولیس نے ملزمین کے قبضے سے دو گاڑیاں، ایک فارچیونر اور ایک تھار ضبط کی ہیں۔ اس کے علاوہ شہر میں موجود قیمتی پلاٹس اور اراضی سے متعلق دستاویزات بھی ضبط کئے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق ضبط شدہ سامان اور دستاویزات عدالت میں پیش کئے جائیں گے۔
ایس پی اکھل مہاجن نے عوام کو مشورہ دیا کہ بھاری منافع کا لالچ دینے والے افراد کی باتوں پر یقین کرکے بڑی رقومات سرمایہ کاری نہ کریں۔ کسی بھی سرمایہ کاری سے قبل متعلقہ اداروں، افراد اور مالی لین دین کی مکمل جانچ پڑتال کریں۔ مشتبہ مالی لین دین یا دھوکہ دہی کا شبہ ہونے پر فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں۔

